مغرب کیسے امیر ہوا اور مسلم دنیا کیسے غریب؟

shahhid mahmoodبشکریہ:ڈان

1000 سال قبل جب یورپ اندھیروں میں ڈوبا تھا تو مسلم سلطنت  دنیا بھر میں قابل رشک سمجھی جاتی تھی۔ مسلم دنیا کی دولت اور میٹریل کا معیار اتنا بہترین تھا کہ صرف کورڈوبا کو  ہی ہروسٹسویتھا نے دنیا کا بہترین  زیور قرار دیا ۔ 1500 عیسوی  تک چین اور بھارت کی دولت اور خزانے دنیا میں کہانیوں کا موضوع بننے لگے۔ 17 ویں صدی عیسوی میں یورپ  نے ترقی کا آغاز کیا۔ 19ویں صدی کے نصف تک  تبدیلی کا یہ سفر مکمل ہو چکا تھا۔ اس بدلاو کی اصل وجہ کیا تھی؟  اس سوال کا جواب حاصل کرنے کےلیے بے تحاشا لٹریچر دستیاب ہے۔ اس لٹریچر کو 'کیسے' اور 'کیوں ' میں تقسیم کر کے جواب حاصل کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اس آرٹیکل میں میں آپ کے سامنے دو اہم کتابوں کا ذکر کرنا چاہوں گا ۔ ایک کتاب جئیرڈ رابن کی ہے جس کا عنوان  ہے: رولرز، ریلیجن، اینڈ رِچز۔ دوسری کتاب جول موکیر کی ہے جسے  'اے کلچر آف گروتھ' کا نام دیا گیا ہے۔ رابن کی کتاب میں مغرب اور مسلم دنیا کی راہیں جدا ہونے کے معاملے  پر بحث پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے یورپ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ ان کے مطابق مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ ان کے مذہب کی پسماندگی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں کے زیر نگرانی سپین ایک امیر ترین ملک نہ ہوتا۔ رابن ان فیکٹرز کا ذکر کرتے ہیں جن کی بنیاد پر یورپ ترقی کی راہ پر چل پڑا لیکن مسلم دنیا بہت پیچھے رہ گئی۔

ڈائیورجنس کے آغاز سے قبل عیسائی مغرب اور مسلم مشرق  اپنی طاقت کا محور مذہب کو سمجھتے تھے۔  اس وقت اصل طاقت مذہبی رہنماوں یعنی پوپ اور مفتی حضرات اکے ہاتھ میں ہوتی تھی اور حکمران ان مذہبی لوگوں کی بات ماننے کے پابند رہتے تھے۔ جو بھی معاشی سرگرمی شروع ہوتی اس کا مقصد انہی مذہبی گروپوں کو مضبوط کرنا ہوتا تھا۔ پھر یورپ نے آہستہ آہستہ مذہب سے علیحدگی اختیار کرنے کا عمل شروع کیا۔ جب ریاست اور مذہب کا رشتہ کمزو ر پڑا  تو معاشی اور دوسرے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جب برطانیہ اور نیدر لینڈ جیسے  ممالک نے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنایا تو ان خاص مذہبی طبقوں کی گرفت کمزور پڑ گئی کیونکہ پارلیمنٹ میں عام آدمی کی نمائندگی کو ممکن بنایا گیا۔ جب یہ لوگ پارلیمانی نظام کا حصہ بنے تو  انہیں حق ملا کہ وہ ریاستی دولت میں سے اپنا حق حاصل کرنے کا مطالبہ کریں اور اچھی پالیسیاں متعارف کروائیں۔ مذہب اور ریاست کے بیچ یہ علیحدگی کیسے ممکن ہوئی؟  اس کا سب سے اہم فیکٹر پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہے۔ 1440  میں گٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کی  اور علم اور نظریات پھیلانے کے عمل میں انقلاب لے آیا۔ پہلے جو علم صرف چرچ تک محدود تھا اب ملک بھر کے ہر طبقہ کے لوگوں تک باسانی پہنچنے لگا۔ کتابیں اور پمفلٹ  ہر شخص تک باسانی پہنچ سکتے تھے۔ اس سے ایک نئی تحریک کا آغاز ہوا جس نے بادشاہوں اور پوپ کی گرفت کمزور کر دی۔

یہ شاندار ایجاد 1727 تک اسلامی ممالک میں نہ پہنچ سکی کیونکہ مذہبی رہنماوں نے اسے اپنے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سلطانوں کو آمادہ کیا کہ ہی غیر اسلامی ایجاد اپنے پاک ممالک میں نہ آ پائے۔  300 سال کا یہ وقفہ رابن کے مطابق سب سے بڑا فیکٹر ہے جو مغرب اور مشرق کی مالی حالت کو بیان کرتا ہے۔ جب یورپ نے معاشی ترقی کا سفر شروع کیا  اور ٹیکنالوجی  میں بہتری لانے کی کوشش جاری رکھی اس دوران مسلمان ممالک اپنی قدامت پسندی کے تحفظ میں لگے رہے  اور مسلمانوں کو علم اور طاقت سے محروم رکھا۔ موکیر کی کتاب میں وہ  اس کے بر عکس یورپ کی اصلاحات اور روشن خیالی کو یورپ کی کامیابی کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسا چین یا مسلم دنیا میں کیوں نہیں ہوا جب کہ یورپ میں یہ ممکن ہو گیا؟  وہ  یورپ کو سیاسی لحاظ سے بٹنے اور قومیت پرستی پر مبنی ممالک میں تقسیم کو اپنی گفتگو میں اہمیت دیتے ہیں۔ سیاسی  بنیادوں پر تقسیم کی وجہ سے ممالک میں ایک مقابلے کی فضا پیدا ہوئی اور یورپی ممالک نے نہ صرف کامرس اور تجارت بلکہ دوسرے معاملات میں بھی ایکدوسرے سے آگے بڑھنے کی ٹھان لی۔ نیشن سٹیٹس نے جب سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنا لیا تو ساتھ ساتھ سکالر اور تھنکر بھی پیدا کرنے کا عمل جاری رکھا۔ اس سے ایک کھلے ذہن کا ماحول پیدا ہوا  نئے نئے سائنسی ایجادات کے ساتھ نئے نظریات بھی سامنے آنا شروع ہوئے۔ اس وقت نظریات اور تنقید کو دبانا ناممکن ہو گیا  کیونکہ ناقدین کو ایک ملک میں مشکل پیش آئے تو دوسرا ملک پنا ہ دے دیتا تھا۔ یہ آزادی اظہار  وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی گئی  اور اس کی بنیاد پر تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ترقی دیکھنے کو ملی۔ موکیر کے مطابق یہی عوامل یورپ کی ترقی اور معاشی بہتری کا باعث بنے۔

خلاصہ یہ ہے کہ  رابن کے سوال کا جواب مذہبی جواز سے بدل کر عوامی جواز میں پوشیدہ ہے۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے بیلنس ٹریڈ، کامرس اور عوام  کی طرف منتقل ہوا ۔ موکیر کے سوال کا جواب ثقافتی چیلنج  میں ہے جو نیشن سٹیٹ کے قیام کے بعد وجود میں آیا جس نے مختلف اقوام کے بیچ مقابلے کی فضا پیدا کی۔ ان دونوں کتابوں کی مشترکہ خاصیت مذہب کو سٹیٹ کرافٹ سے علیحدہ تصور کرنا ہے جس نے یورپ کی ترقی کی بنیاد فراہم کی۔

یہ اس موضوع سے متعلق  محض کچھ معلونات ہیں جو ہم تک پہنچ پائی ہیں  اور کسی بھی سوال کے جواب کے لیے کافی ثابت نہیں ہو سکتیں۔ موضوع سے متعلق مطالعہ کے شائقین ہزاروں کتابوں سے التفات کر سکتے ہیں جن میں  جئیرڈ ڈائمنڈ کی کتاب 'گنز، جرمز اینڈ سٹیل' اور نتھن روزن برگ کی 'how the west grew rich' شامل ہیں۔ یہاں  یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مغرب کی ترقی کا راز کسی ایک چیز یا فیکٹر پر مشتمل نہیں ہے۔ بہت سے فیکٹرز ملکر کسی معیشت کو مضبوطی فراہم کر تے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ 500 سال قبل  جب سے یورپ  میں تبدیلی کی ہوا چلی ہے تب سے ترقی  نے مشرق کا  رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ چین بھارت جیسے ملک بھی اب ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔ ان ممالک سمیت مشرق کی بڑھتی ہوئی ترقی بھی ایک دلچسپ امر ہے جس پر بہت جلد اپنے خیالات تحریری شکل میں قارئین کے سامنے پیش کرونگا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *