مریم نواز کی عدالت میں پیشی کا آنکھوں دیکھا حال

ملک اسدmalik asad

" السلام اعلیکم۔ السلام  علیکم۔ السلام  علیکم۔" مریم نواز نے عدالت میں داخل ہوتے ہی جج، وکلا اور میڈیا کے نمائندوں سے  کہا، جو ان کی پہلی فرد پر آئے تھے ۔

2013 کے جنرل الیکشن    میں ان کے والد کی پارٹی کے وجود میں آنے  کے وقت سے ہی وہ خبروں میں موجود رہتی ہیں ۔  اور  جب  نواز شریف نے الیکشن کی جیت کا اعلان کیاتھا اور مریم  ان کے ساتھ کھڑی تھیں تو انہیں اندازہ بھی نہیں تھا  کہ چار سال بعد انہیں کرپشن کے الزام میں یوں عدالتوں میں رسوا ہونا پڑے گا۔  ان کے پہنچنے سے کچھ منٹ پہلے ، جج محمد بشیر نے ڈاکٹر آصف کرمانی جنہوں نے اپنے باس کی بیٹی کے لیے سیٹ ریزرو کروا رکھی تھی سے  ملزموں کے بارے میں پوچھا تھا ۔

مسٹر کرمانی نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن  اٹھ کر ایک فون کرنے باہر  چلے گئے، اور کچھ منٹ بعد آ کر جج کو بتایا کی مریم اور ان کے شوہر راستے میں ہیں۔  جب 8:30 پر وہ عدالت میں داخل ہوئیں تو  ان کی سیٹ پہلے ہی  پہلی قطار میں مقرر تھی ۔ جیسے ہی وہ بیٹھیں، مسٹر کرمانی اور طارق فاطمی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ex-PMکے سابق مشیر   جن کو  ڈان اخبار کی کہانی کے مطابق سازش میں مبینہ کردار کی وجہ سے  گھر بھیج دیا گیا تھا   اپنے  آپ پر لگے الزام پر زیادہ چوکس لگ رہے تھے ۔اتنے  محتاط کہ جب ان کے کندھے پر مکھی بیٹھی تو انہوں نے اپنے لیدر   کی جلد  سے  مارا تو مریم نواز فورا اٹھ کھڑی ہویئں ۔ جب فاطمی نے وضاحت کی تو وہ پھر سے  بیٹھ گئیں۔  یہ ان کی احتساب عدالت  میں تیسری  پیشی تھی۔سماعت 26  ستمبر   سے شروع  ہوئی تھی،  مریم اور کیپٹن صفدر  نے اکٹھے 9 اکتوبر کو  عدالت میں پیش ہوئے۔  اس دن ، وہ اور ان کے شوہر لندن سے کچھ ہی گھنٹوں پہلے پرواز کر کے عدالت میں پیش ہوئے تھے  ۔ کیپٹن صفدر کو ائر پورٹ پر پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس سنوائی میں، مریم بہت نمایا ں طور پر پریشان  نظر آ رہی تھیں  اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔  لیکن آج وہ زیادو پر اعتماد اور پر وقار خاتون بن چکی ہیں۔ ایک ہاتھ میں ڈیجیٹل تسبیح اور زبان پر دعاؤں کے ساتھ وہ پر تجسس انداز میں  کاروائی ایسے  سن رہیں تھیں جیسے پہلی بار کسی کا عدالت اور وکیلوں سے  پالا پڑا ہو۔اس موقع پر عدالت  میں رش بھی زیادہ نہیں تھا کیوں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز PML-N کے وکلا نے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عدالتی کاروائی کے بیچ  وقفوں میں صحافیوں کو سابق پرایم منسٹر کی بیٹی سے بات چیت  کا موقع بھی ملا۔ایک موقع پر ، جب مطیع  اللہ  جان اکٹھے کھڑے تھے  وہ ہماری طرف آئیں اور مطیع کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں: "میں تمہیں  جانتی ہوں ، لیکن میری تمہارے دوست سےجان  پہچان نہیں ہوئی۔  " میرے دوست نے مجھے متعارف کروایا:"یہ ڈان اخبار سے ہیں؟" :انہوں نے پوچھا ۔ ۔ مطیع نے طنزیہ کہا۔" یہ اصل ڈون  ہیں " لیکن میڈیا کی  چینی سرگوشی گیم نے یہ  اس بات کو نئے معنی دے دیے اور یوں بنا دیا : "مریم نواز نے کہا ہے کہ میڈیا والے اصل ڈان ہوتے  ہیں۔" اور وٹس آیپ، ٹی – وی سکرینز غرض ہر جگہ یہ بات منٹوں میں پھیل گئی۔  واپس عدالت میں  مریم نواز کو اپنے ذرائع سے اور کچھ منٹ بعد فون پر سکرین شارٹس ملے  ،  انہوں نے برہم ،  ایک قریب بیٹھے ٹی – وی رپورٹر سے پوچھا کہ:" میں نے ایسا کب کہا ہے ؟۔" صحافی کو کوئی معقول جواب نہ سوجا اور اس نے معافی طلب کی۔

عدالتی کمرےمیں میڈیا  سے بات کرتے ہوئے  مریم نے رپورٹرز کو آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ  شریف واحد فیملی ہیں جو عدالت کا سامنا کرنےپر رضا مند ہوئے  یہ جاننے  کے باوجود کہ انصاف  ملنا مشکل ہے۔  انہوں نے یہ الفاظ "سسلین مافیا"بار بار دہرائےجو سپریم کورٹ کے جج نے  حکمران خاندان کی وضاحت  میں کہے تھے  جو واقعی مٰں بہت توجہ حاصل کرنے والے الفاظ بن چکے تھے ۔ انہوں نے رپورٹرز سے پوچھا:"کیا آپ نے کبھی کسی سسلین ما فیا کو الزام لگنے پر عدالت میں حاضری دیتے دیکھا ہے؟" لیکن جب  عدالت نوازشریف  اور کیپٹن صفدر کے خلاف مختلف  درخواستوں پر  دلائل سن رہی تھی تب وہ اپنی کاپی میں کچھ لکھنے میں مصروف تھیں۔

ان کے  لکھنے کا مقصد تب سمجھ آیا   جب احتساب عدالت  جج نے انہیں  بلایا۔ جج نے ان کے خلاف الزامات پڑھے  جن میں ایون فیلڈ ہاؤس پراپرٹی اور جعلی ٹرسٹ ڈیڈ  شامل ہیں۔  لیکن مریم  پر  اعتماد  ان صفحات کو اونچی آواز میں پڑھنے لگیں جو ان کے وکیل نے انہیں پکڑائے تھے۔ "میں میاں نواز شریف ۔۔۔' انہو ں نے اپنے والد کی چارج شیٹ پڑھنا  شروع کی۔" نہیں نہیں یہ  غلط ہے،"جج نے مداخلت کی لیکن مریم  پڑھتی رہیں، تب جج نے کونسل کو غلطی درست کرنے کا کہا"آپ نے انہیں غلط صفحے پکڑا دیے ہیں۔ " اس رکاوٹ سے غصہ ہو کر  انہوں نے خود ہی اپنی صفائی میں بولا کہ:" جج صاحب  میں ان   بد نیتی پر مبنی الزامات کو نہیں مانتی۔ "انہوں نے  درخواست کی کہ وہ مجرم نہیں ہیں ۔ مریم نواز  پر کرپشن کیس میں فرد جرم  عائد کر دی گئی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *