ہر مسئلے کا حل

gul

دو دن پہلے تک میرا یہ خیال تھا کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی مسئلے کا شکار نہ ہو ، یہ مسائل ہمیشہ رہتے ہیں اور کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ کسی انسان کے سارے مسائل حل ہوجائیں۔ لیکن کل میرے ساتھ ایک ایسا عجیب و غریب اتفاق ہوا جس نے میری ساری سوچ بدل کے رکھ دی ہے اور اب میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک طریقہ ایسا ہے جس سے تمام مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔
پانچ سال پہلے میں ایک کام کے سلسلے میں موٹر وے سے اسلام آباد جارہا تھا۔ ایک جگہ ریسٹ ایریا میں کافی پینے کے لیے رُکا تو ایک صاحب کو دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ان کی عمر پچاس پچپن کے قریب ہوگی ‘ وہ اوپن ایئر میں ایک کرسی پر بیٹھے تھے‘ سامنے ٹیبل پر گرما گرم کھانا پڑا تھا لیکن وہ ہر چیز سے بے نیاز آنکھیں موندے کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔پہلے تو لگا کہ شائد سفر سے بہت تھک گئے ہیں لیکن پھر جب دس پندرہ منٹ تک وہ ایسے ہی بیٹھے رہے تو مجھے بلاوجہ الجھن ہونے لگی۔ کھانا منگوانے کا مطلب تھا کہ اُنہیں بھوک لگی ہوئی تھی ، لیکن اب کھانا ان کے سامنے پڑا تھا اور وہ آرام سے سو رہے تھے۔ایک خیال یہ بھی آیا کہ شائد نشے کے عادی ہیں اورنشہ ابھی اترا نہیں۔ لیکن ان کے صاف ستھرے حلئے سے لگتا نہیں تھا کہ وہ کم ازکم سفر میں کوئی نشہ کرتے ہوں گے۔میں نے اپنی کرسی تھوڑی سی ٹیڑھی کرکے اُن کی طرف کرلی اور کافی کے سپ لیتے ہوئے پورے انہماک سے اُنہیں دیکھنے لگا۔دس منٹ مزید گذر گئے۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کسی بس وغیرہ میں سفر نہیں کر رہے کیونکہ بس کا اتنا لمبا سٹاپ نہیں ہوتا۔میری کافی ختم ہوچکی تھی، اب صبر بھی ختم ہونے لگا تھا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر اٹھ کر ان کے پاس آکر آہستہ سے کھنکار کر کہا’’السلام علیکم‘‘۔ ان کے بدن میں ہلکی سی جنبش ہوئی‘ نیم وا آنکھوں سے میری طرف دیکھا پھر چونک کر سیدھے ہوگئے’’وعلیکم السلام‘‘۔
’’آپ کا کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے‘ شائد آپ کو پتا نہیں چلا ‘ بیرا کافی دیر سے رکھ کے جاچکا ہے‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا! یہ سنتے ہی انہوں نے جلدی سے اپنے آپ کو سنبھالا، مسکراتے ہوئے میرا شکریہ ادا کیا اوربیرے کو بلا کر کھانے کے پیسے دے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ ایک اور حیرت کی بات تھی۔ انہوں نے ایک لقمہ بھی نہیں لیا تھا اور پیسے پورے دے دیے تھے۔ کچھ دیر بیرا بھی شش و پنج کی کیفیت میں کھڑا رہا‘ پھر لاپرواہی سے برتن اٹھا کر لے گیا۔وہ آہستہ آہستہ کار پارکنگ کی طرف چل دیے۔ میں بھی ساتھ چل پڑا۔انہوں نے مجھے ساتھ آتے دیکھا تو چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولے’’بہت بھوک لگی تھی لیکن یکدم ختم ہوگئی‘‘۔ اُ ن کے اِس ایک جملے نے بہت سی باتیں کہنے کی راہ کھول دی‘ پھر ہم کافی دیرسیڑھیوں میں بیٹھے رہے، دو گھنٹے تک گپ شپ رہی اورایک عجیب سی دوستی ہوگئی۔ان کا نام بڑا عجیب تھا۔۔۔اجرک شاہ۔وہ بتانے لگے کہ اسلام آباد اپنے بھائی سے ملنے جارہے ہیں جو وہاں افریقی زبان کا سکول کھولنے کا ارادہ رکھتاہے۔ میں ہنس پڑا۔ ’’افریقی زبان کون سیکھنے آئے گا؟‘‘۔ انہوں نے گہری سانس لی’’صحیح کہا‘ لیکن میرے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ کچھ الگ کرنا چاہتا ہے اور اُسے اپنے جیسے پاگل لوگ مل ہی جائیں گے۔‘‘میں نے گفتگو کے دوران نوٹ کیا کہ اجرک شاہ صاحب ایک عجیب سی پریشانی کا شکار ہیں‘ میں ان سے اس بارے میں پوچھنا چاہتا تھا لیکن ڈر رہا تھا کہیں وہ مائنڈ نہ کرجائیں کہ راہ چلتے مسافرکو یہ زیب نہیں دیتا۔ پھر بھی نپے تلے انداز میں پوچھ ہی لیا کہ آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں؟ یہ سنتے ہی شاہ صاحب کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔اور پھر وہ سوئیٹر کے دھاگے کی طرح کھلتے چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جس گاڑی پر اسلام آباد جارہے ہیں وہ انہوں نے بینک سے لیز پر لی تھی لیکن اب مالی حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ دو ماہ سے وہ گاڑی کی انسٹالمنٹ بھی جمع نہیں کروا سکے اور پوری امید ہے کہ کچھ دنوں تک بینک کے ’’غنڈے‘‘ ان کی گاڑی بیچ سڑک روک کے لے جائیں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا بزنس تباہ ہوگیا ہے اور اب ان پر چالیس لاکھ کا قرضہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ اُن کی دو بیٹیاں گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں لیکن تاحال ان کی شادی نہیں ہوسکی کیونکہ دونوں معذور ہیں۔بیوی پر کچھ عرصہ پہلے فالج کا اٹیک ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔ بڑا بیٹا صحت مند ہے لیکن تعلیم ادھوری چھوڑ کربیٹھ گیا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے موبائل کی دوکان کھولنی ہے۔
شاہ صاحب بیان کرتے رہے اور میں چپ چاپ سنتا رہا‘ یہ کوئی خاص باتیں نہیں تھیں‘ گھر گھر کی کہانی تھی‘ مجھے بوریت ہونے لگی۔ شاہ صاحب کے بھی وہی مسائل تھے جو ہم سب کے ہیں۔بھلا مسائل بھی کبھی ختم ہوتے ہیں۔شاہ صاحب کو شائد اندازہ نہیں تھا کہ اگر ان کے یہ سارے مسائل ختم بھی ہوجاتے تو مزید نئے مسائل پیدا ہوجانے تھے۔ میں نے آخری سگریٹ ختم کیا‘ شاہ صاحب سے اجازت لی اور دوبارہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگیا۔
پانچ سال گذر گئے‘ میں جب بھی ’’بھیرہ‘‘ کے ریسٹ ایریامیں رکتا ہوں‘ یہ واقعہ میرے ذہن میں تازہ ہوجاتاہے۔کل میں اسلام آباد جارہا تھا‘ راستے میں پھر ’’بھیرہ‘‘ میں کافی پینے کے لیے رک گیا۔اتنے میں ایک کالے سے صاحب قریب آئے اور بڑے مہذب انداز میں ایک سگریٹ مانگی۔ میں نے پیش کردی۔ انہوں نے سگریٹ سلگائی اور ہنستے ہوئے بولے’’سموکرز کی اخلاقیات کا کوئی ثانی نہیں، اب دیکھئے ناں۔۔۔ایک سموکر دوسرے سموکر سے سگریٹ مانگ لے تو یہ ناممکن ہے کہ دوسری طرف سے انکا ر ہوجائے۔‘‘میں نے بھی قہقہہ لگایا’’بالکل ٹھیک کہا، ایک سموکر ہی دوسرے سموکر کا درد سمجھتاہے‘‘۔ ان کا بھی قہقہہ بلند ہوگیا۔ میں نے پوچھا آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کچھ دیر اپنا سرکھجایا ‘ پھر کش لگا کر بولے’’اب پتا نہیں آپ کو کیسا لگے گا‘ لیکن بتا دیتا ہوں‘ میں اسلام آباد میں افریقی زبان کا سکول چلاتا ہوں۔۔۔‘‘میں یکدم سُن ہوگیا۔ یہ جملہ میں پانچ سال پہلے سن چکا تھا۔ تو کیا یہ شخص اجرک شاہ کا بھائی تھا؟میں نے پوچھا تو وہ بھی اچھل پڑا۔ وہ واقعی اجرک شاہ کا بھائی تھااور اس عجیب و غریب اتفاق پر نہایت حیران بھی ہورہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ شاہ صاحب پانچ سال پہلے جب مجھے ملے تھے تو کافی مسائل کا شکار تھے ‘ پریشان تھے ‘ اب کچھ بہتری ہوئی ہے؟
’’کوئی ایسی ویسی۔۔۔اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔‘‘ اجرک شاہ کے بھائی نے کہا اور میری آنکھیں پھیل گئیں۔ شاہ صاحب کے اتنے سنگین مسائل حل ہوگئے ‘ لیکن کیسے؟ ان پر تو قرضہ تھا‘ ان کی تو گاڑی بینک والوں نے لے جانی تھی‘ ان کی تو بیٹیاں معذور تھیں اور شادی کے انتظار میں بوڑھی ہورہی تھیں‘ بیٹا موبائل کی دوکان کھولنا چاہ رہا تھا‘ بیوی کو فالج تھا۔۔۔یہ سب مسائل کیسے حل ہوئے؟کوئی وظیفہ کیا یا کوئی عمل کروایا؟شاہ صاحب کے بھائی نے سگریٹ بوٹوں تلے مسلتے ہوئے نم آلود آنکھوں سے میری طرف دیکھا’’نہ کوئی وظیفہ کیا‘ نہ عمل کروایا۔۔۔بس ایک رات سوئے۔۔۔اورصبح تک ہر مسئلے سے بری الذمہ ہوچکے تھے۔۔۔!!!

(گل نوخیزاختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *