جان کینیڈی کے قتل کی چھپائی گئی دستاویزات جاری کر دی گئیں

جمعرات کے روز امریکہ نےkennedy سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے بارے میں اہم تفصیلات پر مشتمل فائلز ریلیز کر دیں۔ البتہ کچھ فائلز کو قومی سلامتی کے تحفظ کی خاطر پوشیدہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپنے بیان میں نیشنل آرکائیوز کے ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حکم سے 22 نومبر 1963  کو جے ایف کے  کے ڈلاس کے شہر میں قتل سے متعلق 2891 فائلز کو ریلیز کر دیا گیا ہے۔ کینیڈی سکالرز کا کہنا ہے کہ ان فائلز سے قتل کے بارے میں عجیب و غریب تھیوریز کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان میں کوئی اہم راز پوشیدہ ہے۔ ایک دستاویز  میں  24 نومبر کو ایف بی آئی ڈائریکٹر جے ایجر ہوور کے ساتھ مقتول صدر کی گفتگو بھی شامل ہے۔ ہوور نے بتایا کہ ایف بی آئی نے پولیس کو بتایا تھا  کہ اوسولڈ کی جان کو خطرہ ہے۔ لیکن پولیس نے بر وقت ایکشن نہیں لیا اور اوسولڈ کو قتل کر دیا گیا۔ وارن کمیشن جو 46 سالہ کینیڈی کے قتل کی تحقیقات کر رہا تھا کے مطابق اوسولڈ نے اکیلے کینیڈی کے قتل کے پلان کو سر انجام دیا۔ ریلیز ہونے والی فائلز میں دوسری  تفصیلات موجود ہیں جن میں ایف بی آئی ڈایریکٹر کی میمو  اور امریکی تاریخ کےدوسرے اہم سے واقعات شامل ہیں۔ بہت سا مواد 1970 کی دہائی کا ہے  جس میں ہاتھ سے لکھے نوٹس بھی شامل ہیں۔ ایک میمورینڈم میں ٹرمپ نے کہا کہ باقی تفصیلات کو  سکیورٹی مسائل کے پیش نظر ریلیز نہیں کیا جائے گا۔ ایڈمنسٹریشن اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان تفصیلات کو مخفی رکھنے کی درخواست سی آئی اے  اورایف بی آئی نے کی تھی۔ ٹرمپ نے ایجنسیوں کو اپنی درخواست کی وضاحت کرنے کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا ہے۔ 2891 فائلز کو نیشنل آرکائیو ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اب تک کینیڈی کے قتل کے بارے میں بہت سی فلمیں اور کتابیں  سامنے آئی ہیں جس سے اس قتل کے بارے میں نئے نئی تھیوریز جنم لیتی رہی ہیں۔ ایک مشہور فلم جو اس  قتل کے بارے میں بنی اس کا نام بھی 'فے ایف کے' رکھا گیا تھا۔ یہ فائلز 1992 کے ایکٹ کے مطابق ریلیز کی گئی ہیں جس میں کانگریس نے اعلان کیا تھا کہ 25 سال بعد یہ فائلز ریلیز کر دی جائیں۔ کیس کلوزڈ کے مصنف گیرالڈ پوزنر کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان فائلز کے ریلیز کا انتظار کر رہے ہیں انہیں بہت مایوسی ہو گی  کیونکہ فائلز ریلیز ہونے سے مختلف نقطہ نظر اور تھیوریز کا خاتمہ نہیں ہو گا کیونکہ فائلز میں کچھ خاص معلومات موجود نہیں ہیں۔ البتہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ان فائلز سے اوسولڈ کی زندگی کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں  ۔ لیری ساباٹو کا کہنا ہے کہ سی اآئی اے اور ایف بی آئی کچھ فائلز کو مخفی رکھ کر اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہیں۔ ان کے پاس پوری معلومات تھیں کہ اوسولڈ ایک نفسیاتی مریض تھا  لیکن پھربھی اس پر نظر نہ رکھی گئی۔ اوسولڈ کو 1959 میں سوویت یونین بھیجا گیا لیکن وہ 1962 میں امریکہ واپس آ گئے۔ صدر کے قتل کے دو دن بعد اوسولڈ کو ایک نائٹ کلب کے مالک نے گولی مار کر قتل کر دیا  جب انہیں جیل سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *