پشاور: ’کمرشل گاڑیوں پر خواتین کی فحش تصویریں لگانے کا چلن عام‘

پشاور میں کمرشل ٹرانسپورٹ اور بالخصوص رکشوں کے پیچھے فلمی اداکاروں کی تصویریں، فلمی پوسٹر اور اشتہار لگانے کا چلن تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔

ان پوسٹرز میں مختلف سگریٹ کمپنیوں کے اشتہارات بھی شامل ہیں جنھیں تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن پشاور کی ٹریفک پولیس نے ان تصویروں اور اشتہارت کے خاتمے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ دس روز پر مشتمل اس مہم کو پیر کو شروع کیا گیا جس میں شہر بھر میں کمرشل گاڑیوں اور رکشوں کے پیچھے لگے ہوئے فلمی پوسٹرز اور سگریٹ کے اشتہارات کو ہٹایا جا رہا ہے۔

پوسٹروں کے خلاف پولیس مہم

اس مہم میں شامل پشاور ٹریفک پولیس کے ایک انسپکٹر ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے پشاور میں کمرشل گاڑیوں پر ’خواتین کی فحش تصویریں اور فلمی پوسٹر لگانا عام ہوتا جا رہا ہے جس سے معاشرے اور بالخصوص نوجوانوں اور بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات پڑ رہے تھے‘۔

انھوں نے کہا کہ فلمی پوسٹروں پر بیشتر ایسی اداکاراؤں کی تصویریں ہوتی ہیں جس میں وہ ہاتھوں میں بندوق تھامے ہوئے یا قابل اعتراض لباس میں رقص کرتے ہوئے یا سگریٹ پیتے ہوئے نظر آتی ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق شہر کے تمام سڑکوں اور گلیوں میں پیر سے ٹریفک پولیس کے اہلکار اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں اور ایسی تمام گاڑیوں کو چیک کیا جا رہا ہے جن پر یہ قابل اعتراض تصویریں چسپاں ہیں۔

ذوالفقار احمد کا مزید کہنا تھا کہ گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو پہلے رضاکارانہ طور پر ’فضول قسم کی تصویریں ہٹانے کا کہا جاتا ہے اور اگر وہ پھر بھی باز نہیں آتے تو پھر انھیں چالان کر کے جرمانہ کیا جاتا ہے‘۔

پشاور شہر میں کمرشل گاڑیوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ ان میں آٹو رکشوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو شہر میں ہر سڑک پر نظر آتے ہیں۔

پوسٹروں کے خلاف پولیس مہم

ٹریفک پولیس کے مطابق پشاور میں 70 ہزار کے قریب رکشے موجود ہیں، ان میں 20 ہزار کے قریب غیر قانونی رکشے بھی چل رہے ہیں جن کے پاس حکومت کی طرف سے باقاعدہ اجازت نامہ موجود نہیں۔

یونیورسٹی روڈ پر ایک رکشہ ڈرائیور محمد عارف کو ٹریفک پولیس اہلکاروں نے روکا ہوا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ ان کے رکشے پر فلمی پوسٹر کیوں لگایا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ یہ رکشہ ان کا اپنا نہیں بلکہ مالک کا ہے اور پوسٹر بھی مالک نے لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر ڈرائیور سواریوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے رکشوں کے پیچھے لڑکیوں کی تصاویر یا پوسٹر لگاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈرائیوروں کو ان اشتہارات لگانے کے پیسے بھی نہیں ملتے لیکن وہ پھر بھی ان کو لگانا پسند کرتے ہیں۔ محمد عارف کے مطابق بعض نوجوانوں کو فلمیں اور اداکاروں کے پوسٹر دیکھنے کا شوق ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی رکشے پر لگا ہوا ہے تو اس طرف جاتے ہیں جس کی وجہ سے کبھی ان کو سواری بھی مل جاتی ہے۔

پوسٹروں کے خلاف پولیس مہم

ان کمرشل سواریوں پر بندوقوں اور دیگر اسلحے کی پینٹنگز بھی بنائی گئی ہیں جو مستقل طور پر گاڑیوں کی خوبصورتی میں شمار کی جاتی ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے بیشتر پینٹنگز کے اوپر کالے رنگ کا سپرے کر دیا ہے۔

پشاور صدر کے ایک باشندے اور مسلم لیگی رہنما زبیر الٰہی کا کہنا ہے کہ بندوقوں اور سگریٹ کے اشتہارات عام کرنا ایسا ہی ہے جسے نوجوانوں کے اخلاقی معیار خراب کرنا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام بندوق کلچر کی وجہ سے پہلے ہی بڑی قربانی دے چکے ہیں لہٰذا ایسی اشتہاروں پر نہ صرف فوری پابندی ہونی چاہیے بلکہ خلاف وزری کرنے والوں کے خلاف کاروائی بھی کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ان اشتہارات اور تصاویر پر پابندی لگانا اچھا اقدام ہے لیکن اس کو پہلے شروع کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ سلسلہ شہر میں کئی برسوں سے جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *