راجا بازار کے لونڈے لپاڑے اور ہوس کے بھوکے مرد

maheen usmaniماہین عثمانی

آسکر جیتنے کے قابل سکرپٹ  کے ذریعے فرعون زمانہ ہاروے وین سٹین کو آسمان سے زمین پر اتار لیا گیا ہے۔ وینسٹائن  نے اپنے اثرو رسوخ سے نئے آنے والی  اداکاراوں اور ملازمہ خواتین کو اپنی ہوس کا شکار بنایا ۔ ایک باتھ روب، ایک تیل کی بوتل  اور مساج  سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کے ارادے کیا ہوتے تھے۔ جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتی رہیں ان کو ترقیاں اور شہرت کی بلندیاں ملیں اور جنہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ان کو ہالی وڈ میں ٹھہرنا ناممکن لگا۔

لیکن  کیا یہ صرف شو بز ہے  جہاں لوگ اپنی مرضی سے کسی کو ہراساں کر سکتے ہیں ؟ ایک وائیرل  ہیش ٹیگ  "می ٹو " دکھاتا ہے کہ اس لعنت کی وبا کتنی پھیلی ہوئی ہے۔  جہاں جنسی حراساں کرنے کی کہا نیاں  سامنے آتی ہیں وہاں معلوم ہوتا ہے کہ    افریقہ ، یورپ  اور ساؤتھ  ایشیاء میں ایک جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

جب چندی گڑھ میں  پارٹی سے واپسی پر ورنیکا کندو کو حراساں کیا گیا تو انہوں نے پولیس کو بلایا اور  رپورٹ درج کروائی۔ چلاکی! اچھا؟ او، نہیں۔ بجائے ہوس کے بھوکے مردوں کو سوال کرنے کے سب سے پہلا سوال ورنیکا سے پوچھا گیا کہ رات گئے وہ باہر کر کیا رہی تھیں۔ بارڈر کے پار ایک روایتی پاکستانی کا  رد عمل  قابل دید تھا انہوں نے غصے سےناک پھلاتے ہوئے کہا::" کیا بکواس ہے! اسے اتنی رات کوانہیں  باہر نہیں ہونا چاہیے تھا۔" کیوں نہیں؟ کیا آپ اسے الزام دے رہے ہیں؟ وہ تو اپنے گھر جا رہی تھیں۔ یہ مرد تھے جنہوں نے اس خاتون کو پیچھا کیا۔ کیا آپ آدھی رات کو ڈرائیو کریں گی؟ واقعی؟ انہوں نے غلطی کی ۔ آپ کو نہیں پتہ کہ بر صغیر کے مرد  کیسے ہوتے ہیں؟ وہ جانور جیسے ہیں!"

یہ توجانوروں کی بے عزتی ہو گئی، لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس طرح قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔  شکار ہی مجرم بن جاتا ہے۔ یہ کچھ امثال ہیں:

یونیورسٹی کے کچھ لڑکے آپ کا پیچھا کرتے ہیں قریبی لائبریری  کے میز بیٹھ کر چھیڑتے ہیں اور لائیبریرین کو شکایت لگانے تک آپ کو گھورتے ہیں اور لائیبریرین  نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کا انداز کہتا ہے لڑکے لڑکے ہی رہیں گے تم اتنا کیوں تلملا رہی ہو۔

وہ پروفیسرز جو آپ کو آفس میں  وہ نوٹس دینے کے لیے بلاتے ہیں جو آپ نے چھوڑ دیے تھے  ۔ اور کلاس کے شاگرد آپ کو مطلع کرتے ہیں کہ نوٹس دینے سے قبل یہ پروفیسر صاحب دروازہ بند کرنا پسند کرتے ہیں ۔ آپ جلدی سے نکل آتے ہو تو پروفیسر صرف  نوٹس سے محروم نہیں کرتے بلکہ نمبر بھی کم دیتے ہیں اور وہ آپ کو  گھورتے ہیں ۔ کیا یہ آپ کا قصور ہے۔

راول پنڈی کے راجہ بازار میں  ایک اسائنمنٹ کے لیے  آپ سڑک کنارے کھڑی ہیں۔ واہیات  لڑکے آپ کو    گھورئیں گے،  سیٹیاں ماریں گے، دباؤ ڈالیں گے  اور زور آزمائی  کریں گے  ، آدمی  تب اکٹھے ہونگے جب تک آپ اپنے ہینڈ بیگ میں سکڑ نہیں جاتیں۔آپ کا جرم؟ آخر کار آپ ایک دکان میں پناہ لیں گی۔ سانسیں بہال کرنے کی کوشش کریں گی اور کانپتی ٹانگوں کے ساتھ اپنی گاڑی  تک بھاگیں گی۔ آپ بھاگنے والوں میں سے نہیں پر آپ کے پاس اور کیا حل ہے؟ جب آپ کہیں گی کی اس اسائنمنٹ کے پورا نہ ہونے کی وجہ  ہراساں کیے جانے کا واقعہ ہے تو وہاں موجود مرد اور عورتیں  پوچھیں گی کہ:"آپ نے کیا پہنا تھا  ؟ ڈھیلی شلوار قمیص؟ پورے بازو؟ کیا آپ کے سر پر دوپٹہ تھا؟  

آپ سر ہلاتی رہو گی لیکن پھر بھی ایسا کیوں لگے گا کی قصور آپ کا ہی تھا؟ شکاری بہت سارے بھیس میں ہو  سکتے ہیں۔  یہ  لیب کمپاؤنڈر  بھی ہو سکتا ہے جو آپ کے خون کا سیمپل لیتے ہوئے بھی آپ کو ہراساں کرتا ہے جب کہ آپ کی ماں آپ کے قریبی بیٹھی ہوں ۔ آپ  کے بازو میں سوئی لگی ہے اور وہ آپ کو برے انداز سے چھو رہا ہے۔ آپ اپنا بازو  جھٹکا بھی نہیں سکتی اور چیخ بھی نہیں سکتی۔ اور اسے یہ پتہ ہے۔ اور پھر آپ ہی کیوں شرمندہ اور گھبرائی ہوئی ہیں؟

یہ آپ کا تسبیح پڑھنے والا باس بھی ہو سکتا ہے  جس نے بہت سی خواتین کو سٹار بنایا ہے اور اس نے آفس کے قریب ہی  ہفتے کے آخر میں ملاقاتوں کے لیے ایک کرایے پر مکان لیا  ہواہے ۔ وہ آپ کو پرائیوٹ نمبر سے فون کرتا ہے اور آپ کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے رشتہ قائم کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔ آپ انکار کرتی ہو اور وہ آپ کو مجبور کرتا ہے۔ آپ  پیچھے ہٹتی ہو تو وہ آپ کی زندگی جہنم بنا دیتا ہے آپ اس کا پردہ  فاش کرتی ہو۔ یہی وین سٹین کی کہانی ہے۔

ایک صاف گو اور اصولی عورت  بارود جیسی ہوتی ہے۔اس کی  ساتھی عورتیں کہتی ہیں:تو کیا ہوا اگر تم نے اس سے بات کر لی  ، لمبی ڈرائیو پر چلی گئی ،کوئی تحائف لے لیے  یا آفس سے باہر ملاقات کر لی ؟ وہ ٹائیکون ہے یار ! اکیلا ہو گا بیچارہ۔ تم اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہو لڑکی!؟ اور آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ اگر وہ آپ کی جگہ ہوتیں تو کیا کرتیں۔  وہ اپنی حدود پار کرتا ہے ، آپ کا کیریر تباہ کرتا ہے، آپ کے بارے میں غلط باتیں پھیلاتا ہے لیکن وہ ہی شکار کہلاتا ہے۔  وہ اس کھیل میں آپ کا دوست ہوتا ہے جس کے ہاتھ اندھیرے میں آپ  کے آس پاس گھومتے ہیں۔ آپ ایک بار، دو با ر، تین بار روکتے ہو  آخر کار آپ اپنا ہینڈ بیگ اپنے اور اس کے ہاتھ کے بیچ  اٹکا دیتے ہو تو وہ آپ کو خاموشی سے ٹریٹ کرتا ہے جیسے وہ نہیں آپ  غلطی پر تھی۔آپ کے لیے کوئی چھوٹ نہیں۔ اس سے یہ اٹھتا ہے کہ کب  مرد کو غلط قرار دیا جائے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *