بٹوارہ اور گلزار کی پرسوز نظمیں

gulzarآصف نورانی

میں شرط لگا سکتا ہوں کہ میرے بہت سے قارئین  کو یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ کِش کہاں ھوا کرتا تھا۔مجھے بھی اسوقت تک نہیں پتہ تھا جب 2011  میں مجھے پہلی انٹر نیشنل کش فلم کے فیسٹیول میں ایک جج بننے کا دعوت نامہ ملا ۔حتیٰ کہ کراچی ائیر پورٹ کی خاتون جو مجھے بورڈنگ پاس دے رہی تھیں ان کو بھی اسکا کوئی علم نہیں تھا۔

 مجھے پتہ چلا کہ یہ جزیرہ دبئی سے کچھ فاصلے پر موجود ہے جو ایران کے صوبے ہورموزگان کا حصہ ہے اور ملک کے وسط سے 20 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ امیگریشن عملہ صرف 14 دن کا ویزہ دیتا ہے جو ایران میں اور کہیں مانا نہیں جاتا۔

F27 فوکر جہاز جس میں کچھ فلم فیسٹیول میں شامل ہونے والے اور لوگ بھی تھے  ایسا لگتا تھا جیسے دریا میں اترنے والا ہو۔ جہاز کے پہیے ساحل سے  کچھ گز دور زمیں پر لگے۔ بس پر چڑھتے وقت ایک خواہش دل میں پیدا ہوئی کہ دنیا بارڈرز کے بغیر ہو جائے یا کم سے کم بارڈر پار کرنا آسان اور قانونی طور پر سہل ہو تو کیا ہی اچھا ہو۔اتفاق سے جیوری کو متاثر کرنے کے لیے دو فلموں میں سے ایک آرمینین فلم تھی جس کا نام "بارڈر" تھا۔یہ فلم سوویت یونین کے خاتمہ کے دور میں سیٹ کی گئی تھی جب یونین سے علیحدہ ہونے والی ریاستیں آزاد ریاستوں کے طور پرابھر رہی تھیں۔

ریڈ کلیف ایوارڈ کی طرح یہاں بھی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ باونڈری لائن انڈیا اور پاکستان کے بیچ بارڈر کی طرح بغیر سوچے سمجھے بنائی گئی ہے ۔ سابق سوویت یونین میں یہ بارڈر لائین دو گاؤں کے بیچ ہے جن میں ھاتھ ملانے جتنا فاصلہ ہے۔  فیملیاں تقسیم ہیں اور کہانی میں بتایا گیا ہے کہ ایک بارڈر سے لڑکا بارڈر پار گاوں کی لڑکی سے شادی کرنے والا ہے۔ اس بارڈر لائین کو نہ بنانے کی ساری صدائیں ان سنی کی گئیں اور اس پر ستم یہ کہ ان لائنوں کے بیچ مائینز بھی بچھا دی گئیں تاکہ کوئی بارڈر پار کرنے کی ہمت بھی نہ کرے۔ ایک دن یہ تاریں دی گئیں تاکہ  دلہا والے پار جا سکیں ۔ شادی دھوم دھام سے ہوئی اور دلہن لے کر مہمان گھر آ گیے۔ ایک آدمی نے غیر دانستہ طور پر مائن پر پاؤں رکھ دیا اور اس لیے نہیں اٹھایا کہ بم پھٹ گیا تو سب مر جایئں گے اور جب آخری مرد بھی ایک محفوظ فاصلے پر چلاگیا تب اس نے اس امید سے پیر اٹھایا کہ شاید ایسا نہ ہو پر اس کے جسم کے ان گنت ٹکڑے فضاء میں پھیل گئے۔

بارڈر کی تعریف اگر ایک لفظ میں کی جائے تو وہ ہے اس کا سفاک ہونا۔ ایک لاہوری آرٹسٹ جس کا کچھ سال پہلے میں نے انٹر ویو لیا تھا نے بتایا کہ اس کا آبایئ گھر1947 میں  کسی جگہ پنجاب میں نئے بارڈر کے بننے سے ختم ہو گیا۔

اس کا سامنے کا گیٹ پاکستان میں کھلتا تھا اور پچھلا گیٹ انڈیا میں۔ سامنے کا گیٹ وہ مہمانوں کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ : "میری ماں جب جا سکیں بارڈر پر جاتیں اور اس گھر کو حسرت سے دیکھا کرتی تھیں "۔ ان آرٹسٹ کا نام مجھے یاد نہیں آ رہا اور وہ تین اور آرٹسٹ کے ہمراہ کراچی میں VM آرٹ گیلری میں اپنے کام کی نمائش کے لیے آئی تھیں۔

ایک بارڈر جس سے میں بہت متاثر ہوا وہ ڈیٹریوریٹ  دریا تھا جو ایک تنگ پانی کا نالہ تھا اور جو ونڈسر  ، ایک چھوٹے کینیڈین قصبے اونٹریو، اور امریکہ کے بڑے شہر میچیگن کو الگ کرتا ہے ۔

بہت سے مہاجر ہماری دنیا کے حصے سے بھی  ونڈسر کے قدرے سستے علاقے میں رہتے ہیں لیکن کام وہ ڈیٹریوریٹ میں یا اس کے ارد گرد کرتے ہیں۔ تو وہ لوگ ہر روز پانی کے نیچے کا سرنگ والا راستہ یا بڑا پل استعمال کرتے ہیں ۔ اتفاق سے جب میں اپنے لیپ ٹاپ پر بارڈر کے بارے میں اپنے خیالات لکھنے والا تھا تو در وازے کی گھنٹی اور کورئیر بوائے نے مجھے Footprints on Zero Line کتاب جو تقسیم پرپبلیشر ہارپار کالین نے  لکھی تھی کی اعزازی کاپی دی۔

اس کتاب میں گل زار کی نظموں کا مجموعہ اور تقسیم ہند اورنئے بنائے گئے بارڈر  پر چھوٹی کہانیاں تھیں جو انہیں تقسیم ہند کا واقعہ بھولنے نہیں دیتیں۔ ان کہانیوں کا رخشندہ جلیل نے ترجمہ کیاجنہوں نے سارے اردو کے قیمتی جواہر کابھی  انگریزی میں ترجمہ کیا۔گلزار جو کہ انڈین شاعر، فلم میکر، سکرپٹ اور مکالمہ نگار اور مصنف ہیں ۔ اور آسکر ایوارڈیافتہ  لیریسسٹ بھی ہیں۔ وہ  دینا میں پیدا ہوئے جو جہلم کے قریب ایک چھوٹا ٹاؤن ہے اور  پاکستان  میں واقعہ ہے جو انہیں چین کی زندگی جینے نہیں دیتا۔

ایک کہانی میں انہوں نے کلدیپ نئیر کے ساتھ زیرو لائن کے دورہ کی روداد لکھی ہے ۔کلدیپ کو بھی 1947 میں پاکستان چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔

ان کی ایک نظم میں انہوں نے لکھا کہ وہ تقسیم کرنے والی لائین پر کھڑے تھے تو ان کا عکس پاکستان کی زمین پر پڑرہا تھا۔ انہوں نے اس درخت کو بھی بیان کیا جس کی جس کا تنا مشکل سے کچھ قدم انڈیا کی طرف تھا لیکن اس کی شاخیں اور جڑیں بارڈر کے دونوں اطراف تھیں۔ اور افسوس کے اس درخت کو ان  بیٹھنے والوں  کی جگہ بنانے کےلیےانڈیا والوں نے کاٹ دیاجو جھنڈا اتارنے کی تقریب دیکھنے آتے ہیں۔گلزار پاکستان کو اپنا وطن اور انڈیا کو  اپنا ملک کہتے ہیں۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں آنکھوں کو ویزہ کی اور خوابوں کو بارڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

 ایک شاندار نظم میں وہ اس پاگل آدمی کا تذکرہ کرتے ہیں جو  مونٹو کی تاریخی  کہانی ٹوباٹیک سنگھ میں بیشان سنگھ کے نام سے موجود ہے اس نے بارڈر پار کرنے سے انکار کیا  اور لگاتار وہیں کھڑا رہا۔ اور پھر اس کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے وہیں بارڈر پر اپنی جان دے دی۔

 گلزار اس نظم کا اختتام اس لائین پرکرتے ہیں کہ بشن ہر روز واہگہ بارڈ ر آتا ہے  اور بھارت اور پاکستان دونوں کو بد دعا دیتا ہے۔ وہ اپنی آخری لائن میں یہ بے ڈھنگ جملہ بولتے ہیں: "اوپر دی گر گربدی مونگ دی دال دی لالٹن"۔

"راوی پار "  ایک دل دکھانے والی گلزار کی چھوٹی کہانیوں میں سے کہانی ہے۔اس میں انہوں نے لکھا کہ ایک جوڑا اپنے نومولود جڑواں بچوں کے ساتھ آہستہ چلتی ٹرین پر سوار تھا۔ایک بچہ سفر کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا لیکن ماں نے دوسرے کے ساتھ ویسے ہی اسے سینے سے لگائے رکھا۔ جیسے ہی راوی کو پار کرنے والے پل پر ٹرین آئی تو باپ درشن سینگھ کو ہم سفر لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس بچے کو دریا میں بہا دوتو ان کے لیے زندہ بچے کی دیکھ بھال آسان ہو جائے گی۔ درشن سنگھ کو یہ بات معقول لگی اور جلد بازی میں اپنے زندہ بچے کو دریا میں گرا دیا۔

تقسیم کے وقت  مسلمانوں، ہندووں اور سیھکوں پرکیے گئے ظلم پر مبنی بہت سی کہانیاں پنجابی ،اردو، اور ہندی میں لکھیں گئیں جن میں اختتام بارڈر کو پار کرنے کے دوران یا اموات پر ہوتا تھا لیکن گلزار ان سے دو قدم آگے رہے۔  انہوں نے اور بہت سارے مسائل بیان کیے جو مہاجر سفر میں یا کیمپوں میں سہتے ہیں  ۔ اور کس طرح کچھ مقامی لوگ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور ان کے آنے والے ناول "ٹو"میں انیوں نے دو بہنوں کی کہانی بہت دلدوز انداز میں بیان کی ہے۔ رخشندہ جلیل نے چار تقسیم کے بعد کے واقعات پر مشتمل کہانیاں بھی شامل کی ہیں۔

ایک کہانی جو بھارتی ہندو نے بیان کی ہے جس میں انہوں نے کشمیر کےدورہ کی روداد بیان کی ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ خاتون ہندستان ٹائمز کی  رپورٹر ہیں اور کم عمری کے دور میں تجربات سے رنجیدہ ہیں۔ ان کے غیر کشمیری ماں باپ انہیں سیر پر لے گئے تھے ۔سب بدل گیا اور کشمیرپر  قبضہ ہو گیا ۔ انڈین فوجی درندوں جیسا سلوک کر رہے تھے وہ دہلی واپس آئیں تو بہت دل برداشتہ تھیں ۔

 اردو مصنف جوگیندر پال اور گلزار کے مکالمات اس ۔والیم کو اور  انمول بناتے ہیں ان دونوں لکھاریوں کو بارڈر پار ہجرت کرنا پڑی تھی۔   On the Partition of India 1947 میں اس موضوع پر لکھے گئے ادب پر بحث کی گئی ہے۔  اس میں مونٹو اور کرشن چندرجیسے  مصنفین کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ۔رخشندہ جلیل نے بھی اپنے  اختتامی نوٹ میں گلزار کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ گلزار  جو کہ تقسیم ہند سے پہلے کے مصنف ہیں کے سابقہ واقعات کے علم سے انہیں بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ جو لوگ دیوانگری سکرپٹ سے واقف ہیں اور بھارتی مصنفین کے شاہکار کا مطالعہ کر سکتے ہیں  انہیں گلزار جیسے مصنفین کے قارئین پر فوقیت حاصل ہے۔

رخشندہ جلیل نے نظموں کے الفاظ کی حرکات پر بھی کام کرنے کا سوچا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ تحاریر کو اردو میں شائع کیا جائے گا  اور یہ کتاب گلزار کے پسندیدہ پبلشنگ ہاوس مکتبہ دانیال کی طرف سے شائع کی جائے گی۔

کاش کہ گلزار اس کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہو پاتے۔وہ زیرو لائن کو دوبارہ کراس کر سکتے۔پچھلی دفعہ جب وہ پاکستان میں تھے تو وہ پہلے  دیناپہنچے اور لاہور میں ایک گانا حسن ضیاء کی فلم کے لیے  ریکارڈکروایا۔

چار سال قبل انہوں نے کراچی آنا تھا اور ان سے خاکسار نے انٹرویو لینا تھا لیکن اچانک کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر وہ بارڈر لائن کراس کر گئے اور واپس ہندوستان چلے گئے۔ یہ بہت بڑا خسارہ تھا جس کا مجھے آج بھی افسوس ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *