میں معصوم ہوں، آپ چالاک ہیں

faiza rasheed

فائزہ رشید

فیس بک پرفرینڈ ریکوئسٹ کی آپشن کا نام کچھ اور بھی ہوسکتا تھا، لیکن چونکہ فیس بک انتظامیہ نے اس کا نام "فرینڈ ریکوئسٹ" رکھا ہے لہذا ہمیں لگتا ہے کہ جس سے ہم رابطے میں رہنا چاہ رہے ہیں اصل میں اسے دوست بنا نا چاہتے ہیں- اسی طرح کسی کی تحریر یا سٹیٹس کو لائک کرنے کا مطلب بھی اسے پسند کرنا نہیں بلکہ یہ ایک طرح کی رسید ہے کہ ہم نے تحریر دیکھ لی ہے-مسئلہ یہ ہے کہ فیس بک نے ہر آپشن کا جو نام رکھ دیا ہے ہمیں لگتا ہے کہ ہم وہی عمل کر رہے ہیں- فرینڈ ریکوئسٹ کا نام "رابطہ" ہوتا تو شرمین عبید کی بہن کو بھی اعتراض نہ ہوتا- ایک خاتون ہونے کے ناطے مجھے سب پتا ہے کہ ہراسمنٹ کیا ہوتی ہے اور اگر میں اس بارے میں بہت محتاط ہوں تو مجھے چاہیے کہ میں فرینڈ ریکوئسٹ کا آپشن ہی بند کردوں تاکہ کوئی مجھے ریکوئسٹ نہ بھیج سکے- البتہ بات کا بتنگڑ بنانا ہو یا اپنی شرافت کا ڈھنڈورا پیٹنا ہو تو پھر میں اس بات پر بھی رولا ڈال سکتی ہوں کہ کسی نے میری پوسٹ کو لائک کیوں کیا، یہ بھی جنسی ہراسمنٹ ہے-ہم میں سے بہت سے لوگ کسی معروف شخصیت سے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں، لیکن عموما" معروف شخصیات اپنے اصل اکاؤنٹ سے کسی انجان کی فرینڈ ریکوسٹ قبول نہیں کرتیں- اس کا ایک اور حل بھی نکالا جاتا ہے کہ معروف شخصیت کی کسی قریبی شخصیت کے ساتھ رابطہ کرلیا جاتا ہے- ایسا صرف شوق اور پسندیدگی کی وجہ سے ہوتا ہے -ڈاکٹر کا اپنے مریض کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجناکوئی غلط بات نہیں، مریض اگر فیس بک پر موجود ہے اور اس نے فرینڈ ریکوئسٹ کا آپشن بھی کھلا رکھا ہوا ہے تو اسے فرینڈ ریکوئسٹس تو آئیں گی، نہیں پسند، ڈیلیٹ کردیجئے لیکن یوں یکدم طوفان کھڑا کردینا سمجھ سے باہر ہے-خود شرمین کی بہن نے بھی یقینا" کئی لوگوں کو خود فرینڈ ریکوئسٹ بھیج کر فیس بک میں ایڈ کیا ہوگا، تو کیا ان کی یہ حرکت ہراسمنٹ کہلائے گی؟

فیس بک پر عموما" وہ لوگ آپ کے زیادہ دوست بنتے ہیں جنہیں آپ عملی زندگی میں بہت کم یا بالکل بھی نہیں جانتے-ان سے رابطے کا اختیار بھی آپ کے پاس ہوتا ہے لہذا الزام کسی اور کو دینا انتہائی زیادتی ہے-شرمین جیسی لبرل خاتون کی بہن سے ایسی حرکت کی توقع نہیں تھی، قانون کی کسی کتاب میں درج نہیں کہ فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا بھی ہراسمنٹ ہے-اگر اسے سچ مان لیا جائے تو پھراپنی تحریر کسی کو ٹیگ کرنا کس زمرہ میں آئے گا؟ دنیا آگے بڑھ رہی ہے، آپ کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا لہذا خود معصوم بن کر دوسروں کو چالاک ثابت کرنے کی بجائے اپنی عقل سے کام لیں اور تماشا بنانے اور بننے سے گریز کریں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *