پوٹن کی شکل میں روس کو نیا زار مل گیا

پہلی بار صدر بننے کے 17 putin as tsarسال بعد پیوٹن کی روس پر گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ مغرب جو روس کوسویت یونین کی طرح ہی دیکھتا ہے  اب پیوٹن کو سٹالن کے بعد سب سے طاقتور لیڈر سمجھنے لگا ہے۔ روس اب تاریخ کے شروع کے دنوں کو یاد کر رہا ہے۔ دونوں آزاد خیال اور قدامت پسند روایتی لوگ پیوٹن کو 21 صدی کے ستارے کے طور پرتزکرہ کر رہے ہیں۔

 پیوٹن نے یہ خطاب 1990کی بے ترتیبی کے بعد ملک کو پھر سے کھڑا کرنے اور دنیا میں عزت کے قابل بنانے پر جیتا ہے۔ جیسے جیسے اکتوبر انقلاب کی تاریخ قریب آ رہی ہے ایک بے چینی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ یہ خیال ہے کہ پیوٹن کے اندر کچھ کمزوریاں بھی ہیں۔

اگرچہ مسٹر پیوٹن "رنگ" انقلاب کے بارے میں پرہشان ہیں جو سابق سوویت یونین پر اپنا اثر دکھا چکا ہے لیکن زیادہ بڑا خطرہ کسی بغاوت سے نہیں  ہے۔ بلشیوک رویہ کے لوٹنے سے تو یہ خطرہ کم ہی ہے۔ ایسا ہے کہ 2018 کی بہار میں جب مسٹر پوٹین اپنے آخری دور کےلیے الیکشن لڑیں گے اور یقین کیا جا رہا ہے کہ وہ جیت بھی لیں گے اس کے بعد مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو جائیں گی۔ یہ خوف پھیل جائے گا کہ دوسرے روسی لیڈرز کی طرح پیوٹن کو بھی برے حالات اور بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مسٹر پوٹین دنیا کے آخری خود مختار بادشاہ نہیں ہیں ۔ آمرانہ حکمرانی پوری دنیا میں پچھلے 15 سال سے پھیل رہی ہے  جیسا کہ مسٹر پوٹین بے بنیاد جمہوریت کی بات کر کے سازبازی کے ذریعے فتح یاب ہو رہے ہیں۔ یہ اس فتح پر ملامت ہے جو سویت یونین کو مٹانے کے بعد فتح تصور کی جاتی ہے۔

ترکی کے طیب اردوگان، ونزویولا کے مرحوم ھوگو شاویز اور نرندرہ مودی انڈیا کے پرائم منسٹر  ایسا رویہ دیکھا رہے ہیں جیسا کہ وہ عوام کی طرف سے دیے گئے اقتدار اور طاقت  سے بھر پور طریقے سے لطف اندوزہو رہے ہیں۔ Xi جنپنگ نے چین میں اس ہفتے اپنے کمیونسٹ پارٹی کے  اقتدار  کو فارملائز کرنے کا عمل مکمل کیا۔

مسٹر پیوٹن کے آمریت برانڈ نے اپنا راستہ بنایا ۔اس سے روس کی شاہانہ تاریخ جاگ اٹھی  اور ایسی تصویر پیش کی جس سے معلوم ہو کہ طاقت کیسے کام کرتی ہے اور کیسے معاملات کو بگاڑ بھی سکتی ہے۔

2001 میں جب وہ اشرافیہ کے مخالف تھے، تب سے اب تک پہلے انہوں نے میڈیا پر قابو پایا اور پھر تیل اور گیس  کمپنیوں پر۔ طاقت اور پیسے تک رسائی صرف انہی کے زریعے ممکن تھی۔ بائیرز ان کی مرضی پر چلتے ہیں ویسے ہی جیسے ان کے نیچے کے لوگ ان کی خوشامد کرتے اور ان کی مرضی پر چلتے ہیں۔ انہوں نے اپنی طاقت کو قانون میں بند کر دیا ہے لیکن سب کو پتہ ہے کے وکلا اور کورٹ ان کے سامنے جواب دہ ہیں۔ وہ تمام فیصلوں کی منظوری پر 80 فیصد اختیار رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے روسی عوام کو قائل کر لیا ہے کہ " اگر پوٹین نہیں تو روس نہیں"۔ ستارے کی طرح، انہوں نے  بھی اس  سوال کا سامنا کیا  جس نے ملک کے حکمرانوں کو پیٹر دی گریٹ کی حکومت سے اب تک مشکل سے دوچار کیے رکھا اور جن مسائل کا الیگزینڈر تھری اور نیکولاس 2 نے انقلاب کے دوران سامنا کیا۔

 کیا روس کو مغربی سول اور نمائندہ حکومت کی راہ پر چلنا چاہیے  یا ان کے خلاف ہو کر ان کو اپنا استحکام کا سفر جاری رکھنا چاہے۔ مسٹر پیوٹن کا جواب اس چیز میں پوشیدہ ہے کہ معیشت کا کنٹرول لبرل ٹیکنوکریٹس کو دیا جائے اور سیاست کے معاملات سابقہ کے جی بی آفیسرز کےحوالے کیے جائیں۔ لا محالہ سیاست نے ہمیشہ معیشت پر برتری حاصل کیے رکھی اور روس نے اس کی قیمت چکائی۔

پابندیوں کے دوران چاہے جتنے بھی اچھے طریقے سے معاملات کو دیکھا جائے، معیشت کا زیادہ  تر اںحصار قدرتی وسائل پر ہی ہے۔ ملک کی سالانہ جی ڈی پی صرف 2 فیصد کے آس پاس تک محدود ہے جو 2000-08 سے کہیں زیادہ پیچھے ہے۔ یہ امر روس کی طاقت کی دوڑ کو بہت مشکل بنا دے گا۔

ایک بادشاہ کی طرح ، مسٹر پیوٹن نے اپنی طاقت کو جبر اور فوجی تنازع سے طوالت دی۔ اپنے ملک میں انہوں نے استحکام، رسم و روا، مذہب،  جیسے اہم معاملات کے ذریعے اپنے مخالف سیاستدانوں پر قابو پایا اور سوشل لبرل حضرات کے ساتھ ساتھ فیمنسٹ، این جی او اور ہم جنست پرست تنظیموں کوبھی شکست دی۔ ۔ بیرون ملک ان کے کریمیا کے الحاق اور شام اور یوکرائن میں جاری مہم کی وجہ سے وہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ چاہے جتنا بھی جواز بخشا جائے، مغرب غصہ جائز ہے کہ کیسے 1990 کی ذلت کے بعد روسی صدر اپنی طاقت کا گھمنڈ دکھا رہے ہیں۔

پوسٹ ماڈرن سٹارپیوٹن دنیا کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ ایک سبق تو روسیوں کی دھمکیوں میں پوشیدہ ہے۔ جب سے یوکرائن میں مداخلت شروع ہوئی ہے، مغرب کو روس کے دوسری ریاستوں پر حائل ہونے کے خطرات کا اندیشہ رہا ہے۔

مسٹر پیوٹن جانی نقصان اور قانونی حثیت کھونا برداشت نہیں کر سکتے ۔ جیسا کی نیکولاس 2 کے ساتھ روس  جاپان  کی جنگ  میں 1904-05 کے بیچ اور پہلی جنگ عظیم میں  ہوا۔ کیوں کہ آج کے سٹار کو تاریخ کا پتہ ہے، بجائے حقیقی محاذ آرائی  کے رسک کے وہ بیرونی دنیا میں موقع پرست بننا چاہیں گا۔گھر پر حالات کچھ اور ہیں۔ اپنے اقتدار میں مسٹر پیوٹن نے سخت گیری کی بھوک دکھائی ،لیکن روس کی خوفناک تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں حکمران کی حثیت کمزور ہو وہاں جبر حکومت کو مضبوط کرنے میں کام آتا ہے۔کم سے کم کچھ وقت کے لیے۔ روسی عوام کے پاس اب بھی ڈرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

دوسرا سبق  جانشینی کا ہے ۔ اکتوبر انقلاب کے ذریعے جس طرح روس میں اقتدار ایک حکمران سے دوسرے کو منتقل ہوا اس کا نتیجہ سامنے ہے۔  پوٹین اپنی جانشینی اپنے خون کے رشتہ دار یا چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طرز پر مقرر نہیں کر سکتے۔ شاید وہ جانشین مقرر کر دیں۔ لیکن انہیں کوئی اتنا  کمزور جانشین چاہیے ہو گا جس کو وہ قابو کر سکیں اوروہ اتنا مضبوط ہو کہ  مخالفین سے نمٹ  سکے۔ایک  شخص کے اندر یہ دونوں خوبیاں ہونا ناممکن ہے۔ شاید وہ اقتدار سے ہی جڑے رہیں جیسا کہ ڈینگ شیوپنگ نے کیا جو چین کے China Bridge Association کے صدر ہیں۔ انہوں نے اس ہفتے کی کانگرس پارٹی میں واضع طور پر جانشین کا نام لینے سےاحتراز کیا ۔ اگر مسٹر پیوٹن روسی جوڈو فیڈریشن کے eminence griseبن جاتے ہیں تو بھی خوفناک لمحے کے آنے میں صرف تھوڑی تاخیر ہی ہو سکتی ہے۔ اصلی جمہوریت کی عدم موجودگی میں روس میں نئے آنے والے لیڈر ایسی  طاقت کی لڑائی کی وجہ سے نمودار ہوں گے جو روس کو بکھیر کر رکھ دے گی۔ ایک ایٹمی طاقت کےلیے یہ ایک بہت خطرناک بات ہے۔  جتنے مضبوط آج صدر پیوٹن ہیں اتنی ہی مشکلات ان کو اپنے جانشین کی تلاش میں پیش آئیں گی۔ اس تضاد کے ساتھ رہنے کی کوشش کرنے والی اس دنیا کو یاد رکھنا ہو گا کہ کوئی بھی چیز پتھر کی لکیر نہیں ہوتی۔ ایک صدی قبل بولشیوک انقلاب کو مارکس کے خیالات کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں ثا بت ہوا کہ تاریخ کسی بھی وقت اپنا رخ موڑ سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *