چین کے نئے ’’ماؤ‘‘ شی جن پنگ کون ہیں؟

xi jin pingبشکریہ: دی نیو یارک ٹائمز
جیویر سی ہرنینڈز
چائنہ کے شی جن پنگ کے پاس کافی سارے عہدے اور القابات ہیں جن کی تعداد میں اس قدر اضافہ دیکھا جا رہا ہے کہ آپ اُنہیں ’’ ہر چیز کا چئیر مین ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
اگر کچھ خطابات کی بات کی جائے تو وہ صدر ہیں، کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور سنٹرل ملٹری کمیشن کے چئیر مین بھی ہیں۔وہ تائیوان اور انٹرنیٹ سیکیورٹی جیسے موضوعات پر ورکنگ گروپس کی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ پارٹی کے ’’ کور لیڈر‘‘ بھی ہیں۔
اتنے سارے عہدوں پر اُن کی حکمرانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ چائنہ کے چند بڑے اور بااثر رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔اسی ہفتے اُنہوں نے اگلے پانچ سال کے لئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری کا حلف اُٹھایا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نئی قیادتی ٹیم بھی بنائی جس کاجانشین کسی کو بھی مقرر نہیں کیا گیا جس نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اب وہ اپنی دوسری مدت رواجی قیادت سے ہٹ کر چلانا چاہیں گے۔
پارٹی کا سنٹر
شی جن پنگ کا سب سے بڑا عہدہ جنرل سیکریٹری کا ہے جو کمیونسٹ پارٹی میں سب سے طاقتور عہدہ ہے۔چائنہ کے ایک پارٹی سسٹم کے تحت یہ عہدہ اُن کو حکومت کے اوپر بغیر کسی روک ٹوک کے نظر رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔اُنہوں نے اپنے اسی عہدے کو استعمال کرتے ہوے کرپشن کے خلاف ایک خشک مہم چلائی ہے، سکولوں پر نظریاتی مطابقت کو عائد کیا ہے اور کئی مخالفین اور سرگرم ارکان کو جیل کی ہوا کھلائی ہے۔
لیکن جنرل سیکریٹری شائد شی صاحب کے لئے کافی نہیں تھا جو خود کو چائنہ کے عظیم حکمرانوں سے ملاتے ہیں۔
کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی سوچنا ہے کہ شی جن پنگ1982میں ختم ہوجانیوالے چئیر مین کے عہدے کو بھی دوبارہ بحال کریں گے۔یہ عہدہ اس لئے ختم کیا گیا تھا کہ پارٹی اپنے آپ کو ماؤ زے دنگ کے فرقے سے علیحدہ کرنا چاہتی تھی۔
شی صاحب کے پاس فی الحال ’’ guojia zhuxi‘‘ کا عہدہ موجود ہے جس کا مطلب ہے ’’ سٹیٹ چئیر مین‘‘۔1982کے بعد سے حکومت نے اس عہدے کا مطلب ’’ صدر‘‘ کر دیا ہے اور یہ شائد چائنہ نے خود کو ایک ماڈرن ملک ظاہر کرنے کے لئے کیا ہے۔
ملٹری کنٹرول
شی صاحب کے کئی عہدوں کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ملٹری اور قومی سیکیورٹی سے بھی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شی صاحب کا کمیونسٹ پارٹی کے اہم ستون پر قبضہ رکھنے کا ابھی ارادہ ہے۔
اپنے سے پہلے والوں کی طرح شی صاحب بھی سنٹرل ملٹری کمیشن کے چئیر مین ہیں جس کا مقصد قومی مسلح افواج پر نظر رکھنا ہے۔
وہ ایسے کئی اداروں کی سربراہی بھی کرتے ہیں جیسے نیشنل سیکیورٹی کمیشن جس کاملکی اور غیر ملکی پالیسیوں پر گہرا اثر و رسوخ ہے جس میں جوابی جاسوسی قوانین بھی شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ سنٹرل کمیشن فار انٹیگریٹڈ ملٹری اینڈ سویلین ڈولیپمنٹ کے چئیر مین بھی ہیں۔یہ گروپ شہریوں اور فوجیوں کے تعلق کو درپیش رکاوٹوں کوحل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
شی صاحب نے کئی نئے طریقے نکالے ہیں یہ دکھانے کے وہ ملک کے لئے ایک ماڈرن ملٹری فورس بنانے میں کس قدر سنجیدہ ہیں تاکہ امریکہ جیسی طاقتوں کی خلاف بھی لڑا جا سکے۔اس لئے شائد پچھلے سال چائنہ کے جوائنٹ بیٹل کمانڈ سینٹر میں اُن کے نئے خطاب ’’کمانڈر ان چیف ‘‘ کی نقاب کشائی کی گئی۔
ڈرائیونگ پالیسی
چائنہ کی بیوروکریسی میں بھی شی صاحب ہر جگہ موجود ہیں۔اُنہوں نے کئی ایسے گروپ ترتیب دئیے ہیں جن کا مقصد سرمایہ کاری، سائبر سیکیورٹی اور تائیوان کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات کے لئے پالیسی ترتیب دینا ہے۔اور بھی کئی ایجنسیز ان معاملات پر کام کرتی ہیں لیکن یہ گروپس شی صاحب کو ہی پالیسی بنانے کا مرکز رکھ کر پالیسی ترتیب دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں Jude Blanchette،جو کانفیڈنس بورڈ میں ایک محقق ہیں، کا کہنا ہے کہ شائد شی جن پنگ کو لگتا تھا کہ جنرل سیکریٹری کا عہدہ اُن کی اس کاروئی کی کامیابی کے لئے کافی نہیں اسی لئے اُنہوں نے کافی معتبر نظر آنیوالے عہدوں کا بھی اس کے ساتھ اضافہ کر لیا۔
کور لیڈڑ
چئیر مین ہوں یا نا ہوں شی صاحب نے اس بات کو واضح کر دیاہے کہ وہ خود کو ملک کے لئے اور پارٹی کے لئے تبدیلی کا علمبردار سمجھتے ہیں جو ملک اور پارٹی کو ایک نئے دور میں لے کر جا سکتا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی نے بھی اُن کی آواز پر لبیک کہا اور اور پچھلے سال اُن کو چائنہ کے کور لیڈر کا خطاب دے ڈالا۔اُن کے چاہنے والوں نے اُن کو ابھی سے ’’helmsman‘‘ بھی کہنا شروع کر دیا ہے جو ماؤ کالقب تھا۔
شی صاحب کے اقتدار کی دوسری مدت میں لگتا ہے کہ اُن کے القابات میں اضافہ ہی ہونیوالا ہے کمی نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *