غیرت کے علمبردار افغانستان میں فوجی خواتین کا جنسی استحصال

افغانستان میں ایک افغانی afghani womanسرکاری عہدیدارکے ہاتھوں ایک عورت کے جنسی استحصال کی ویڈیو نے پورے افغانستان میں غم و غصّے کی لہر دوڑا دی ہے۔ویڈیو میں دیکھ جا سکتا ہے کہ افغانی کرنل نے اُس وقت ایک عورت کو جو اُسی کے اٖس میں کام کرتی تھی، جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جب وہ اُس کے آفس میں پروموشن کے بارے میں بات کرنے گئی۔اب یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایسے معاشرے میں پیش آیا جہاں جنسی استحصال کے بارے میں بات تک نہیں کی جاتی۔عورتوں کو بااختیار بنانے کے نام پر باہر کے اداروں سے امداد تو لی جاتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیںآ رہا۔ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ افغانی کرنل ایک عورت کے ساتھ زبردستی کر رہا ہے۔عورت نے ساری کاروائی کی ویڈیو اپنے موبائل میں بنائی اور اپنے ساتھی ورکر کو دی۔ آفس میں کام کرنیوالے باقی لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ کرنل کی پرانی روش ہے اور وہ اپنے ساتھ کام کرنیوالی عورتوں میں سے اکثر کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔
ایک آفیسر نے نام نا بتانے کی شرط پر بتایا کہ یہ اُس کرنل کی عادت ہے کہ وہ اپنے کمرے میں لڑکیوں کو لائن میں کھڑا کر کے اُن کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرتا ہے۔
معاشرے میں عورتوں کو باختیار بنانے کی بات کی جائے تو سال 2001سے اب تک اٖفغان لیبر فورس میں اب تک عورتوں کی شمولیت صرف3.1فیصد ہی بڑھی ہے۔
نور جہاں اکبر امریکہ میں رہنے والی ایک سرگرم کارکن ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ افغانی عورتوں کے لئے یہ دو دھاری تلوار جیسا ہے۔ اگر وہ اس بارے میں بات کریں تو لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے سے ہی کہہ رہے تھے کہ عورتوں کو باہر نکل کر کام کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئیے۔جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس بارے میں بات نہیں کرو گے تو یہ ختم کیسے ہو گا۔
شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنیوالی ایک عورت نے بتایا کہ نوکری حاصل کر نے کے لئے عورتوں کا جنسی فائدہ لینا ضروری ہے، اور سفارش کے بغیر نوکری حاصل کرنا بڑا کٹھن ہے۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ اگر آپ کے طاقتور رشتے دار نہیں ہیں تو اس کا مطلب آپ کو کسی طاقتور کے ساتھ سونا پڑے گا‘‘۔وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اگر ایسے لوگوں کی بات نا مانی جائے تو وہ آپ کے بغیر میں غلط اور گندی باتیں کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ یاد آنے پر اُنہوں نے بتایا کہ وہ اپنی ساتھی کے ساتھ ایک معاملے پر اُن کی رائے لے رہی تھیں کہ ایک آدمی نے بیچ میں آکر اُنہیں کہا کہ ’’تم مجھ سے اس بارے میں بات کیوں نہیں کرتیں بلکہ بات کیا کرنا میرے آفس میں آکر مجھے دکھا ہی دو‘‘۔ جب اُس خاتون نے اُس آدمی کو منع کیا تو مذکورہ آدمی نے جا کر باس کو بتایا کہ یہ عورت کھلے عام شراب پی رہی تھی۔ نور جہاں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں عورت کو صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔
افغانستان میں جنسی ہراسگی کے خلاف کوئی تحریک موجود نہیں اور یہ ایک خطرناک بات ہے۔کبریٰ ضادمی جو ایک آرٹسٹ تھیں، جب اُنہوں نے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو اُن کو اتنی دھمکیاں ملیں کہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔
سیلے غفار نامی ایک اور کارکن کا کہنا ہتھا کہ اگر عورت کو ہراساں کرنیولاے پارلیمنٹ کے رکن کو سرِ عام سزا دی جائے تو کو ئی اور ایسا کرنے کی جراٗت نہیں کرے گا۔
افغانی حکومت نے عورتوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لئے ایک بل پیش کیا تھا لیکن پارلیمنٹ سے اُس کو منظوری نہیں ملی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *