66سالہ عورت کی کہانی جو بوڑھی ہونے کے باوجود جنسی تعلق چاہتی تھی۔

Richard-Sandomirبشکریہ:نیویارک ٹائمز
رچرڈ سینڈومیر
جب 66سالہ جین جسکا نے سال1999میں eric rohmerکی فلم ’’autumn tale‘‘ دیکھی تواُن کو اُس فلم کی کہانی بہت پسند آئی، جس میں ایک شادی شدہ عورت اپنی ایسی بیوہ دوست کیلئے رازاداری کے ساتھ اخبار میں اشتہار دیتی ہے جس کو لگتا ہے کہ اب وہ اپنی زندگی میں پیار کبھی نہیں ڈھونڈ پائے گی۔
مس جسکا نے سوچا کہ ایسا کچھ وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیوں نہیں کر ستیں؟
ذہین آدمیوں سے ملاقات کا سوچ کے مس جسکا نے نیویارک ٹائمز کے بُک ریویو صفحے پر موجود پرسنل سیکشن میں ایک اشتہار دیا۔ وہ اس اشتہار پر زیادہ پیسے نہیں لگانا چاہ رہی تھیں اسلئے اُنہوں نے اپنے پیغام کو پہنچانے کے لئے ان چٹ پٹے الفاظ کا انتخاب کیا۔ یاد رہے کہ ایک لفظ کہ اُن کو 4.55ڈالرز ادا کرنے پڑے تھے۔الفاظ کچھ یوں تھے
’’اگلے مارچ میں 67سال کا ہونے سے پہلے میں اپنی پسند کے مردوں کے ساتھ بہت زیادہ سیکس کرنا چاہوں گی۔ اگر آپ پہلے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو trollope
(عورتون کے پہننے والا ایک ڈھیلا ڈھالا فراک)مجھے بھی پسند ہے‘‘۔
نیویارک ریویو کی طرف سے مس جسکا کو فوری طور پر 60خط موصول ہوے جو مختلف لوگوں نے اُن کے لئے لکھے تھے۔ ایک خط میں ایک عدد ننگی تصویر بھی تھی جبکہ ایک میں جنسی تعلقات کو لے کر ڈھیر سارے وعدے موجود تھے۔
مس جسکا کی مختلف ملاقاتیں ہی اُن کی 2003میں شائع ہونیوالی یاداشتa round-heeled woman: my late life adventure in sex and romance‘‘ کی بنیاد بنیں۔
مس جسکا نے اور بھی دو کتابیں تحریر کی تھیں اور اُن کا انتقال 24اکتوبر کو کیلف میں ہوا تب اُن کی عمر84برس تھی۔اُن کے بیٹے کے مطابق موت کی وجہ سانس کا بند ہو جانا تھا۔
جسکا کا کہنا تھا کہ ’’ میں ویسی عورت بننا چاہتی تھی جیسی میں پہلے نہیں بن سکی۔ ایک ایسی عورت جو مردوں کے قریب آنے سے ڈرے نہیں بلکہ اُس کو اس میں مزا آئے‘‘۔ جسکا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ وہ مردوں کی فراخدلی سے موٹا ہونا چاہیں گی‘‘۔
مگر اُن کی کتاب میں اُن کے جنسی تعلقات کا ذکر نہیں ملا۔بلکہ کتاب کی کہانی میں مزاح، درد، دانشمندی سب ملتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جسکا کی برطانوی تربیت، غلط شادی، اکیلا ماں بننا، موٹاپے سے جنگ، تحلیل نفسی سے روشن خیالی کا سفر اور تدریس سے محبت سب نظرآتا ہے۔
وہ کہتی تھیں کہ ’’freudکا کہنا ہے کہ مردوں کو عورتوں کیjane 1 چاہ ہوتی ہو اور عورتوں کو اُس چاہ کی چاہ ہوتی ہے لیکن میں مانتی ہوں کہ عورتوں کو اگر پھولے نتھنوں اور بھاری سانسوں سے ہی اطمینان مل جاتا ہے تو پھر تو وہ کافی لطف ہیں جن سے وہ محروم ہیں‘‘۔
سال 2006میں huffington postمیں شائع ہونیوالے اپنے ایک مضمون میں jesse kornbluthکا کہنا تھا کہ مس جسکا کہتی تھیں کہ وہ خالی جنسی تعلق کی تلاش میں ہیں لیکن اگر آپ کتاب پڑھیں تو آپ کو پتہ لگتا ہے وہ کتنا کچھ اور چاہتی تھیں اور چاہے جانے کی طلب اُن میں اتنی زیادہ کیوں تھیں۔jesseکا کہنا تھا کہ جسکا وہ چاہتی تھیں جو اُن سے آدھی عمر کی عورتیں چاہتی ہیں، وہ سب کچھ چاہتی تھیں۔
janeسات مارچ1933کو پیداہوئی تھیں۔ اُن کے والد ایک ڈاکٹر جبکہ والدہ گھریلو عورت تھیں۔اُنہوں نے مشی گن یونیوارسٹی سے گریجویٹ کیا لیکن ماسٹرز نا کر سکیں۔ مسٹر جسکا کے ساتھ اُن کی شادی اٹلانٹا میں ہوئی۔ جسکا صاحب ایک سرکاری عہدیدار تھے۔اُن کی شادی میں محبت تھی ہی نہیں صرف بحث اور لڑائیاں تھیں۔ اسلئے 1970کے اوئل میں اُنہوں نے طلاق لے لی۔
مس جین کا کہناتھا کہ اُن کے شوہر اُن کی عقلی موت چاہتے تھے۔ جسکا صاحب کا انتقال2011میں ہوا۔
مس جسکا اپنی طلاق کے بعد کیلی فورنیا آگئیں اور اپنی ساری توجہ اپنے بیٹے کی تربیت پر لگا دی ساتھ ساتھ اُنہوں نے جیل میں موجود ایک اسکول میں jane 2پڑھانا بھی شروع کر دیا۔
جین جسکا کا ٹائمزسے سال2003میں بات کرتے ہوے کہنا تھا کہ کچھ تلخ ملاقاتوں کے علاوہ مردوں سے اُن کا تعلق نا ہونے کے برابر تھا۔کوئی رومانوی رابطہ تو تھا ہی نہیں۔
مگر بعد میں اُن کو لگا کہ اشتہار کے جواب میں اُن سے رابطہ کرنیوالے کچھ لوگوں سے مل کر شائد اُنہیں پیار ہو سکتا ہے یا کوئی رومانوی تعلق بن سکتا ہے۔
مسٹر روز کو سال2003میں انٹرویو دیتے ہوے اُن کا کہنا تھا کہ آپ کسی بھی چیز کو لے کر غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ اُن کو بھی یہی لگتا تھا کہ وہ مر سکتی ہیں، شائد تشدد کا شکار ہو سکتی ہیں، اُن کو کوئی بیماری لگ سکتی ہے یا وہ شائد خوش ہو سکتی ہیں۔
ایک بیٹے کے ساتھ اُ ن کے پوتا پوتی بھی تھے اور سوزین نام کی ایک بہن بھی۔ایک انٹرویو میں اُن کے بیٹے کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کبھی اپنی ماں کی یاداشت نہیں پڑھی۔ وہ دوسرے لوگوں کو کہتے تھے کہ اگر یہ اُن میں سے کسی کی ماں کی یاداشت ہوتی تو وہ شائد پڑھ لیتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *