شہزادہ محمد کا ’’وژن2030ئ‘‘

سعودی khursheed-nadeemعرب کو بالآخر سرمایہ دارانہ نظام کے لیے اپنے در کھولنا پڑے۔ اسی کو وقت کا جبر کہتے ہیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ پانچ سو بلین ڈالر کی ابتدائی مالیت سے ایک نیا شہر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس شہر کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنانا مقصود ہے جس کی اساس سرمایہ دارانہ طرزِ معیشت پر ہو گی۔ شہزادہ محمد کو یہ بھی احساس ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت محض ایک معاشی سرگرمی کا نام نہیں۔ یہ ایک طرزِ ندگی بھی ہے۔ اس کا ادراک کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ''ہم ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی زندگی جو اس تصورِ اسلام پر کھڑی ہو جو دوسروں کو برداشت کرتا ہے اور ہماری ان اچھی روایات سے عبارت ہے جو دنیا کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کو تسلیم کرتی ہیں۔ اسی تصورِ مذہب کی بنیاد پر ہم اپنے ملک اور دنیا کی تعمیر چاہتے ہیں۔‘‘ اس تصور کو شہزادہ محمد 'اعتدال پسند اسلام‘ کہتے ہیں۔ وہ اس کی بنیاد پر انتہا پسند مذہبی تعبیر سے لڑنا چاہتے ہیں۔
جدید سعودی عرب کی تاریخ کا یہ پہلا غیر معمولی فکری انقلاب ہے۔ میں اسے تاریخ کے جبر سے تعبیر کرتا ہوں۔ اگر یہ کوئی شعوری تبدیلی ہے تو اسے جواں سال شہزادہ محمد کی بصیرت کا مظہر کہنا چاہیے۔ انہوں نے کم عمری ہی میں یہ جان لیا کہ تاریخ کا پہیہ ماضی کی طرف نہیں گھمایا جا سکتا۔ جن تصورات کے ساتھ آج تک مملکت کے کاروبار کو چلایا گیا، وہ متروک ہو چکے۔ سعودی عرب کو اب نیا معاشی نظام درکار ہے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ اس مملکت کو اب نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہو گی۔
اب تک اگر یہ نظام قائم تھا تو اس کا سبب پیٹرو ڈالر تھے۔ دولت ستارالعیوب بھی ہے اور قاضی الحاجات بھی۔ پیٹرو ڈالر نے اس نظام کی بہت سی کمزوریوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ دنیا نے بھی نظر انداز کیا کہ اس کے معاشی مفادات کا تقاضا بھی یہی تھا۔ اب دولت کے یہ سوتے خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب کو آگے بڑھنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش ہے۔ یہ راستے صرف سرمایہ دارانہ معیشت ہی فراہم کر سکتی ہے۔
اہلِ دانش اور اہلِ سیاست کو اب اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ دنیا کو سرمایہ داری کا کوئی متبادل نہیں دے سکے۔ اس کے جواب میں جو کچھ پیش کیا گیا وہ خیالی جنت کے ایک تصور کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوا۔ اشتراکیت کے علم برداروں دعویٰ کیا کہ وہ دنیا کو متبادل دیں گے۔ اس کا ایک مظہر، سوویت یونین عبرت کا نشان بن گیا۔ دوسرے مظہر چین نے سرمایہ داری کے آغوش میں پناہ لے لی۔
ہمارے کچھ اسلام پسندوں نے بھی اس کی کوشش کی۔ سعودی عرب سے ایران تک ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا ایک ڈھیر ہمارے سامنے ہے۔ چند برس پہلے ایران کے سب سے اہم فورم 'شورائے نگہبان‘ کا ایک وفد پاکستان آیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں برپا ہونے والی ایک مجلس میں، وفد کے سربراہ آیت اللہ جنتی صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سود کی کوئی متبادل معاشی اساس تلاش کر سکے۔ میری موجودگی میں ان کا جواب تھا کہ تیس سال کی مساعی ابھی تک نتیجہ خیز نہ ہو سکیں۔ یہی دیگر ممالک کے تجربات کا بھی حاصل ہے۔ متبادل کے نام پر جو پیش کیا گیا، وہ پاکستان میں نافذ ہے۔ ہمارے بعض جید علما بطور مشیر مختلف تجارتی بینکوں سے وابستہ ہیں اور ان کی نگرانی میں یہ بینک اپنے تئیں سود کا متبادل دے چکے۔ اگر اس کے باوجود یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ''سود کا خاتمہ کیا جائے‘‘ تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ متبادل کیسا ہے۔
سود کی بات تو ایک جملہ معترضہ ہے۔ کہنا یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کا کوئی متبادل ابھی دنیا کے سامنے نہیں آ سکا۔ جو کچھ پیش کیاگیا، وہ عمل کی دنیا میں اپنی افادیت کو ثابت نہ کر سکا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرمایہ داری معاشی استحصال کی بدترین صورت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس اعتراف کے باوجود دنیا اس کا متبادل تلاش نہیں کر سکی۔ سعودی عرب کی طرف سے اس نظام کی طرف اعلانیہ رجوع اس عجز کا اک بار پھر اعتراف ہے۔
سعودی عرب آج تک مسلم فکر کے اس رجحان کا نمائندہ رہا ہے جو اصحاب الرائے کے مقابلے میں پیش کیا گیا‘ جس میں اسلام کے مذہبی متون کی لفظی تعبیر (literal interpretation) پر اصرار کیا جاتا‘ اور قیاس یا اجتہاد کو اہل الرائے کی بدعت سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس گروہ کے نزدیک امام ابو حنیفہ اور دوسرے فقہا مطعون کیے گئے کہ انہوں نے ناقدین کے خیال میں، روایت پر رائے کو ترجیح دی۔ آج جب اس طبقے کو عملی مسائل سے واسطہ پڑا تو انہیں اندازہ ہوا کہ قیاس اور اجتہاد کے بغیر آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں۔
اس کے شواہد حج کے موقع پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اجتماعی قربانی سے لے کر منیٰ کی توسیع اور جمرات کی تعمیرِ نو تک، بے شمار نئی چیزیں ایسی ہیں جنہیں اگر گوارا نہ کیا جاتا تو لاکھوں لوگوں کے لیے بیک وقت حج کرنا ممکن نہ رہتا۔ یہی معاملہ امورِ مملکت کا بھی ہے۔ اگر حج کے مناسک کی دائیگی میں قیاس کے بغیر کام نہیں چلتا تو ریاستی امور میں کیسے چل سکتا ہے جہاں روز نئے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
شہزادہ محمد نے اس صورتِ حال کا بروقت ادراک کیا اور سعودی عرب میں ''وژن 2030ئ‘‘ متعارف کرایا ہے۔ اب عورتیں پارلیمان کا حصہ ہیں اور ڈرائیونگ بھی کریں گی۔ ایک بات البتہ سعودی عرب کے ذمہ داران کو ابھی سے سامنے رکھنا ہو گی۔ یہ عمل یہاں رکنے والا نہیں۔ اصلاحات جب شروع ہو جائیں تو انہیں روکا نہیں جا سکتا۔ عورت کی آزادی کو صرف ڈرائیونگ تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاشی آزادی تک جائے گی اور اس کے بعد ناگزیر ہے کہ عورت فیصلہ سازی میں بھی شریک ہو۔
سعودی عرب کو جو سب سے اہم چیلنج پیش آنے والا ہے، وہ جمہوریت کا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت ثقافتی اور سیاسی جبر میں نہیں پنپ سکتی۔ یہ قدم قدم پر نئی ثقافتی اور سیاسی آزادیوں کا مطالبہ کرے گی۔ بادشاہت کے ہوتے ہوئے، یہ نظام کوئی نتائج نہیں دے سکتا۔ جب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی تو پھر سرمایہ اپنے راستے کا انتخاب اپنی مرضی سے کرے گا۔ پھر کسی کے لیے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ سرمایے کے گھوڑے کی لگام کو اپنے ہاتھ میں رکھ سکے۔
کسی معاشرے کو جب اس طرح تاریخ کے جبر کا سامنا ہو تو اس سے نمٹنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ حقیقت کو شعوری طور پر قبول کرتے ہوئے کوئی راستہ تلاش کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ کئی سال برباد کرنے کے بعد، اسے تاریخی جبر کے تحت قبول کیا جائے۔ شہزادہ محمد کو بھی سوچنا ہو گا کہ بادشاہت کو اس کے نتیجے میں، آج نہیں توکل، لازماً ختم ہونا ہے۔ اگر وہ اسے قبول کر لیں گے تو سعودی معاشرے ایک بڑے خلفشار سے بچ جائے گا۔ بصورتِ دیگر کیا ہو گا، اس کے لیے یورپ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔
سعودی عرب کے لیے جمہوریت کیوں ناگزیر ہو گی؟ اس وقت تک سعودی عرب ایک فلاحی ریاست ہے۔ ریاست عوام کو بڑی حد تک بلا معاوضہ خدمات فراہم کرتی ہے۔ اب وہ شہریوں سے ٹیکس کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گویا خدمات کا معاوضہ طلب کر رہی ہے۔ جب عوام سے خدمات کا معاوضہ لیا جاتا ہے تو انہیں امورِ مملکت میں شریک کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ یورپ میں اسی بنیاد پر جمہوریت آئی۔ جب امرا نے ٹیکس لگانا شروع کیے تو لاگوں نے کہا ''نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں دیے جائیں گے‘‘ (no taxation without representation)۔ سعودی عرب کی حکومت ٹیکس لے گی تو اسے عوام کو مطمئن کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے انہیںشریکِ مشاورت کرنا ہو گا۔
سعودی عرب کا حکمران طبقہ کیا مستقبل کے اس منظرنامے کا ادراک رکھتا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے ہو گا کہ شہزادہ محمد کو کس درجے کی مزاحمت کا سمانا کرنا پڑتا ہے۔ اسی پر مملکت کے استحکام کا انحصار ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *