ریکو ڈک کے سونے کو کو پاکستان کے مفاد میں استعمال کیا جائے

شاہین صہبائی
shaheen sehbaiبشکریہ: ڈیلی ٹائمز
کافی ساری میڈیا رپورٹس اور کچھ سیاسی ساتھیوں کا یہ کہنا ہے کہ IPPSکے کیس میں 700ملین ڈالر کے جرمانے کے بعداب پاکستان کو ریکو ڈیک کے کیس میں بھی ایک بڑے جرمانے کا سامنا ہے۔
میں نے کچھ سال پہلے اس ٹاپک پر رپورٹنگ شروع کی تھی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس کا فوراََ سو موٹو نوٹس لے لیا تھا، مگر اب بھی میرے کچھ روابط باقی ہیں جو مجھے خبریں دیتے رہتے ہیں۔
کسی بھی عام شہری کو ICSID، جو ورلڈ بنک کی ثالثی عدالت ہے ، میں پاکستان کی حالت کافی خراب نظر آئے گی ۔ لیکن حالت اتنی بھی خراب نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم canadian-chilean شراکت داری کیس ہار گئے ہیں جس کا جرمانہ 2018میں ہم پر لاگو کیا جائے گا، لیکن جو ابھی ہمارے معاشی حالات ہیں ان میں اس جرمانے سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس وقت مارکیٹ میں بہترین مواقع اور کئی اچھے بولی لگانے والے موجود ہیں اور ایسے وقت میں کیس کے فیصلے نے ہمیں ایک موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اس بڑے اثاثے کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں۔چند سالوں میں سونے کی قیمت میں مزید اضافے کاامکان ہے۔
اچھی بات تو یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی شراکت داری کا حصّہ بننے سے بچ گیا جو پاکستان کے سب سے بڑے معدنی ذخیرے کو کوڑیوں کے بھاؤ حاصل کر لیتا اور اس کو نوچ کھاتا۔ظاہر ہے اس میں سیاسی گٹھ جوڑ بھی شامل تھا لیکن اب اس کے بارے میں بات کرنے کاکوئی فائدہ نہیں۔ ہماری مٹی میں چھپے خزانے کو تب تک ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا جب تک ہم خود اسکو آف شور اکاؤنٹ میں نہیں پھینک دیتے۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو 2018میں جرمانہ ڈالا جائے گا اور کچھ پارٹیاں شور مچا رہی ہیں کہ یہ جرمانہ کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے کیونکہ ڈیمانڈ11.5کھرب کی آئی ہے۔
میں نے اس کیس سے ملتے جلتے کیسز میں ہونیوالے جرمانے کی گوگل پر کھوج لگانے کی کوشش کی تو مجھے پتہ چلا کہ بین الاقوامی ثالثیوں کی طرف سے پچھلے گیارہ سال میں جو سب سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے وہ ہے 1.77کھرب کا اورمجموعی طور پر جرمانہ 50ارب ڈالر تک کا ہی تھا۔پاکستان جس درجے میں آتا ہے اُس میں تو زیادہ سے زیادہ جرمانہ 350ارب سے لے کر500ارب کا ہو سکتا ہے۔
اکتوبر2012میںICSIDنے ایکواڈور کو1.77کھرب کا جرمانہ ڈالا تھا اور اسی ملک کو اس سال کے شروع میں380ارب کا جرمانہ ڈالا گیا ہے۔
ویسے تو یہ ایک بڑی رقم ہے لیکن اگر ہم ریکوڈیک کے مکمل مالیت پر نظر ڈالیں تو یہ جرمانہ چند سکے ہی بنتا اور اگرہمیں اچھے خریدار مل جائیں تو پھر تو یہ نقصان آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔خوشخبری یہ ہے کہ اس وقت پاکستان بہتر سے بہترین بولی لگانے والے ڈھونڈ سکتا ہے اور اپنی شرطوں پر اُن سے معاہدہ بھی کر سکتا ہے۔
پریشانی کی بات یہ تھی کہ کہیں پاکستان گھبراہٹ میں اپنے اتنے بڑے خزانے سے ہاتھ نا دھو بیٹھے ۔ شکر ہے کہ اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان آرمی نے خود اس پورے معاملے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
جس بات نے سب کی آنکھیں کھولیں وہ تھی روزنامہ کراچی بزنس میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان سی پیک کے ماتحت 50صنعتی پارکس اور منرل پراسسنگ زون بنانا چاہتے ہے جن میں سے27کو اسپیشل اکنامک زون کا درجہ حاصل ہوگا اور یہ سارے پلانٹس بلوچستان میں لگائے جائیں گے۔
ان کے لئے جن جگہوں کا انتخاب کیا گیا ان میں خضدار، چاغی، قلعہ سیف اللہ، سندک، ریکو ڈیک، کلات، لسبیلا، گوادر اور مسلم باغ شامل ہیں۔
ایک بین الاقوامی ماہر کے مطابق لندن میٹل ایکسچینج میں اس وقت ریکو ڈیک کی صرف زمین کی قیمت230کھرب ڈالر بنتی ہے۔جبکہ وصولی کے بعد اس کی قیمت 184کھرب ڈالر جبکہ سالانہ قومی آمدنی100کھرب ڈالر بنتی ہے۔یعنی چالیس سے پچاس سال میں 74کھرب ڈالر کی آپریٹنگ کوسٹ نکال کر بھی 110کھرب ڈالر کا منافع ہو گا۔
یعنی ریکو ڈیک اکیلا ہی ہمیں سی پیک کی تمام مالیت کا دوگنا کما کے دے سکتا ہے۔پھر اسکو تمام پراجیکٹس کے ساتھ ملا کر سی پیک کا حصّہ بنانے میں کس کا فائدہ ہے؟اگر پاکستان سکیورٹی صورتحال کی پوری ذمہ داری لے لیتا ہے تو کئی بہترین کمپنیاں اس کی بولی لگا سکتی ہیں۔
میرے ذرائع کہتے ہیں کہ کئی لوگ تو تیار ہیں جن میں سے ایک نے تو وزیرِ اعظم ، آرمی چیف اور ملک کے اور دس اہم لوگوں کو اس سلسلے میں خط بھی لکھ دیا ہے او ساتھ ساتھ پانچ سال کے لئے 4کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے بھی تیار ہیں۔ایک اور اچھی بات تو یہ ہے کہ بولی لگانے والے جرمانے میں بھی حصّہ ڈالنے کے لئے تیار ہیں اس طرح جرمانہ بھی 500ارب ڈالر سے زیادہ نہیںآئے گا۔
اب مرضی ہے کہ پاکستان70:30 کی ڈیل لے یا65:35کی۔چالیس سے پچاس سال میں اس سے 30سے35کھرب ڈالر کما سکتا ہے بلکہ ہم کچھ بولی لگانے والوں سے یہ ڈیل بھی کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں پہلے دس سال کے 1 یا1.5کھرب ڈالر دیں اور بعد میں ہم اس پر مزید بات چیت کر سکتے ہیں۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ریکو ڈیک کو سی پیک سے علیحدہ کیا جائے اور فوراََ ہی بین الاقوامی بولی لگانے والوں سے رابطہ کر کے اُن کے ساتھ کچھ اہم معاملات کو آرمی کی موجودگی میں ہی طے کیا جائے تاکہ ملک کا یہ سرمایہ ملک کے کام آسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *