ٹیپو سلطان ، نپولین اور مودی کا ایڈونچر !(دوسرا حصہ)

جیسا کہ بتایا جاچکا ہے naeem-baloch1جب ٹیپو کو انگریزوں کی خطرناک عزائم کا صحیح معنوں میں ادراک ہو ا تو اس نے مرہٹوں اور حیدرآباد پر واضح برتری کے باوجود ان کی شرائط پر ان سے صلح کر لی ۔لیکن مرہٹے اور نظام نے اسے ٹیپو کی کمزوری سمجھا ۔ انھوں نے وقتی طور پر اس سے صلح تو کرلی لیکن جیسے ہی انگریزوں نے ان کے آگے مفادات کی ہڈی ڈالی ، وہ فوراً اسکے اتحادی بننے پر تیار ہوگئے ۔ چنانچہ میسور کی تیسری جنگ ہوئی۔ اس میں ان تینوں یعنی انگریزوں ، مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کے خلاف سلطان اکیلا تھا۔
یہ اس دور کی بات ہے جب مغلیہ اقتدار دہلی تک محدود تھا۔ شاہ عالم دوم کی حکومت تھی۔ اور مشہور تھا :سلطنت شاہ عالم ، از دلی تا پالم !(پالم مضافات دہلی تھا ) پورا ہندستان طوائف الملوکی کا شکار تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ان حالات کا بھر پورفائدہ اٹھا رہی تھی ۔ایک ایک کرکے کمزور ریاستوں کو اپنے کنٹرول میں کر رہی تھی ۔کوئی مقامی راجا یا نواب اس کی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ اس جنگ میں شکست سے ٹیپو کی سلطنت سکڑ کر رہ گئی ۔ یہ تھا وہ موقع جب اس نے پہلے افغانستان کے مسلمان حکمران زمان شاہ درانی سے رابطہ کیا ۔ اس نے مدد کا وعدہ بھی کیا ۔ مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ پڑوس کے ایرانی حکمران افغانستان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ دراصل اس سے پہلے اس کے دادا احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری جنگ میں بری طرح شکست دے کر دہلی کی سلطنت کو وقتی طور ان سے بچا یا تھا ۔ لیکن اب ایسا ممکن نہ تھا۔ یہاں سے مایوس ہو کر ٹیپو نے اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت ، مسلمانوں کے سیاسی شکوہ کی علامت سلطنت عثمانیہ( Ottoman Empire1299-1922 ) سے رابطہ کیا ۔ بظاہر اتنی بڑی سلطنت اس وقت اپنی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے زوال کا شکار تھی۔سلطان نے اس وقت کے خلیفہ عبدالحمید اول کے پاس سفارت بھیجی (1787)دیگر تحائف کے ساتھ سلطان نے وعدہ کیا وہ خانہ کعبہ ، مدینہ منورہ اور کربلا میں امام حسین سے متعلقہ زیارتوں کی تزئین اور ضروری تعمیرات میں حصہ لے گا ۔ خلیفہ نے سلطان کی مدد کا رسمی وعدہ بھی کیا ۔ اصل میں سلطنت عثمانی مختلف محاذوں پر انگریزوں اور فرانسیسیوں اور روسیوں کے ساتھ مصروف جنگ تھی۔اس لیے عملی طور پر کچھ بھی ہو سکا ۔یوں سلطان کو کسی مسلمان ریاست سے کوئی مدد نہ مل سکی ۔ اس کے بالکل برعکس حیدر آباد کا نواب نظام علی خان اس کا جانی دشمن بن چکاتھا۔ اس نے تو پوری ریاست میسور پر ہی اپنا دعویٰ کر رکھا تھا۔ ادھر مرکز دہلی میں شاہ عالم ثانی کا یہ حال تھا کہ ایک ہیجڑے غلام قادر نے اسے گرفتار کر کے اس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں ۔اسے اندھا کرنے کے بعد بھی اس کی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی اور اس نے شاہی عورتوں کو ننگا کرکے دہلی کے بازار میں پھرایا۔ اقبال نے اسی واقعہ کو اپنی شاہکار نظم’’غلام قادر روہلہ‘‘ میں بیان کیا اور اس شعر سے اس کی ابتدا کی :
روہلہ کس قدر ظالم ، جفا جو ، کینہ پرور تھا
نکالیں شاہ تیموری کی آنکھیں نوک خنجر سے
کہا جاتا ہے کہ اس حادثے پر ٹیپو سلطان رویا تھا لیکن درایتاً یہ بات بالکل بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے ۔ ٹیپو جیسا با غیرت حکمران شاہ عالم ثانی جیسے بزدل اور نالائق حکمران پر کیوں روتا؟ وہ رویا بھی ہو گا تو ہندستان پر مسلمانوں کے اقتدار کے سورج کو ڈوبتا محسوس کر کے رویا ہوگا۔بقول اقبال :
مگر یہ راز آخرکھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے
یوں اپنوں سے مایوس ہونے کے بعد (1789 ) میں اس نے نپولین بونا پارٹ سے رابطہ کیا ۔ یاد رہے کہ فرانسیسیوں سے سلطان کے والد حیدر علی کے بہت قریبی تعلقات رہ چکے تھے ۔ حیدر علی نے ان کے ساتھ مل کر انگریزوں کو شکست دی تھی ،اور اس اتحاد کو ٹیپو نے برقرار رکھا۔ چنانچہ دیرینہ تعلقات کا حوالہ دے کر ٹیپو نے نپولین سے مدد مانگی۔نپولین اس وقت مصر کی فتح کی مہم میں مصروف تھا۔ اس نے سلطان سے وعدہ کیا وہ اس کے اور اپنے مشترکہ دشمن برطانیہ کے خلاف اس کی ضرور مدد کرے گا۔چنانچہ اس نے سلطان کو ایک خط لکھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ خط انگریزوں کے ہاتھ لگ گیا ۔ یوں انگریزوں کو ٹیپو کے عزائم کا حتمی طور پر علم ہوا اور انھوں نے اس کے خاتمے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ میسور کی چوتھی جنگ کے نتیجے میں نکلا ۔ یہ جنگ اس قدر منصوبہ بندی کے ساتھ لڑی گئی کہ سلطان اپنی ساری ذہانتوں اور صلاحیتوں کے باوجود یہ بھی جان سکا کہ اس کے دو اہم وزیر پورنیا اور میر صادق دشمن کے ساتھ مل چکے ہیں ۔ یوں وہ سرنگا پٹم کے قلعے میں بہادری کے ساتھ لڑتا ہو جان کی بازی ہار گیا ۔ مشہور روایت ہے کہ سلطان کو اس کے فرانسیسی دوست نے خفیہ راستے سے بھاگنے کا مشورہ دیا تھا لیکن اس نے یہ شاہکار جملہ کہا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے ۔ یاد رہے کہ ٹیپو کو اسی انگریز سپہ سالارآرتھرویلزلے(Arthur Wellesley ) نے شکست دی تھی جس نے بعد میں 1815 میں نپولین بونا پارٹ کو واٹر لو میں شکست دی تھی۔ انگریز اس حوالے سے آرتھرویلزلے کو اپنا بہت بڑا ہیرو قرار دیتے ہیں اور وہ ٹیپو سلطان کو بھی اپنا ایک بہادر اور سب سے قابل اور خطرناک دشمن سمجھتے ہیں ۔
ٹیپو کی شکست کا نہ صرف ہندستان میں انگریزوں نے جشن منایا بلکہ بر طانیہ میں بھی اس کو بہت بڑی کامیابی سمجھا گیا۔ اور اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا۔ ٹیپو اپنی بہادری کہ وجہ سے مزاحمتی ادب میں داخل ہو ۔ اس پردرجنوں فلمیں ، ڈرامے ، ناول ، کہانیاں کامک سیریز بنائی گئیں ۔ اور تو اور مشہور سپر ہٹ فلم ’ لیگ آف اکسٹرا اوڈرنری جنٹلمین ( The League of Extraordinary Gentlemen)میں جن سپر ہیروز کی کہانی پیش کی گئی اس میں کیپٹن نیمو بھی تھا جو کہ ٹیپو سلطان کا بھتیجا ظاہر کیا گیا تھا۔ (ہالی وڈ کی اس فلم میں یہ کردار ہمارے سب سے پسندیدہ اداکار نصیر الدین شاہ نے ادا کیا تھا ۔ )
چنانچہ ہمارے رائے میں ٹیپو کی عظمت ایک مثبت ہیرو کے طور پرمسلم ہے، وہ ہندستان کا واحد حکمران ہے جو لڑتے ہوئے جان کی بازی ہارا ۔ جس نے اپنی ذات سے اٹھ کر قومی مفاد کی خاطر انگریزوں سے ٹکر لی ۔ جس نے اپنے عوام کی مثالی خدمت کی ۔ اس کی ریاست اپنے دور کی خوشحال ترین ریاست قرار پائی۔ وہ بھی دوسرے مسلمان اور ہندو راجاؤں کی طرح انگریزوں کا کاسہ لیس بن سکتا تھا لیکن وہ غیرت مند وں کی طرح اس دور کے اخلاقی اصولوں پر قائم رہا ۔ وہ مسلمان ہو کر بھی مذہبی اور نسلی تعصب سے بھی بالاتر رہا۔ مودی سے پہلے اس کے اسی سیکولر تشخص کی بنا پر اس کو بے پناہ احترام سے دیکھا جا تا تھا اور آج بھی ہندستان کے اکثر دانش ور اس کی عظمت کو مانتے ہیں۔ مودی اور اس قبیل جیسے متعصب لوگ اس کے تاریخی کردار کو کبھی کم نہیں کر سکیں گے ۔ مودی ہمارے خیال میں بھارت کا جنرل ضیاء الحق ثابت ہو گا ۔ وہ پاکستان میں اینٹی انڈیا اور نام نہاد جہادی کلچر کا ردعمل ہے۔ ایک دفعہ ہم سے کسی طالب علم نے اس کے بارے میں پو چھا تو بغیرتردد کے کہا کہ وہ ہندستان میں ہندووں کی ’’ جماعت اسلامی کے سید منور حسن ‘‘ ہیں ۔
مودی اور اس جیسی ذہنیت کے لوگ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ،سلطان فتح علی ٹیپو جیسے ہیرو کو زیرو کرنے کی کوشش کریں گے توناکام ہو کر تاریخ کے قبرستان میں گم ہو جائیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *