سی پیک کو ایک اور مقدس گائے نہ بنائیں

سوال یہ نہیں کہ raza roomyکیا پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) خطے کے معاشی معروضات تبدیل کرنے والا منصوبہ ہے ، لیکن اس کی شفافیت اور اس پر پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے معاہدوں پر کچھ وسیع تر سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔ بیجنگ اور اسلام آبادایک طویل المدت منصوبے کو حتمی شکل دینے جارہے ہیں۔ ایک عشرے پر محیط یہ منصوبہ سی پیک فریم ورک کے تحت تعاون کے اہداف اور جہتوں کا تعین کرے گا۔ رواں سال مئی میں ایک معاصر انگریزی اخبارنے اس طویل المدت منصوبے کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ سی پیک کی نگرانی کرنے والے وزیر، احسن اقبال نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس منصوبے کے حتمی مسودے کو عوام کے علم میں لائیں گے ۔ اب شاید اس وعدے کے ایفا ہونے کا وقت آچکا ہے ۔ وزیر موصوف نے اعلان کیا ہے کہ طویل المدت منصوبے کی منظوری جے سی سی میٹنگ میں دی جائے گی۔ یہ میٹنگ رواں ماہ کے آخرمیں ہونی طے پائی ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت اپنے عہدکی پاسداری کرتے ہوئے طویل المدت منصوبے کی دستاویزات کو عوام کے علم میں لائے تاکہ عوامی سطح پر اس پر بات چیت ہوسکے ۔
سی پیک پر ہونے والی بحث سے تین معاملات اجاگر ہوئے ہیں۔ پہلا ، اس پیش رفت کی بابت شفافیت اور اس میں شامل انفراسٹرکچر اور بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے بارے میں تفصیل کا فقدان سامنے آیا ہے ۔ ان معاملات پر تاحال اسرار کا گہراپردہ پڑا ہواہے ، جو کہ حیران کن بات نہیں کیونکہ پاکستانی ریاست اور چینی حکومت، دونوں فیصلہ سازی کے عمل کو صیغ�ۂ راز میں رکھتے ہیں۔ محدود مدت کے مفادات کی عینک سے دیکھنے والے پاکستانی سیاست دانوں کے لیے یہ ایک اچھی ڈیل ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں معاشی سرگرمی بڑھ گئی اور معیشت میں کیش کا بہاؤ شروع ہوگیا ۔ جہاں تک اسٹبلشمنٹ کا تعلق ہے تو یہ منصوبہ بھارت اور امریکہ کے مقابلے میں تزویراتی مقاصد کے حصول کا ایک واضح ہدف رکھتا ہے ۔ پاکستان میں چینی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے اور خود کو چین کے سکیورٹی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے بعد شاید پاکستانی فوج کو مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ اگرچہ امریکی تعاون سے اس نے بھارت مخالف سکیورٹی انفراسٹرکچر قائم کرلیا تھا لیکن کئی عشروں سے اسے چینی تعاون کی ضرورت محسوس ہورہی تھی ۔ فی الحال بیجنگ اور اسلام آباد نے سی پیک کی چھتری تلے طے پانے والے ان معاہدوں اور توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں مالیاتی امور کی بہت محدود تفاصیل ظاہر کی ہیں۔ ان کے لیے طے کی گئی شرائط بڑی حد تک غیر واضح ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری پارلیمان، جو 207 ملین عوام کی نمائندگی کرتی ہے، کو بھی ان امور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ یہ صورتِ حال اس راہداری کا معلومات کی بنیاد پر تجزیہ کرنے اور یہ دیکھنے کہ اس سے پاکستان کیا حاصل کرسکتا ہے، کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے ۔
دوسرے ایشو کا تعلق لیے جانے والے قرض سے ہے ۔ سی پیک کے تحت بننے والے بہت سے منصوبوں کے لیے چینی بنک رقم فراہم کررہے ہیں،ان کے لیے چینی فرمز اور ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے ۔ اور یہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔ لیکن ان قرضہ جات کی ادائیگی کا بوجھ پاکستانی شہری کو اٹھانا پڑے گا۔ ملک میں بڑھتے ہوئے قرضے پر عوامی حلقوں میں کی جانے والی بحث میں شدت آتی جارہی ہے ، تاہم ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور میڈیا پر عائد کنٹرول کی وجہ اس معاملے پر قومی سطح پر بحث ممکن نہیں رہی ۔ انگریزی اخبارات کے چند ایک رپورٹرز اور کالم نگاروں کو چھوڑ کر مرکزی اردو میڈیا سی پیک کو سکیورٹی کے عدسے سے دیکھتا ہے ۔ ۔۔ اسے بھارتی اور امریکی عزائم کے مقابلے میں پاکستان کی ڈھال کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چین اور سی پیک ہمارے ہاں مقدس گائے کا درجہ پاچکے ہیں، لہذا ان پر معروضی تجزیے اور تبصرے کی بہت کم گنجائش باقی ہے ۔
تیسرے ایشو کا تعلق سرمایہ کاری کی ترجیحات سے ہے ۔ جس دوران پاکستان مزید قرض لیے چلا جارہا ہے، اس کے پاس مقامی سطح پر طے پانے والے درمیانی مدت کے ترقیاتی اہداف، خاص طور پر سوشل سیکٹر، جیسا کہ تعلیم ، صحت، آبادی کی منصوبہ بندی اور پانی کی مینجمنٹ کے لیے بجٹ کی کمی ہے ۔ ملک میں سکول جانے کی عمر کے بچوں کی نصف تعداد سکول نہیں جاتی ، ہیلتھ کیئر کا حال انتہائی ناقص، اور یہ سوال اپنی جگہ پر موجود کہ ہم طویل المدت منصوبوں کے لیے اپنے انسانی ذرائع کو کس طرح فعال بنائیں ۔ جب تک ہم سوشل سکیٹرکی ترقی کو ترقیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کرتے ، سی پیک سے حاصل ہونے والی معاشی ترقی دیر پا ثابت نہیں ہوگی ۔
اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ سی پیک پاکستان کو انتہا پسندوں کو پراکسی دستوں کے طور پر استعمال کرنے سے روکے گی۔ چینی پاکستان کے جہادی انفراسٹرکچر کی حمایت کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ۔ نیز و ہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے ’’مفکرین ‘‘ پر اتنا اثر ورسوخ ضرور رکھتے ہیں کہ اسے اپنی عشروں پر انی سٹریٹیجی، جو پاکستان اپنی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے اپنائے ہوئے ہے ، کو تبدیل کرنے کے لیے قائل کرسکیں۔ اس جہت میں چینی اثر کو خوش آمدید کہنا چاہیے کیونکہ صرف یہی اس پالیسی میں واضح تبدیلی لاسکتا ہے ۔ اگست میں ہونے والی BRICSکانفرنس کا اعلامیہ چینی تشویش کا واضح اظہار کرتا ہے ۔ اس میں پاکستان میں موجودگی رکھنے والے اُن انتہا پسند گروہوں کا ذکر کیا گیا تھا جو بھارت اور افغانستان میں اہداف رکھتے ہوئے خطے کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ پاکستانی سکیورٹی کے محافظ بیجنگ کی طرف سے آنے والے ان اشاروں کو سمجھیں۔ چینی اپنی سرمایہ کاری اور عملے کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے مختصر مدت اور وقتی فائدہ دینے والے انتظامات کی بجائے طویل المدت انتظامات چاہتے ہیں۔
ان معاملات پر توجہ دینے سے پاکستان بتدریج ایک معاشی مرکز بنتا جائے گا۔ اس سے پہلے اسے معاشی مرکز بننے سے بھارت دشمنی کے خبط نے روکے رکھا تھا کیونکہ ہماری اسٹبلشمنٹ کی ترجیح تجارت کی بجائے سکیورٹی تھی ۔ اس کے علاوہ ہمارے ایران کے ساتھ بھی تعلقات محدود سطح پر تھے ۔ اس ضمن میں افغانستان کی ہنگامہ خیز صورتِ حال کاکیا ذکر کرنا ہوا۔ ایک مرتبہ جب سی پیک فعال ہوجائے گی، جو کہ ضرور ہوگی، تو پاکستان بھی چینی معاشی میزان کا حصہ بن کر اپنے علاقائی ہمسایوں کی طرف ہاتھ بڑھائے گا۔ آخر میں، نئی ٹیکنالوجی کی آمد، پانی اور زراعت کے منصوبے پاکستان کی دھماکہ خیز انداز سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے سودمند ثابت ہوں گے ۔ 2017 ء کی مردم شماری نے آبادی میں تیز رفتار اضافے کی تصدیق کردی ہے ۔
اب یہ دیکھا جانا ہے کہ کیا یہ امکانات معاشی انحصار اور قرضہ جات کا درست جواز فراہم کرتے ہیں، اور اگلے ایک عشرے تک پاکستان کے پالیسی سازاس شراکت داری میں ملک کی کیا سمت متعین کرتے ہیں؟اہم بات یہ ہے کہ سی پیک کو ایٹمی پروگرام کی طرح ایک اور مقدس گائے نہ بنادیا جائے ۔ سی پیک منصوبوں پر کی جانے والی سرمایہ کاری، قرضہ جات اور چینی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی خصوصی مراعات پر بات چیت کے دروازے کھولے جائیں ۔پاکستان کے معاشی مفادات اور آنے والی نسلوں کا تحفظ کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *