شاعر بے مثال جون ایلیا کو بچھڑے 15 برس بیت گئے

شاعر بے مثال جون ایلیا jaun aliaکو بچھرڑے 15 برس بیت گئے لیکن ان کی یادیں، ان کی بے خودی، انتہائی منفرد لہجہ اور غزلیں بے شمارلوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

8 نومبر 2002 کوجون ایلیا کی زندگی کا سفر تو ختم ہوگیا لیکن نثر و نظم کی صورت میں ان کی تحریریں اور شاعری آج بھی پڑھنے والے کو سرشار کردیتی ہیں۔

جون ایلیا کو اقدار شکن، منفرد اور باغی کہا جاتا ہے۔ ان کا حلیہ، طرزِ زندگی اور زندگی سے لاابالی رویے بھی بتاتے ہیں کہ وہ باغی بھی تھے اور اقدار شکن بھی لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اس طرزِ زندگی کو اپنے فن کی شکل میں ایسے پیش کیا کہ شخص اور شاعر ایک ہوگئے۔

ان کا باغیانہ رویہ ہر جگہ نظر آتا ہے وہ اپنی شاعری میں ایسے سوال اٹھاتے ہیں جو شاید پہلے نہیں اٹھائے گئے۔

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ

مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا؟

جون ایلیا کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے کسی حد تک نظرانداز رومانوی مضامین کو دوبارہ اپنی غزل کا موضوع ضرور بنایا لیکن وہ روایت کے رنگ میں نہیں رنگے بلکہ انھوں نے اس قدیم موضوع کو ایسے منفرد انداز سے برتا کہ ان کی آواز پرانی ہونے کے ساتھ ساتھ بیک وقت نئی بھی محسوس ہوئی۔

کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جُو ہوں میں

کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

جون ایلیا کے موضوع، انداز اور اسلوب کے لحاظ سے بھی چونکا دینے والے ہیں ۔ انہوں نے جو بے تکلفانہ اور لاگ لپٹ سے پاک انداز محبوب سے اپنا رکھا تھا، دوسرے موضوعات کو بھی اسی طرح برتا ہے۔

اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر

کاش اس زباں دراز کا منھ نوچ لے کوئی

وفا کے ذکر پر یوں بھڑک جانے والے جون ایلیا کے انتقال کو 15 برس بیت چکے ہیں لیکن ان کی شاعری، غزل اور تحریریں ہمیشہ ذکرِلب ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *