ہاوس آف سعود اور انکار کی روش

نسرین ملکnasrine malik

اس دفعہ دعودی عرب میں کچھ تو ہو رہا ہے۔ وہاں کی حکمران فیملی برسوں سے وعدوں کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھی اور اب تک وعدے پورے نہیں کیے تھے ۔  اور انہوں نے دنیا کے سامنے خراب ہوا تاثر ٹھیک کرنے اور ملک کی بہتری کے لیے  بڑے بڑے دعوے تو کیے  لیکن ان پر پورا اترنے کا وقت آیا تو ان سے کچھ فائدہ مند اقدامات دیکھنے کو نہ ملک سکے۔

لیکن شاید یہ وقت مختلف ہے۔ دی گارڈین کو  انٹرویو میں سعودی عرب کے  شہزادے محمد بن سلمان نے ایسی بات کہی جسے کوئی پاگل بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔  انہوں نے صاف صاف کہا کہ ایرانی انقلاب  کی وجہ سے علاقے میں مذہبی جماعتیں حکومتیں کرنے لگیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ سعودی عرب میں مذہبی جماعتوں سے چھٹکا را پایا جائے۔

ہم معتدل اسلام کی طرف مڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جو تمام دنیا اور مذاہب کے لیے کھلا ہے۔ 70 ٪ سعودی 30  سال سےکم عمر ہیں۔ اور ہم 30 سال تک کی زندگی انتہا پسند سوچ  کے ساتھ مقابلے میں  گزار کر ضائع نہیں کریں گے، ہم اس طرح کی سوچ ابھی اور اسی وقت روکیں گے۔" یہ تخت نشین شہزادہ بہت اچھا کاروباری ہے اورمغربی میڈیا کا محبوب ہے ۔ صحافی اسے اکثر   MBS کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس نے اپنے آپ کو اس تبدیلی کا محور بنا کر پیش کیا  جس کا ملک نے برسوں انتظار کیا ہے۔ کچھ دیر کے لیے ایسا لگا کہ وہ بھی سابقہ بادشاہوں کی طرح ہیں  لیکن سچ کچھ مختلف ہی ہے۔

لیکن اس تازہ ترین بیان اور خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کے واقعہ کے بعد لگتا ہے کہ پرنس محمد  اور اسٹیبلشمنٹ کے کچھ دوسرے لوگ بہت سنجیدہ ہیں۔ ان  کی پبلک پوزیشن  بتاتی ہے کہ یہ اقدامات کسی ایک شخص کے نہیں ہیں۔

یہ صرف بظاہر ایک مخلص نوجوان شہزادے کے ارادے کا عمل دخل نہیں ہے۔ اس میں معاشی مضبوطی کا بہت عمل دخل ہے۔ تیل کی قیمت گرنے  اور ڈگمگاتی ہوئی معیشت نے حکمران طبقہ کو احساس دلا دیا ہے کہ  نظام درست راہ پر نہیں ہے۔ اس  سے بہتر کوئی حل نہیں کہ پرانی عادات کو چھوڑ دیا جائے۔  پرانی حکومت کی غلطی یہ تھی کی وہ ہمیشہ اپنی طاقت کو بچانے کا سوچتے رہے۔اس مقصد کے لیے وہ  شہریوں کو دل کھول کر سبسڈی دیتے اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو آزادیاں دینے کا عمل جاری رکھتے تا کہ کوئی ان سے اقتدار چھین نہ پائے۔

1990 اور 2000  کے دوران جب میں وہاں مقیم تھا تو دہشت گردی اپنے عروج پر پہنچ رہی تھی۔ یہ دیکھنا بہت تکلیف دے تھا کہ مذہبی پولیس عوام کو ڈراتی اور حراساں کرتی ہے۔ مذہب کے نام پر قانون کی پیروی کرنے پر مجبور کرتی  ہے اور گورنمنٹ اس انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں ڈانواڈول  اور مذہب اور شدت پسندی کا رشتہ ختم کرنے سے قاصر تھی۔  لیکن اسکے بعد اب لوگوں کو گھسیٹ کر مسجد لے جانے اور خواتین کو زبردستی نقاب اور برقعہ پہنانے والے ہاتھ کمزور ہو چکے ہیں۔

شاید تازہ ترین بیانات  کا اشارہ سعودی عرب کےنوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بوریت سے تھا۔ شیزادہ محمد ہمیشہ سماجی ترقی پر زور دیتے آئے ہیں  اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاست اور شہریوں کے بیچ ایک نئی ڈیل کے بغیر معاشی بہتری ناممکن ہے۔

ایک سینئر شاہی سعودی  اہلکار نے کہا :" یہ بچوں کو معاشرتی زندگی مہیا کرنے کے بارے میں ہے۔ انٹرٹینمنٹ ان کے لیے آپشن کے طور پر موجود  ہونی چاہیے وہ بہت بور اور آزردہ ہیں۔ عورتوں کو خود اپنے کام تک ڈرائیو کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے بنا ہم تباہ ہو جا ئیں گے ۔ ہر  کوئی یہ سمجھتا ہے اور نچلے طبقے کے لوگ بھی جان جائیں گے۔ "

سعودی عوام میں اس طرح کی رائے بہت کم سننے کو ملتی ہے۔  یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت  اب مذہبی انتہا پسندوں کو تنہا کرنے کے خوف سے نکل آئی ہے ۔

اس کے باوجود کچھ تردید بھی سامنے آتی ہے۔ سعودی عرب میں انتہا پسندی ایرانی انقلاب کے ساتھ نہیں آئی تھی۔یہ مذہب کے غلط استعمال کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے سے انتہا پسند لوگوں کو ملک کا نصاب تیار کرنے اور قوانین بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ شاہی خاندان کو خدشہ تھا کہ اگر مذہبی طبقہ کو خوش نہ رکھا گیا تو وہ اقتدار کےلیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسا کرنے سے انہیں آزادانہ حکومت کا موقع ملتا جس پر تنقید کرنا بھی ناممکن تھا۔

لیکن ابھی تک سعودی عوام کی رائے  کے بارے میں کچھ خاص نہیں کہا جا سکتا۔  بات یہ ہے کہ سعودی حکام اور عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مذہب کو سیاست کےلیے استعمال کرنے کا عمل کسی بھی وقت بیک فائر کر سکتا ہے۔ امید تو قائم ہے لیکن  جب یہ سبق صحیح طریقے سے سیکھ لیا جائے گا تبھی اصل امید پید اہو سکتی ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *