ٹیپو سلطان، نپولین اور مودی کا ایڈونچر (1)

مودی سرکارسےnaeem-baloch1 پہلے بھارت ہو یا پاکستان ، دونوں کے اہل دانش ٹیپو سلطان کو ہیرو کے روپ میں دیکھتے تھے۔ لیکن جب سے مودی نے اپنی سیاسی دکان پر’ ھندتو ا‘ کا بورڈ لگایا ہے ، معاملہ تعصب اور انتہا پسندی کی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ اس رویے کی وجوہات اور نتائج پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے ذرا ٹیپو سلطان سے تعارف ہو جائے ۔
ریاست میسور ھندستان کے انتہائی جنوب میں واقع تھی۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پورے ہندستان میں سب سے زیادہ روادار، پر امن اور مذہبی برداشت والی ریاست یہی تھی ۔ہندو ، مسلمان ، جین ، مسیحی ،بدھ صدیوں سے مل جل کر رہ رہے تھے ۔ حکمران ہمیشہ سے ہندو ہی تھے، حتیٰ کہ سلاطین دہلی اور مغلوں کے دور میں بھی یہاں کے حکمران ہندو رہے۔ دراصل وہ دہلی کی سلطنت کے ساتھ صلح و صفائی کے ساتھ رہ رہے تھے ۔بھگتی اور جینیوں کی تحریک کے زیر اثر ان کے اندر دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ بہت تھا ۔ بھگتی کی تحریک اور میسور کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے ایک شعر پر اکتفا کریں :
جلے تو جل ہو ، اڑے تو ٹل ہو
گالی سن بہرہ ہو ، اگر کچھ گہرا ہو!
میسور کی ریاست میں ہندو راجا’ودیار‘ دوم کی حکومت تھی تو اسے اپنے شاہی خاندان سے بغاوت کی بو آئی ۔ اس نے حکومت اپنے سب سے قابل اعتماد سپہ سالار حیدر علی کے سپرد کر دی اور خود گوشہ نشین ہو گیا ۔ حیدر علی نے قریباً بیس برس حکومت کی (1761-1782 ) اور میسور کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اپنے زمانے کی پورے ہندستان میں سب سے خوشحال ریاست یہی تھی ۔رعایا اس سے بہت خوش تھی ۔ ایک دفعہ بھی مذہب درمیان میں نہیں آیا۔ حیدر علی کی پالیسی حیران کن حد تک سیکولر تھی۔وہ اگر کینسر کے مرض کا شکار ہو کر وفات نہ پاتا اور قدرت اسے دو چار برس اور مہلت دے دیتی تو آج ہندستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی ۔ اس نے انگریزوں کی صفایا کر دینا تھا اور ایک نیا ’شیر شاہ سوری ‘ ثابت ہونا تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔اس کی وفات کے بعد سلطان فتح علی ٹیپو نے 1799 ء تک حکمرانی کی ۔اس کا باپ اگرچہ ان پڑھ تھا لیکن فتح علی ٹیپو اعلیٰ تعلیم یافتہ ، انتہائی ذہین ، معاملہ فہم اورمحنتی نوجوان تھا۔ یہ دونوں ریاست میسور کے پہلے اور آخری مسلمان حکمران تھے۔ یہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر انھوں نے مذہب کو ریاستی پالیسی میں داخل کیا تو اسی فی صد سے زیادہ ہندورعایا بغاوت کرے گی اور ریاست میسور میں ان کی قیادت کا متبادل کوئی نہیں ، اس لیے لازمی نتیجے کے طور پر ریاست خانہ جنگی اور محلاتی سازشوں کا شکار ہونے کے بعد کسی اور کے قبضے میں چلی جائے گیا۔اس لیے دونوں نے اسلام کو بیچ میں نہیں آنے دیا ۔البتہ تاریخی طور پر ثابت ہے ٹیپو سلطان باپ کی نسبت خاصا باعمل مسلمان تھا۔دوسری طرف رواداری کا یہ عالم تھا کہ اس نے158 مندر خود بنوائے اور کسی مذہب کے خلاف کوئی اقدام تو دور کی بات ، بلکہ ہر مذہب کی حفاظت کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا۔ سچی بات یہی ہے کہ اس دور کی ریت کے مطابق اپنی سلطنت کی حفاظت اور وسعت ان کی حکمرانی کا بنیادی اصول تھا ۔ اپنی رعایا کی خوشحالی اورگڈ گورنس بھی ان کی طرز حکمرانی میں شامل تھی اور یہی چیز انھیں اپنے دور کے تمام حکمرانوں سے ممتاز کرتی ہے ۔ اس بات کا اندازہ ا س سے لگایا جا سکتا ہے ٹیپو سلطان میزائل کا بانی سمجھا جاتا ہے ۔( بھارت کے مسلمان صدر اور ان کی ایٹمی میزائل ٹیکنالوجی کے بانی عبدالکلام نے ٹیپو کوجنگی راکٹ کا بانی قرار دیا ہے ) بندوق سازی میں بھی اس کی ریاست میں بننے والی رائفل انگریزوں کے اسلحے کا مقابلہ کرتی تھی ۔ اس کی تکنیک یورپ سے کسی طرح کم نہیں تھیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان کے سفارتی تعلقات افغانستان ،ایران ،سلطنت عثمانیہ اور فرانس تک پھیلے ہوئے تھے اور وہ وہاں ہونے والی ترقی سے اپنے آپ کو باخبر رکھتا تھا۔ دنیا کی تبدیلیوں ہی نے اسے یہ بتایا تھا کہ یورپی قومیں تیزی سے دنیا پر قبضہ جما رہی ہیں ۔ انگریز ان سب سے آگے ہیں اور ان کے عزائم سب سے خطرناک ہیں ۔اسی لیے اس نے فرانسیسیوں کوانگریزوں کا دشمن سمجھتے ہوئے ان سے خصوصی تعلقات قائم کیے تھے اور نپولین بونا پارٹ (1769-1821)سے ٹیپو کی خط کتابت بھی رہی تھی۔
یہ دونوں حکمران اس حوالے سے بھی منفرد ہیں کہ جب مغل سلطنت کمزور ہوئی اور اپنی سلطنت کو بچانے کے لیے اسے ہاتھ پاؤں مارنے پڑے تو ریاست میسور نے اس کا پیشگی بندوبست کیا ۔ مضبوط دفاع کی وجہ سے کسی چور اچکے حکمران کو ان کی طرف دیکھنے کی جرأت نہ ہوئی ۔ بلکہ اس کے برعکس حیدر علی اور ٹیپو نے اپنی ریاست کی سرحدیں مزید وسیع کر لیں ۔ اسی ضمن میں قریبی ریاست حیدر آباد اور مرہٹوں کی ریاست کے ساتھ سلطنت میسور کی جنگیں بھی ہوئیں ۔ لیکن بنگال میں انگریزوں کے تسلط کے بعد جب انھوں نے مزید توسیع پسندانہ عزائم دکھلائے تو سلطان ٹیپو تاڑ گئے کہ انگریز ان کا ہی نہیں پورے ھندستان کا دشمن ہے ۔ اسی لیے اس نے مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کی دشمنی ترک کر کے ان کے ساتھ معاہدات کیے ۔ دوسری طرف انگریز بھی تاڑ گئے کہ ان کی راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سلطان ٹیپو ہے ۔ چنانچہ انھوں نے ٹیپو کے خلاف ہندو دشمنی کا پراپوگنڈا کر کے مرہٹوں کو اس کے خلاف صف آراء کر دیا ۔ ٹیپو پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے مالابار اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو زبردستی مسلمان کیا ہے اور مندر توڑے ہیں ۔ اسی دور کا پراپوگنڈا آج کی مودی حکومت استعمال کر رہی ہے ۔ورنہ یہ بات کامن سینس اور ماضی کے حقائق کے بالکل خلاف ہے کہ جس ٹیپو نے اپنے عروج میں اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا اور نہ اپنی ریاست میں ایسی حرکت کی وہ اس دور میں جب وہ اتحاد کا پرچم اٹھائے ہوئے تھا اور تمام دیسی ریاستوں کو اکٹھا کر رہا تھا بھلا وہ ایسی حرکت کیوں کرے گا ۔ چنانچہ میسور کی فتح کے بعد جب انگریزوں کا مطلب پورا ہو گیا تو انگریز مصنف (Brittlebank)نے دوسرے مقامی مورخین (محب اللہ حسن اور عرفان حبیب وغیرہ ) کی اس بات کو درست تسلیم کیا کہ یہ سب جھوٹ تھا جو کہ مرہٹوں کو ساتھ ملانے کے لیے پھیلایا گیا بلکہ اس نے یہ بھی تسلیم کیا میسور کی دوسری جنگ (1782-84)میں ٹیپو پر بارہ ہزار عیسائی بچوں کو اغوا کر کے قتل کرنے یا زبردستی مسلمان بنانے کا الزام بھی محض انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ یہ الزام اس قدر بیہودہ تھا کہ اتنے بچے تو انگریز کسی دور میں انڈیا میں پیدا نہیں کر سکے ، سوال ہے کہ اس دور میں کہاں سے آگئے تھے ؟ اصل بات محض یہ تھی کہ اس جنگ میں انگریزوں کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی اور پہلی دفعہ فرنگی کسی ہندستانی کے ہاتھوں ذلت آمیز شرائط پر صلح کرنے پر آمادہ ہوئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *