شوگر ملز کی جنگ اور کسانوں میں تقسیم

پنجاب کے مغربی علاقے سے sugar mill 1تعلق رکھنے والے چھوٹے کسان کئی سال سے لاہور میں اپنے مسئلے کی طرف حکمرانوں کی توجہ دلانے کےلیے احتجاج کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے گنا اگانے والے کسان لاہور میں پنجاب اسمبلی کا گھیراو کرنے کےلیے  آئے تا کہ شوگر ملز کو نئی جگہ پر منتقل کرنے کے معاملے میں حکمران طبقہ کو اپنے خیالات سننے پر مجبور کر سکیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے کچھ عرصہ قبل اتحاد، چوہدی اور حسیب وقاص شوگر ملو ں کو جو بہاولپور، رحیم یار خان اور مظفر گڑھ میں موجود ہیں  کو سینٹرل پنجاب میں منتقل کرنے کا حکم دیا جہاں  ان ملز کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ فیصلہ اس درخواست کے جواب میں دیا گیا جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ ملز کو کاٹن پیدا کرنے والے علاقے  میں منتقل کرنے سے کاٹن کی پیداوار پر اثر پڑے گا کیونکہ ملز کی ڈیمانڈ پورا کرنے کےلیے گنا اگانے سے مٹی میں نمی آ جائے گی جس سے کاٹن پر کیڑے حملہ آور ہوں گے۔ لیکن اس معاملے پر کسان طبقہ تقسیم نظر آیا۔ پاکستان کسان اتحاد کے رہنما چوہدری انور کے گروپ نے فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔  عوام کو فیصلہ کے خلاف احتجاج کرنے کےلیے پنجاب اسمبلی پہنچنے کی نصیحت کے اشتہار بہت سے اردو اخبارات میں شائع کیے گئے۔ گنا اگانے والے کسانوں کو خدشہ تھا کہ اس سیزن کے دوران ملز کی منتقلی سے گنا اگانے والے تمام لوگوں کو بہت مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔  مظاہرین نے ملتان روڈ بلاک کر کے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ منتقلی کے عمل کو کچھ عرصہ کےلیے ملتوی کیا جائے  تا کہ گنا اگانے والوں کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔ یہ احتجاج تبھی ختم ہوا جب وزیر اعلی پنجاب نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ معاملے کو بہترین طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔ اس بات پر اتفاق کرنے کے باوجود کہ ملز کی فوری منتقلی گنا اگانے والے کسانوں کو تباہ کر دے گی، کسان اتحاد گروپ کی لیڈر شپ نے اپنے آپ کو احتجاج سے بری قرار دے دیا۔ 

گروپ کے صدر خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ ملز کی منتقلی کا حکم عدالت کی طرف سے آیا ہے  نہ کہ ایگزیکٹوا تھارٹی کی طرف سے۔ اس لیے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے سپریم کورٹ میں فیصلہ کے خلاف اپیل کی جانی چاہیے۔ ایک گروپ ایسا بھی ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ملز کی منتقلی سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ ایگری فورم پاکستان کے رہنما راؤ اختر کا کہنا ہے کہ چونکہ ساتھ پنجاب میں ہر 70 کلو میٹر کے فاصلے پر شوگر مل واقع ہے اس لیے گنا اگانے والوں کو کوئی مالی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ وہ اپنا گنا باسانی  قریبی ملز تک ٹرانسپورٹ کے ذریعے منتقل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ فصل کو سکر اور گھوٹکی کے علاقوں میں موجود شوگر مل تک بھی پہنچایا جا سکتاہے۔ اس پورے معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ مسٹر کھوکھر کا کہنا ہے کہ احتجاج کا عمل مل کے مالکان یعنی شریف خاندان کی طرف سے شروع کیا گیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ عباس شریف کے بیٹوں نے فنڈنگ اور سہولیات کے ذریعے احتجاج شروع کروایا ہے تا کہ ملز کی منتقلی نہ ہو سکے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر کا کہنا ہے کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گنا پیدا کرنے والے کسانوں کو سخت نقصان پہنچے گا ۔ ان کے مطابق فارمنگ کمیونٹی کا اصل مسئلہ مہنگائی ہے  اور تمام گروپوں کو اس مہنگائی کے خلاف مل کر آواز اٹھانی چاہیے  اور حکومت کی توجہ اس مسئلے سے ہٹانے میں کردار ادا کرنے سے باز رہنا چاہیے کیونکہ حکومت پہلے ہی کسانوں کی بات کو اہمیت دینے میں بد دلی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *