شہباز نے اختلافات منظرِعام کیوں کئیے؟

فہد حسینfahad hussain

جو گھر نواز شریف نے بنایا وہ ترتیب میں نہیں ہے۔ کیا PML-N نواز شریف سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ہنگامی صورت حال کی گھنٹیاں بج رہی ہیں جیسے کسی ایمبولینس کی لائٹ   چلتی نظر آتی ہے۔ شاندار چائے کی دعوت پر  مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ نواز کی میٹنگ  نے میڈیا کو پاگل کر دیا۔ اس میٹنگ کے بارے میں اندازوں پر مبنی ٹویٹس  نے ملک بھر میں تہلکہ مچائے رکھا اور پھر حمزہ شہباز کے انٹرویو سے صحیح حالات کا معلوم ہوا۔  بہت پر اعتماد طریقے سے کیمرہ کے سامنے حمزہ نے کسی  ابہام  کا اظہار کیے بغیر کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ وہ اور ان کے والد اپنے کزن اور تایہ کو کسی محاذ آرائ سے روک لیں گے۔

یہ شریف خاندان کے بنائے گھر  میں بڑھتے اختلافات کا پہلا سر عام اعتراف تھا۔اور یہ اعتراف  غیر دانستہ نہیں تھا ۔  حمزہ جیسے تجربہ کار سیاست دان کے اتنے  فیصلہ کن ٹائم میں  سرعام اعتراف غیر دانستہ طور پر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ حمزہ کےٹی – وی پر انٹرویو دینے کا باقاعدہ فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ عوام کو مطلع کر دیا جائے کہ وہ  اور ان کے والد نواز شریف  اور مریم کی پالیسی سے متفق نہیں ۔لیکن یہ پیغام تھا کس کے لیے؟؟

فوج کے لیے ؟  عدالتی ہائی کمانڈ  کے لیے ؟ ووٹروں کے لیے ؟  یا ان سب کے علاوہ کسی  کے لیے؟

آپ خود انتخاب کر لیں، لیکن  زیادہ اہم چیز یہ ہے کہ باپ اور بیٹے  نے اس موقعے پر اپنے فیصلے کو عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ چند وجوہات کی بنا پر  لیا گیا ہو گا۔ (ا) احتساب عدالت میں مقدمے کی سماعت کا آغاز  اور نواز شریف ، ان کے بچے اور ان کے داماد کےخلاف فرد جرم عائد کرنے کا واقعہ ۔ (ب)  کیس کا مارچ تک خاتمہ ہونے کے بعد قید یا کسی دوسری سزا کے امکانات (ج)  پارٹی کے لیے منظم سیاسی حکمت عملی کی عدم موجودگی اور نتیجتا  عوام  کے اندر بے اعتمادی   اور الجھن ۔ (د) پارٹی قیادت کےمتعلق اہم فیصلے جیسے  انتخابی حلقہ منتخب کرنے کی پارلیمنٹ میں قانون سازی (جیسا کے بابر ستار نے امنے بہترین کالم میں لکھا)اور الیکشن کے لیے کیمپین  اور پلاننگ(ر)عمران خان کی طرف سے بڑھتا ہوا چیلنج اور  پانامہ فیصلہ کے بعد ان کا بیانیہ جس کا متاثر کن جواب نہیں دیا گیا (س) ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ کی چہ میگوئیاں

شہباز اور حمزہ دونو ں نے   ان بد ترین  حالات کا حساب لگا یا ہو گا  جو کچھ یو ں ہیں:1، نوازشریف اور ان کی فیملی کو مجرم قرار پانا اور انہیں جیل ہونا :2  الیکٹیبل نمائندوں کا پارٹی چھوڑ کر قاف لیگ یا پی ٹی آئی میں چلے جانا یا آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنا ، 3۔   شہباز شریف کو  ایک ٹوٹی اور مورال کھو جانے والی پارٹی کا انچارج بننا ۔4 ، پارٹی کو  الیکشن میں شکست ہونے کا خطرہ، 5۔  شریف فیملی کو ایک غیر متوقع مستقبل کو سامنے رکھ کر  اپنی اس قیادت کو برقرار رکھنے  کا  سامنا کرنا پڑا جو ہر پل ڈوب رہی تھی۔  

پھر نوازشریف اور مریم کا منظر نامہ ہے   جس میں ان کی پالیسی  پارٹی کی حتمی پالیسی بن گئی ہے۔باپ بیٹی نے ملکر پارٹی کے تمام نمائندوں کی حمایت سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ ایسا کرنے کا مقصد نوازشریف کے خلاف  اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی سازش کو لوگوں کے سامنے لانا تھا   اور نواز شریف کو مظلوم بنا کر پیش کرنا تھا تاکہ اس  سسٹم   کو محفوط کیا جا سکے جس کا  وہ حصہ ہیں۔ اس طرح نوازشریف ڈیوڈ  بن گئے جس نے  گولیتھ سے لڑائی کی تھی۔ اگر  وہ جیل چلے جاتے ہیں تو انہیں سیاسی شہید مان لیا جائے گا جو اپنے اصولوں پر کمپرومائز کرنے کی بجائے گرفتاری کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لاجک کے مطابق  اس نظریہ کو الیکشن مہم کے بیانیہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔   نوازشریف کو دیا گیا ووٹ،  جمہوریت کو دیا گیا ووٹ مانا جائے گا اور ان کے مخالف پارٹی  کو دیا گیا ووٹ،   خاص طور پر عمران خان کو دیا گیا ووٹ  ، جمہوریت کےدشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے  دیا گیا ووٹ مانا جائے گا۔  اس طرح پارٹی  برقرا رہے گی اور  الیکٹیبلز اس لڑائی کو  نوازشریف کے شانہ بشانہ  لڑیں گے۔

آخر میں شہباز – حمزہ منطق: 1۔  پانامہ نے نواز شریف اور ان کی فیملی  کی اخلاقی  اتھارٹی کو ختم کر دیا ، 2۔  نواز شریف اور ان کی فیملی کی نا اہلی (حتیٰ کہ فیملی کی کمزور تکنیک  نے ) حکومتی سطح پر ان کا اثرو رسوخ کم کیا   باجود اس کے کہ PM آفس میں ان کے نامزد موجود  ہیں ، 3 ۔  مقدمہ کی سماعت پیسوں کا معاملہ  مزید واضح کرے گی  جس  سے ووٹرز کے سامنے نواز فیملی کی مزید رسوائی  ہو  گی۔، 4 ۔  محاز آرائی کا  راستہ الیکٹیبلز کےلیے فائدہ مند نہیں ہو گا کیونکہ وہ جان لیں گے کہ الیکشن کے وقت اس گرتی ہوئی پارٹی کے ساتھ کھڑا رہنا بہترین چوائس نہیں ہے۔5۔  اسی لیے  اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لینا ضروری ہے کیونکہ یہ عمل  یہ تاثر دے گا کہ پارٹی اب بھی اپنے پاوں پر کھڑی ہے اور کھیلنے کے لیے تیار ہے ۔ 6 پارٹی کو جوڑے رکھنے کےلیے الیکٹیبلز کو مطمئن کرنا کہ شہباز برینڈ اب ملک بھر تک پھیلنے کو تیار ہے ۔ 7۔اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہنے والے سیاستدانوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر صلح کا ماحول پید اکرنا  تا عوام کو باور کرایا جاسکے کہ ن لیگ واحد جڑوں والی پارٹی ہے جوسیاست میں باقی رہ کر ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیتی ہے۔ 8۔ شہباز شریف  اور ان کی لیگ اب راک اینڈ رول کے لیے تیار ہے۔

کیا یہ ممکن ہے ؟  یہ باپ اور بیٹے کے  ٹھیک سے سمجھنے اور صحیح اندازہ لگانے پر منحصر ہے۔یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ کیا یہ  ایک ہی راستہ ہے  جس میں ناکامی کے بعد صرف مریم اور نواز والی پالیسی پر عمل پیرا ہونا مجبوری بن جائے گی؟

شریف  کے بنائے ہوئے گھر میں ابھی بھی بہت سے کارڈز موجود ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *