دینا جناح واڈیا۔۔۔۔وہ باتیں جو پہلے منظرِ عام پر نہیں آئیں

dina jinahڈاکٹر غلام نبی قاضی

پچھلے ہفتے جمعرات کے روز جناح کی بیٹی دینا جناح 98 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ ان کے اندر اپنے والد کی بہت سی خوبیاں موجود تھیں جن سے ہم جناح کو دیکھ پاتے تھے۔ یہ گفتگو اسی حوالے سے ہے۔ برطانیہ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے جناح نے رومیو کی حیثیت سے تھیٹر میں حصہ لیا لیکن اس واقعہ کو ہمیشہ کے لیے مخفی رکھا گیا ۔ کبھی جناح کی ذاتی زندگی کی تفصیلات کو سامنے نہیں لایا گیا ۔ ایک وکیل کی حیثیت سے وہ اپنے کام میں اس قدر کھوئے رہتے کہ مشہور شاعر  سروجنی نادو کی شاعری بھی انہیں اپنی طرف متوجہ نہ کر پائی۔ ان کے رومانس اور رتن بائی پٹیٹ سے شادی کی زیادہ تر تفصیلات کو انتہائی مخفی رکھا گیا۔ کچھ عرصہ قبل بھارت میں شائع ہونے والی کتاب مسٹر اینڈ مسز جناح میں بھی اعلی تحقیقات کے باوجود بہت سی خامیاں ہیں۔ جناح کی فیملی میں کچھ حد تک جاننے کےلیے ہمیں کانجی ڈوارکڈاس، جی الانا، ہیکٹر بولیتھو، سٹینلی وول پورٹ ، ایم سی چاغلہ، ایم اے ایچ اصفہانی، شگفتہ یاسمین اور خواجہ راضی حیدر کی کتابیں کھنگھالنی ہوں گی۔ اگرچہ ہمیں ان تمام مصنفین کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن اپنی تمام معلومات کا سہرا ان کے سر سجانا نا انصافی ہو گی۔ مثلا ڈوارکاڈاس کی کتاب  میں رتی کے بہت سے خطوط کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی دینا کا ذکر نہیں ہے۔ واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔

40 سال کی عمر تک اکیلا رہنے کے بعد جناح کو رتی سے محبت ہو گئی ۔ جیسے ہی رتی بلوغت کی عمر کو پہنچی تو ان کے اسلام لانے اور جناح سے شادی کی خبر پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ بہت اہتمام کے ساتھ شادی پایہ تکمیل کو پہنچی۔ یہ اس دور کا واقعہ ہے جب جنا ح کی سیاسی زندگی اہم موڑ پر تھی ۔ شادی کے دوسرے سال انہوں نے امپیریل لیجلسلیٹو کونسل سے استعفی دیا ، ہوم رول لیگ آف اینی بسینت  اور مہاتما گاندھی کی نیشنل کانگریس سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے استعفی کا وقت بہت اہم تھا کیونکہ استعفی سے کچھ عرصہ بعد جلیاں والا باغ کا واقعہ پیش آیا جس سے بھارت کی آزادی کے امکانا ت بہت بڑھ گئے ۔

جناح اور رتن بائی 1919 میں برطانیہ چلے گئے اور کچھ ماہ وہاں رہے۔ ایک رات وہ تھیٹر میں گئے اور دیر رات تک وہاں رہنے کے بعد جلدی میں انہیں گھر لوٹنا پڑا۔ اسی رات دینا کی پیدائش ہوئی۔ یہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات تھی ۔ اس کے ٹھیک 28 سال بعد قائد اعظم کے ہاتھوں پاکستان کی تخلیق ہوئی۔

جب دینا کی ماں اپنے خاوند کے ساتھ رہتی تھیں اور ان کی صحت اچھی تھی تب بھی دینا کو ایک کام والی میڈ کے سپرد کیا گیا تھا ۔ اسی وجہ سے رتی کی زندگی کی کہانی میں بہت کم دینا جناح کا نام آتا ہے۔ اس طرح دینا اپنی پھوپھی اور اپنےوالد کے ساتھ رہتی تھیں۔ جب وہ انگلینڈ میں تھے تو رتی کو بورڈنگ سکول میں بھیجا گیا تھا اور وہ صرف چھٹیوں میں اپنے والد سے ملا کرتی تھیں۔ صرف دینا ہی اپنے والد کے ساتھ اچھے لمحات گزار سکتی اور انہیں اپنے بریف سے دور کر سکتی تھیں۔ دنیا اپنے والد کو grey wolf کے لقب سے پکارتی تھیں اور جواب میں جناح بھی انہیں اسی نام سے پکارا کرتے۔ والد کو خود بہت محبت اور پیار کی ضرورت تھی جو وہ اپنی بیٹی سے حاصل کر کے خوش ہوتے  تھے۔ لیکن دینا کو والد کے ساتھ وقت گزارنے کا بہت کم موقع ملتا تھا۔ اور وہ زیادہ تر وقت اپنی نانی کے ہاں گزارتی تھیں۔

جب سر پٹیٹ نے قائد اعظم کو 1929 میں رتی کی بیماری کی خبر دی تو وہ فورا روانہ ہو گئے لیکن پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ رتی وفات پا چکی ہیں۔لیڈی پٹیٹ نے کبھی جناح کو معاف  نہیں کیا۔ جب وہ واپس کراچی آئیں تو دینا زیادہ تر سٹاف کے ساتھ گھل مل چکی تھیں اور نوکر انہیں دینا بابا بلاتے تھے۔  ان کے سینئر ڈرائیور بتاتے ہیں کہ دینا انہیں اپنی پھوپھی فاطمہ جناح سے چھپ کر پیسے دیتی تھیں اور ان کے ساتھ لانگ ڈرائیو پر بھی جاتی تھیں۔ اپنے والد کے سخت احکامات کے باوجود دینا بمبے کی بڑی سڑکوں پر تیز رفتار ڈرائیونگ کرتی تھیں۔ اس وقت ان کی عمر صرف 15 سال تھی۔

جیسا کہ افواہوں سے معلوم ہوتا ہے، لیڈی پٹیٹ نے دینا کو نیول واڈیا سے شادی کی اجازت دی تھی۔ نیوی ایک پارسی تھے جو عیسائی مذہب قبول کر چکے تھے۔ قائد اعظم کو اس رشتہ سے اختلاف تھا لیکن دینا نے پھر بھی نیول سے شادی کی۔ جس طرح جناح کو پورے ہندوستان میں کوئی مسلمان لڑکی نہیں ملی تھی اسی طرح ان کی بیٹی کو پورے ہندوستان میں کوئی مسلم مرد نہ مل سکا  اور محبت جیت گئی۔ اب جناح کی سیاسی حالت مختلف تھی۔ وہ 1931 سے خود ساختہ جلاوطنی  کے لیے لندن میں تھے اور انہیں 1934 میں علامہ اقبال، لیاقت علی خان اور ان کی بیوری رعنا لیاقت کے اصرار پر ہندوستان بلا لیا گیا تھا۔ اب وہ ایک مکمل مسلمان سیاستدان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ ایک موقع پر ان کے ساتھی اور سپورٹرز انہیں مولانا محمد علی جناح بھی پکارا کرتے تھے۔ جناح نے جلسہ روک کر عوام کو بتایا کہ وہ سیاسی لیڈر ہیں نہ کہ مذہبی لیڈر اس لیے انہیں مولانا کا خطاب نہ دیا جائے۔

یہ واقعہ پاکستان کے جناح کے بعد آنے والے سیاستدانوں نے مخفی رکھا ۔ اس طرح دینا کی نیول سے شادی ان کےلیے شخصی اور سیاسی لحاظ سے بہت بڑا دھچکا تھی۔ انہیں اپنے خاندان کے آخری فرد سے بھی علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے بیٹی سے قطع تعلق کر لیا تھا اور کبھی دوبارہ نہ ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن محدود ریکارڈ میں کہیں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لیکن اس پر بحث کرنے کےلیے کچھ وضاحت ضروری ہے۔ رتی کی وفات کے بعد ان سے متعلقہ ہر چیز کو ایک صندوق میں رکھ دیا گیا جسے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ نہ ہی کبھی جناح ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔ یہی صورتحال دینا کے معاملے میں بھی پیش آئی۔ جناح کے ایک دوسرے آزاد نامی ڈرائیور جو بعد میں فلم ایکٹر بن گئے  نے سعادت حسن منٹو کو بتایا کہ جناح رات کو ایک صندوق کو کھولتے  جس میں ان کی بیوی اور بیٹی سے متعلقہ چیزیں موجود تھیں۔ وہ ان چیزوں کو بہت توجہ سے دیکھتے اور ان کی آنکھیں بھر جاتیں  اور وہ ساری چیزیں صندوق میں واپس رکھوا دیتے۔

دینا کو قائد اعظم کی وصیت کے مطابق جو 1929 میں لکھی گئی تھی 2 لاکھ روپے ایک ہزار روپیہ ماہانہ دیے جانے تھے۔یہ یقینا اس وقت ایک بڑی رقم تھی جب انڈین سول سروس کے ملازمین کو بھی صرف 300 روپے ماہانہ ملتے تھے۔ البتہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ قائم اعظم نے اپنی وصیت اتنی جلدی کیوں لکھی تھی۔  جب پاکستان بنتا نظر آنے لگا تو قائم اعظم نے اپنی بیٹی کے بارے میں اپنے دوست سے مشورہ کرتے ہوئے پوچھا: حبیب  میں کیا کروں۔ دوست نے انہیں اپنی بیٹی کو خاندان سمیت چائے پر بلانے کا مشورہ دیا اور قائد اعظم نے ایسا ہی کیا۔ یہ بات میرے والد کو مسٹر رحمت اللہ نے خود بتائی تھی۔ دینا نے اس موقع کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا:

میرے والد ایک شفیق انسان تھے۔ میری ان سے آخری ملاقات 1946 کو بمبے میں ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے اور میرے بچوں کو چائے پر بلایا تھا۔ وہ ہمیں مل کر بہت خوش ہوئے۔ اس وقت دینا کی بیٹی ڈیانا 5 سال کی اور بیٹا نسلی 2 سال کا تھا۔ ہم نے بچوں اور سیاست پر باتیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بننے والا ہے۔ انہوں نے ہمارے لیے تحائف بھی خرید رکھے تھے۔ جب ہم جانے لگے تو انہوں نے نیچے جھک کر نوسلی کو پیار کیا۔ میرے بیٹے کو ان کی ٹوپی بہت پسند آئی۔ انہوں نے ٹوپی میرے بیٹے کو پہنائی اور کہا کہ تم اسے لے جاو۔ نوسلی کو آج بھی وہ ٹوپی بے حد پسند ہے۔

جب دینا کوبتایا گیا کہ دو وائسرائے ویول اور ماونٹ بیٹن قائد اعظم کو مغرور اور گستاخ قرار دیتے تھے تو دینا نے جناح کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ جارحانہ مزاج کے مالک ضرور تھے لیکن گستاخ نہیں تھے اور جارحیت بھی وہ تبھی دکھاتے جب کوئی دوسرا شخص جارحانہ مزاج میں پہل کرتا تھا۔ اس کے بعد دینا نے قائد اعظم کو دو خطوط لکھے ۔ ایک میں انہوں نے قائد اعظم کو ڈارلنگ پاپا کے نام سے مخاطب کیا اور دوسرےمیں پاکستان بننے پر مبارکباد پیش کی۔ جب 11 ستمبر 1948 کو انہیں قائد اعظم کی وفات کی خبر ملی تو وہ فورا کراچی آئیں اور اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ اس کے بعد پاکستان نے کافی عرصہ کے لیے انہیں بھلائے رکھا۔

25 دسمبر 1976 کو قائد اعظم کی 100ویں برسی پر بھٹو نے پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے  دینا واڈیا کو پاکستان کے نیو یارک مشن میں شرکت کی دعوت دی  ۔ اس موقع پر دینا واڈیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کرٹ والدیم کے ہمراہ مہمان خصوصی تھیں۔

2004 میں دینا نے اپنے کچھ بچوں کے ساتھ پاکستانی حکومت کی درخواست پر پاکستان کا دورہ کیا  اور اپنے والد کے بنائے ملک میں بہت جذباتی اور پر لطف وقت گزارا۔ انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایسا ملک بنے جس طرح کا ملک ان کے والد بنانا چاہتے تھے۔ اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے۔  

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *