دلدل سے واپسی کا راستہ

ونسٹن چرچل نے سوویت یونین کے بانی ولادی میر لینن کے بارے میں کہا تھا کہ سوویت یونین کو بظاہر خوشنماء نظر آنے والے کمیونزم کی دلدل میں صرف لینن لے کر گئے تھے اور صرف لینن ہی اس دلدل سے سوویت یونین کو نکال سکتے تھے لیکن موت نے ان کو مہلت نہیں دی۔ ہم اگر سویت یونین کی جگہ پاکستان کو اور لینن کی جگہ ضیاء الحق کو رکھیں تو آج کا ونسٹن چرچل یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ پاکستان کو انتہاء پسندی کی دلدل میں لے جانے والے ضیاء الحق ہی تھے۔

اُس وقت امریکہ کئی بحرانوں کا شکار تھا۔ ایران میں خمینی کے حامیوں نے امریکی سفارت خانے کے 52 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی کے طلباء نے امریکی سفارت خانے کو آگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا تھا بلکہ امریکہ کو بھی یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ کمیونسٹوں کے بعد اسلامسٹ بھی ان کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔ ایسے میں سوویت یونین نے افغانستان میں انٹری دی تو امریکہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس نے ایران میں اپنے شہریوں کو یرغمالیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اسلام آباد میں مارے جانے والے اپنے دو شہریوں کا خون بھی بھول گیا۔ پاکستان کے جوہری پروگرام سے بھی صرفِ نظر کیا اور اپنی ساری توجہ سوویت یونین کی راہ روکنے پر مرکوز کر لی۔ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ اتحاد کر لیا اور پاکستان کے لئے ڈالروں اور ریالوں کے تھیلوں کے منہ کھول دیئے۔ ضیاء الحق کو جب ہر طرف ڈالر ہی ڈالر نظر آئے تو وہ حواس کھو بیٹھے اور ہر وہ کام کیا جو امریکہ اُن سے کروانا چاہتا تھا۔ یہ سوچے بغیر کہ اُس کا پاکستان پر کیا اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ یہ ان ڈالروں اور ریالوں کی چمک تھی جس نے ہمارے رہنماؤں کی آنکھیں خیرہ کر دیں اور پھر اسی دولت کی ریل پیل میں ادارے مافیا بن گئے اور موت کاروبار بن گئی۔ قدرت نے ضیاءالحق کو مہلت نہیں دی اگر مہلت مل بھی جاتی تو جس دلدل میں وہ پاکستان کو لے کر گئے تھے، وہاں سے واپسی کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ خود تو اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن قوم اس دلدل میں دھنستی چلی گئی اور آج تک ہم اسی دلدل میں اپنی سانس بحال رکھنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔

امریکہ آج ایک بار پھر بحران کا شکار ہے۔ شمالی کوریا امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ بشار الاسد کے خلاف مہم جوئی بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ ایران ایک بار پھر آنکھیں دکھا رہا ہے۔ افغانستان امریکہ کے گلے کی وہ ہڈی بن گیا ہے جس کو امریکہ نہ نگل سکتا ہے اور نہ اُگل سکتا ہے۔ سولہ سال سے امریکہ کی جانب سے کھربوں ڈالر اور ہزاروں جانیں گنوانے کے باوجود افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ بگرام ایئربیس سے صدارتی محل نہیں جا سکتے اور ملاقات کے لئے افغان صدر کو ایئر بیس پر بلا لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ میڈیا والوں کو ہدایت دینی پڑی کہ جب تک ریکس ٹیلرسن واپس قطر نہ پہنچ جائیں، اُن کے آنے کی خبر باہر نہ جائے۔ اِس صورتحال میں امریکہ کی اگر کوئی مدد کر سکتا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔ اِس کے باوجود وہ پاکستان کو گھاس نہیں ڈال رہا۔ امریکی وزیرِ خارجہ پاکستان پہنچے تو صرف اتنی مہربانی کی کہ وزیر اعظم کو چکلالہ ایئربیس نہیں بلایا بلکہ وزیرِ اعظم ہاؤس تشریف لائے اور پاکستان کے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ایک ہی نشست میں ملاقات کر کے بلکہ مطالبات دہرا کر بھارت روانہ ہو گئے جہاں وہ تین دن ٹھہرے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کے اِس رویے سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہئے کہ امریکہ ہمیں کتنی اہمیت دے رہا ہے۔

دوسری جانب ہمارے وزیرِ خارجہ بڑھکیں مارنے سے باز نہیں آتے۔ سینیٹ کے اجلاس میں پالیسی بیان دینے گئے تو ایسے چیخ چیخ کر بول رہے تھے جیسے کسی انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ ڈو مور کے مطالبے سے ہم تنگ آ چکے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہم مزید امریکہ کے ٹکڑوں پر جینا نہیں چاہتے لیکن امریکہ کے ساتھ سینگ لڑا کر کہیں ہم وہ غلطی تو نہیں دہرا رہے جو ہم نے سوویت یونین کے خلاف فریق بن کر کی تھی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ جو امریکہ سفارت خانہ جلانے کے بعد بھی ہم سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار تھا، وہی امریکہ افغانستان سے نکلنے کی آخری امید ہونے کے باوجود ہمیں کسی کھاتے میں شمار نہیں کر رہا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کو شکست دی ہے لیکن اس میں بڑھکیں مارنے والی کونسی بات ہے؟ تباہ حال عراق نے صرف ایک سال میں تاریخ کی امیرترین دہشت گرد تنظیم داعش کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے۔ کیا ہماری کامیابیاں عراق سے بڑی ہیں؟ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم ہو گئے ہیں لیکن جس کینیڈین خاندان کو ہم نے سرحد پار کرتے ہوئے بازیاب کرایا تھا، انہوں نے خود بتایا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے پاکستان میں تھے اور جب گاڑی کے پہیوں پر گولی چلا کر فلمی انداز میں ان کو بازیاب کرایا گیا تو اُن کو پاکستان کے اندر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے پھر بھی ہم پر احسان کیا اور سی آئی اے کے سربراہ کے اُس بیان کی نفی کی جِس میں اُس نے کہا تھا کہ مذکورہ خاندان پانچ سال سے پاکستان میں ہی موجود تھا۔

قدرت بہت کم کسی کو دوسرا موقع دیتی ہے۔ ہمیں ایک کی بجائے دو دو غلطیوں کو سدھارنے کا موقع ہاتھ آیا ہے۔ ایک غلطی ضیاء الحق نے کی تھی جس کا کفارہ ہم 38 سال سے ادا کر رہے ہیں۔ دوسری غلطی ہم نے 1992ء میں اُس وقت کی تھی جب ہم افغانستان میں ایک مخلوط حکومت قائم کروا سکتے تھے لیکن ہم نے افغانستان کو آگ کے دریا مں دھکیلنا گوارا کیا مگر گلبدین حکمتیار کے سر سے ہاتھ اٹھانا گوارا نہیں کیا جس کی وجہ سے کابل کی مٹی افغانیوں کے خون سے سرخ ہو گئی۔ آج ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ ہم چاہیں تو طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا کر افغانوں کا خون مزید بہنے سے روک سکتے ہیں اور غیرریاستی عناصر کا قلع قمع کر کے اپنی آنے والی نسل کو ایک پُرامن اور خوشحال پاکستان کا تحفہ دے سکتے ہیں۔ صرف اتنا خیال رہے کہ فیصلہ امریکہ کو نیچا دِکھانے کے لئے نہیں بلکہ خود کو عفریتوں سے نجات دلانے کے لئے کرنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *