ادب کا نوبل انعام

asghar nadeem syed.اصغر ندیم سید
ہمارے کچھ ادب دان انگریزی شناس ہر سال ادب کے نوبل انعام کا بے تابی سے انتظار کرتے ہیں ۔ اُن میں کچھ ایسے ناول نگار اور افسانہ نگار بھی ہیں جو معجزے کے انتظار میں اس انعام کے حقدار ہونے کی اندر سے شدید خواہش بھی رکھتے ہیں ۔اور جب اعلان ہوتا ہے تو وہ مایوس ہوکر اگلے سال کا انتظار کرنے لگتے ہیں اور جسے یہ انعام ملا ہوتا ہے ۔اُس میں کیڑے نکالنے کا باقاعدہ اہتما م کرتے ہیں ۔اس چکر میں آج سے بہت پہلے ڈاکٹر وزیر آغا کے مداحوں نے تو باقاعدہ اُن کے کام کے تراجم بھی کرائے جبکہ وزیر آغا صاحب شاید اس کی خواہش سے آزاد تھے ۔ بے شک وہ آزاد مرد تھے ۔میں ان کے قریب رہا ہوں وہ بے حد اعلیٰ انسان تھے ۔پھر ہمارے پنجابی کے ناول نگار اور دوست فخرزمان نے تو خود اقرار کیا ہے ان کا نام ہر سال لسٹ میں آتا ہے ۔ بس وہ بال با ل اس انعام سے بچ جاتے ہیں ۔اس ضمن میں ان کے تخلیقی کام کے انگریزی اور سو ئدش زبانوں میں ترجمے بھی ہوچکے ہیں ۔ میں ان سے نیاز مندی رکھتا ہوں ۔ان کی یہ خواہش بجا طور پر قابلِ احترام ہے اور میں دُ عا گو ہوں کہ کا ش اتنی بڑی زبان پر نوبل انعام کی کمیٹی کی نگاہ پڑ جائے ۔جس زبان میں شاہ حسین -بابا بلھے شاہ -وارث شاہ -حضرت میاں میر جیسے صوفیا نے عظیم شاعری کی ۔ اُ س پنجابی زبان کے ایک سیوک یا خدمت گزار کو اس روایت میں لکھنے کا صلہ مل جائے ۔ اس کے علاوہ میر ے نالج میں ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے کچھ ناول نگاروں نے اپنے ناولوں کے نا صرف ترجمے کرا رکھے ہیں بلکہ قراۃالعین حیدر اور عبداللہ حسن کی طرح اپنے ناولوں کے خود سے انگریزی میں ترجمے کرنے کا بھی شوق پورا کرچکے ہیں ۔ ان کے لئے دُعا گوہوں ۔ میں بڑی دیانت داری سے ان کے ناولوں کا تو مداح ہوں مگر ان کی انگریزی کا مداح نہیں ہوں ۔اب اگر وہ خود نوبل انعام اور اپنے بیچ اپنے کئے ترجمے کی وجہ سے حائل ہوجائیں تو میں کر سکتا ہوں ۔
ہمارے کچھ ایسے انگریزی دان دوست بھی ہیں جو ادب کے نوبل انعام پر سٹہ بھی کھیلتے ہیں کہ یہ اس سال کس کو میل گا ۔ وہ دور دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ ایک ناول کسی نے میکسیکو میں لکھا ہے جس میں انسانوں کی کلوننگ پر زبردست ناول لکھا گیا ہے اور یہ انعام انہیں ملے گا ۔اسی طرح ایک دانش مند نے اندازہ لگایا کہ اس سال یہ انعام فرانس کے ایسے ادیب کو ملے گا جس نے روس میں جنم لیا پھر وہ امریکہ کے ساحلوں پر چلا گیا۔پھر وہ مصر میں آگیا۔اور پھر وہ جرمنی میں رہا ۔اور اس طرح وہ ترکی سے واپس فرانس پہنچ گیا۔یہ سب اُ س کے ایک ناول میں ہے ۔ ہمارے اُ س دانش مند نے گویا آج کے جدید ناول لکھنے کا فارمولا ہی ہمیں بتا دیا ہے ۔ اس پر کوئی بھی عمل کرسکتا ہے ۔
اب اس سال کسے نوبل انعام ملا ہے ۔ یہ ہم بتا دیتے ہیں ۔ ہم نے تواُس کے ناول نہ صرف پڑھ رکھے تھے ۔ بلکہ اُن کے دو ناولوں پر ہالی ووڈ نے آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں بنا رکھی ہیں ۔ اب اس پر بعد میں بحث کریں گے کہ بڑے ناول نگار اپنے ناولوں پر فلمیں بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ۔ قراۃ العین نے آگ کا دریا یا اپنے دوسرے ناولوں پر فلم بنانے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اس سال کا ادب کا نوبل انعام بظاہر تو برطانیہ کے ناول نگار کا زوایشی گوروکو اُن کی ناول نگاری پر ملا ہے ۔ لیکن کیا یہ صرف برطانیہ کا اعزاز ہے ۔ نہیں یہ جاپان کا اعزاز بھی ہے ۔ جب میں اوسا کا یو نیورسٹی جاپان کی دعوت پر وہاں گیا تو ہمارے دوست سویا مانے کے ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر انوار احمد کے دفتر پہنچے تو مجھے اور میری بیگم کو کتابوں کا تحفہ ملا ۔اُ ن میں دوناول تھے ۔ ناول نگار کا نام تھا کازوایشی گورو ناول کے نام تھے The Remains of the dayاورNever Let me go۔وہ دونوں ناول دیتے ہوئے سویا ما نے کہا اصغر صاحب یہ دونوں ناول ضرور پڑھنا یہ جاپان کے بڑے ناول نگار ہیں ۔ اب جب اس سال کا نوبل انعام کا زوایشی گورو کو ملا تو میں نے نیوز بولیٹن سُنے ۔ سب نے اس ادیب کو برطانیہ کا ادیب بتا یا ۔ اچھی بات ہے ۔ اچھی بات ہے ۔ مجھے سویاما کی بات یاد آئی ۔ تو میں نے اس ناول نگار کا شجرہ نسب نکالا تو صاحبو اب جو حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ یہ نوبل انعام آدھا جاپان کا ہے آدھا انگلستان کا ہے ۔ وہ ایسے کہ کازوایشی گورو کے والد صاحب دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی طرف سے جاپان میں کہیں جرنیل تھے ۔ اور ایسے میں انہوں نے جاپانی لڑکی کو پسند کیا ۔ کیسے اور کیوں؟ یہ الگ ناول کا موضوع ہے ۔ تو شادی ہوگئی گورے برطانوی کی جاپانی لڑکی سے ۔ بیٹا پیدا ہو تو ماں نے کہا نام رکھوں گی تو جاپانی ۔ باپ مان گیا ۔ اس لیے نام رکھا گیا جاپانی کا زوایشی گورو جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو خاندان انگلستان منتقل ہوگیا ۔ ننھے منے سے کازوایشی گورو نے تعلیم انگلستا ن میں پائی اور ایسا موقع کس بچے کے نصیب میں ہو تا ہے کہ اُس نے لندن کی یونیورسٹیوں سے انگریزی اور فلسفے میں تعلیم پائی ۔ کہتے ہیں ان دو مضامین کا امتزاج بہت بڑی تخلیق کا باعث بن سکتا ہے ۔
کازوایشی گورونے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھا اور پڑھایا ۔ اُس کی تصویر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ جاپانی ہے ۔ اس لیے کہ نقش و نگار ماں پر چلے گئے ہیں ۔ اب جہاں تک اُن کے ناولوں کا تعلق ہے ۔ دونوں ناولوں پر فلمیں بن چکی ہیں ۔ جب تک ناول نگار اجازت نہ دے کوئی اس پر فلم نہیں بنا سکتا ۔ اس کا مطلب کازوایشی گورو کو فلمیں بنانے والوں پر بھروسہ تھا کہ وہ جو فلم بنائیں گے وہ اس کے ناول کی ترجمانی کرے گی ۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ دونوں فلمیں ناول کے عین مطابق بنائی گئیں ۔پہلی فلم Remains of the dayکو غالباََ دو آسکر ایوارڈ ملے ۔ ایک بہترین اداکار انتھونی ہاپکز کے حصے میں آیا ۔ یہ ایک بڑے خاندان کے بٹلر کی کہانی ہے ۔جو خاموشی سے ایک جہانِ معنی دیکھتا رہتا ہے ۔ دوسرے ناول Never Let me goپر بنی ہے ۔ اگرچہ اس کے ساتھ مارکیز کے مشہور ناول Love in Time of choleraپر بھی فلم بن چکی ہے اور وہ بھی ناول سے انصاف کرتی ہے ۔ ادھر اپنے ہاں بھی دو تجربے ہوئے ہیں ۔ بیپسی سدھوا کے ناول Ice candy manپر انڈیا کی دیپا مہتہ نے فلم ارتھ کے نام سے بنائی ۔ جس میں عامر خان نے یہ رول کیا ۔ اتفاق سے یہ چونکہ لاہور کے پس منظر میں تھا اور وارث روڈ کا علاقہ اس میں تھا تو دیپا مہتہ لاہور مجھ سے ملنے آئیں اور سکرپٹ مجھے دیا کہ میں عامر خان کے مکالمے اور دیگر اداروں کے مکالمے کو لاہور کے مطابق ڈھال دوں ۔ میرا نام انہیں جاوید اختر نے دیا تھا۔ہماری بڑی گفتگو ہوئی ۔ لیکن کچھ مناظر کرنے کے بعد مجھے دو ماں کے لیے لندن جانا پڑا تو باقی کام رہ گیا۔
دوسری فلم محسن حامد کے ناول Reluctant Fundamental Listپر میرا نائر نے فلم بنائی فلم نہ چل سکی ۔ میں نے دیکھی ہے ۔ اس میں پرابلم یہ تھا کہ وہ فلم کے میڈیم سے زیادہ ناول کے میڈیم کو سامنے رکھ کر لکھی گئی کہ محسن حامد نے اپنی نگرانی میں سکرپٹ لکھوایا تھا ۔
اس سال کے ادب کے نوبل انعام کے ساتھ ہی ایک بات طے ہوگئی ہے کہ ادب کے زیادہ تر انعام ناول نگاروں اور کہانی کاروں کے حصے میں آتے ہیں ۔ شاعروں کو یہ ایوارڈ کم ملے ہیں ۔ پابلو نرودا /چیسلومی ناش کے علاوہ بھی کچھ نام ہیں ۔اور پچھلے سال تو ایک گیت نگار نے یہ ایوارڈ اینٹھ لیا تھا ۔ سو صاحبو اگر نوبل انعام لینا ہے تو ناول لکھو اور پھر اس کا ترجمہ کرواور کراؤپھر بھی انعام نہ ملے تو ہمارا ذمہ دوش پوش ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *