میں ایک امریکی پروفیسر ہوں مگر مجھے یو اے ای میں داخلے سے روک دیا گیا، شیعہ سنّی مسئلہ؟

MUHAMMAD BZAAIمحمد بازی

اکتوبر 2007 میں نیویارک یونیورسٹی نے متحدہ  عرب امارات  کے شہر ابو ظہبی میں ایک پورٹل کھولنے کا علان کیا۔, N.Y.U کے پریزیڈنٹ اور پراجیکٹ چیمپئن  جان سیکسٹن نے وعدہ کیا کہ یہ نئی برانچ  تعلیمی اور آزادی کے معیار کے  لحاظ سے بلکل نیو یارک  کیمپس جیسی ہو گی۔

دس سال بعد ، مسٹر سیکسٹن کا یہ وعدہ بلکل بے کار ثابت ہوا ۔میں امریکن شہری ہوں اور N.Y.U. مین کیمپس میں  پروفیسر ہوں  اور میں جرنلزم پڑھانے کے لیے بھرتی ہوا تھا۔

لیکن سمیسٹر شروع ہونے سے  کچھ ہفتے پہلے N.Y.U کے ایڈمنسٹریٹر نے مجھے بتایا کہ  متحد عرب امارات  گورنمنٹ نے سیکیورٹی کلیرنس کے لیے انکار کر دیا جو کہ وہاں ٹیچنگ کرنے والے ہر فرد کےلیے ورک ویزا کےلیے بہت ضروری ہے ۔ اس کے لیےیونیورسٹی نے  درخواست بھی کی جو امارات سکیورٹی آفس والوں نے  بغیر کوئی وجہ بتائے رد کر دی۔ایسا وہ عام طور پر نہیں کرتےاور امریکن شہری کو U.A.E میں کام کرنے کے لیے ورک ویزہ مل جاتا ہے۔

 مجھے کیوں منع کر دیا گیا؟ میں لبنان میں پیدہ ہوا   اور اہل تشیع طبقہ سے تعلق رکھتا ہوں ۔ U.A.E.,بھی سعودی عرب اور دوسری سنی عرب حکومتوں کی طرح ایران کے علاقائی عروج  اور اس کےشام ، اعراق، لبنان اور یمن پر  اثر و رسوخ سے پریشان ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کوئی شیعہ سکیورٹی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے اور اس کا تعلق ایران یا اس کےاتحادیوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

U.A.E. سکیورٹی کلیرنس فارم میں مذہب اور فرقے  کا بتانا ضروری ہے اور N.Y.U. کی لکھی ہدایات کے مطابق کوئی ان تفصیلات کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔یونیورسٹی آفس والوں نے مجھے ابھی بتایا کہ  وہ ابھی بھی میرا سیکیورٹی کلیرنس انکار نامہ واپس بھیج رہے ہیں تاکہ کلیرنس ہو جائے۔ لیکن میرے ابو ظہبی پراجیکٹ میں تجربے کی وجہ سے مجھے کامیابی کی بلکل  امید  نہیں ہے۔ 2012-2013 میں  جب میں نے ایک ماہ جنرل ازم کی کلاس اببوظیبی کیمپس میں پڑھائی تو محسوس ہوا مذہب میں تفرق کے اثرات پہلے ہی ہیں۔ N.Y.Uایڈ منسٹریٹر نے بتایا  کہ سکیورٹی  کلیرنس  میں دشواری میرے شیعہ ہونے کی وجہ سے ہے اور دو بار میری درخواست رد ہو کر واپس آ گئی ہے۔  انہوں نے رستہ نکالا کہ وہ مجھے  ٹورسٹ ویزہ پر بھیجیں گے اور  کنسلٹینٹ کے طور پر متعارف  کروایں گے۔ میرا نام پبلک نصابی مواد  کے اسٹرکٹر کے طور پر لسٹ میں نہیں ڈالا گیا۔ میں نے کلاس اپنی بیوی  جسے کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ وہ ایک  امریکن شہری ہے اور اس کے اباؤاجدا یورپین ہیں ،اس  کے ساتھ پڑھائی  ۔دو سال  کئی یونیورسٹیوں نے میرا کیس حل کرنے کا دعوی کیا۔ لیکن وہ  بھی حل نہیں کر پائے۔شاید مجھے اصل بات نہیں پتہ لیکن لگتا ہے کہ ابوظہبی میں  N.Y.U ایڈمنسٹریٹر  اپنے اماراتی پارٹنرز کے ساتھ اس کیس پر یا  عام طور پر شیعہ مسئلے پر محدودسیاسی سرمایہ خرچ نہیں کرنا چاہتے ۔

ابو ظہبی کی گورنمنٹ ، جس کے سیکیورٹی آلے نے  میرا سیکیورٹی کلیرنس  فرقے کی بنا پر رد کیا ہے   جس کے مطابق شیعہ فرقے کا پروفیسر  سیکیورٹی کلیرنس رد ہونے کی وجہ سے  ابو ظہبی کیمپس میں نہیں پڑھا سکتا نے  N.Y.U کیمپس کی پلانگ اور تعمیر کے لیے فنڈ دیا ہے ۔ اس سے قبل ایک دوسرے امریکی شیعہ پروفیسر کو بھی سکیورٹی کلیرنس نہیں ملی تھی ۔ یونیورسٹی لیڈر شپ نے یہی شک ظاہر کیا تھا  خاص طورپر اس وقت جب یہ کیمپس ایک شاہی ریاست میں بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یونیورسٹی نے ابو ظہبی کے ساتھ تب پارٹنر شپ کی تھی جب سن   2000 کے بیچ تیل کی آمدنی کی بھرمار تھی  اور امارات لیڈر خاص طور پر کراؤن پرنس  اور حقیقی حکمران محمد بن زید  ثقافتی اور قانونی جواز خریدنےنکلے تھے ۔ ابوظہبی نے ادبی فیسٹیول  میں انعامات کے لیے اور ترجمہ کے پروجیکٹس اورعجائب گھروں اور یونیورسٹیوں کے لیے فنڈ دیے تھے۔

لیکن  مقبول بغاوت علاقے میں پھیل گئی، شاہی خاندان کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آنے لگا۔ اس حالت میں انہوں نے کچھ جارحانہ پالیسیاں اپنانا شروع کیا جس کے تحت سکیورٹی پالیسی میں  کلچر کو نظر انداز کر دیا گیا۔ مارچ 2011 میں بغاوت ملک بھر میں پھیلنے لگی  100  سے زائد یو اے ای ایکٹوسٹ حضرات نے الیکشنز  اور انقلاب کے لیے ملک کی  ناکارہ پالیمنٹ کےلیے نئے سرے سے انتخابات کی اپیل کی ایک پٹیشن پر دستخط کیے ۔ اور کئی دستخط کرنے والوں پر کیس کیا گیا، ان کی شہریت رد کر دی گئی یا ان کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اس دوران اساتذہ اور تعلیم سے تعلق رکھنے والے ملازمین بھی محفوظ نہ رہے۔ 2012 کی گرمیوں میں مٹ ڈفی جوزید یونیورسٹی میں  ایک جرنلزم کے پروفیسر  تھے ان کو نکال دیا گیا اور U.A.E چھوڑنے پر زور دیا  کیوں کہ انہوں نے میڈیا پرروک ٹوک پر تنقید کی تھی۔

مارچ 2015 میں اینڈرہو روز N.Y.U پروفیسر تھے اور لیبر کے مسئلوں میں  مہارت رکھتے تھے لیکن معلوم نہیں کیوں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر  سفر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ۔

مسٹر روز صاف گوناقد  اور خاص طور پر تارکین وطن کے غلط استعمال  پر بولنے والے ابوظبہی یونیورسٹی پروجیکٹ کے پروفیسر   تھے انہوں نے فیصلہ کیا کی وہ اپنی بہار کی چھٹیاں لیبر کے حالات پر سرچ کرنے میں گزاریں گے۔ یونیورسٹی کا انداز ڈرپوک اور   سرد تھا۔ انہوں نے کہا کہ "گورنمنٹ مہاجروں کی پالیسی اور ویزہ کنٹرول کرتی ہے نہ کہ یونیورسٹی۔"

یونیورسٹی اور دوسرے مغربی تعلیمی اور ثقافتی ادارے ،بشمول سوربون، لاور، اور  گجنیہم عجائب گھر کی نئی برانچیں کھولنے کے وعدے جو ابو ظہبی حکومت نے کیے تھے حقیقت میں بدل نہین پائے۔

افسوس کی بات ہے کہ جب یہ پراجیکٹ شروع ہو ا تو میں نے اس کی حمایت کی تھی  اور میں اس کی کامیابی کا خواہش مند تھا۔ اب بھی مجھے لگتا ہے کہ یہ پراجیکٹ محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں دنیا بھر کے 100 ممالک سے بہت سے قابل طلبا سکالرشپ پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔  

جب N.Y.U. کی پہلی لیڈر شپ کا اعلان ہو تو کچھ شاگرد  استاد اور  ٹرسٹیز کو شک تھا کہ U.A.E یہودیوں ،  ہم جنس پرستوں اور دوسرے  قابل اعتراض  گرہوں کو داخلے نہیں دے گی۔ لیکں یہ سب خدشات پرانے گلف حکومت کے نظریات  اور اس کے ڈر  پر مبنی تھے۔

ابھی بھی پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے اور ابو ظہبی  ایران کے علاقائی اثرات کو سکیورٹی کا سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ اور گلف لیڈرز کی نظر میں ہر طرف  ایران کا خطرہ  اور عربی اور فارسی شیعے  اگر وہ امریکی شہری بھی ہیں تو  ممکنہ پانچویں کالم  کی حیثیت رکھتے ہیں جو  ایران کے مفاد کے لیے  ان کے معاشرے میں گھسنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

 N.Y.U آفس کے نمائندوں نے  ابوظہبی کے  معاہدے کی  بہت محدود تفصیلات  مہیا کیں ۔ اور تسلیم کیا کہ امارات نے 50 ملین ڈالر دیے تھے جس پر مسٹر سیکسٹن نے  معاہدے کی ہامی بھر لی۔. N.Y.U ایڈمنسٹرز نے  فیکلٹی کمیٹی کو سارا ڈیٹا مہیا کیااور دکھایا کہ 2009سے2016 تک  ابوظہبی  حکام نے 97 ٪ شاگردوں، فیکلٹی ممبران اور سٹاف کی  ویزوں کی درخواستیں  منظور کر لی  تھیں۔ اس ڈیٹاکے مطابق  863  میں سے صرف 10 فیکلٹی  افسران کی درخواستیں  نامنظور ہوئی تھیں۔  اگر N.Y.U ابو ظہبی کی خیرات لیتا رہا تو اسے   ان حدود کا بھی خیال رکھنا پڑے گا جو سکیورٹی حکام کی طرف سے تعلیمی آزادیوں پر لگائی جاتی ہیں۔

سب سے آخر میں ، یونیورسٹی کو چاہیے کے وہ مان جائے کہ  یہ   سیاسی مفاد کے تحت ایک مذہبی اقلیت کو حق سے محروم کر رہی ہے۔  اور اس کی وجہ ایرانیوں کا  ڈر اور  شیعوں سے  نفرت ہے۔ اور یہ سب لوگوں کی آزادانہ تحریک اور  نظریے سے کوسوں دور ہے جس کی  N.Y.U لیڈرز  آرزو رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *