نواز شریف کو جھکانے کی بے کار کوششیں

عبید پاشا

ایسا لگتا ہے آج کل اسٹیبلشمنٹ کسیobed pasha حد تک دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ پچھلے دس برسوں کے دوران داخلی اور خارجی واقعات نے ’’ڈیپ سٹیٹ‘‘ کا کنٹرول اس حد تک گھٹا دیا ہے کہ وہ اپنی قوت بڑھانے کے لیے بڑی حد تک ذرائع ابلاغ اور عدلیہ پر انحصار کر رہی ہے۔ نواز شریف کو زیر کرنے کی کافی کوششیں کی گئی ہیں، جن میں سے اکثر ناکامی پر منتج ہوئیں۔
ذرائع ابلاغ میں نواز شریف کے مخالفین ’’قوتوں‘‘ کو بالواسطہ پکار رہے ہیں کہ درجِ ذیل آپشنز میں سے کسی نہ کسی آپشن پر عمل کریں: یا تو انہیں اور مریم نواز کو زنداں میں ڈال دیا جائے، ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کر دی جائے یا پھر مکمل مارشل لا نافذ کر دیا جائے۔ ان تمام آپشنز میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے اور مستقبل میں ہیئتِ حاکمہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دیں گے۔
فوج سمجھتی ہے کہ زمامِ اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا آسان تو ہو سکتا ہے لیکن اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا ملک اور اداروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ آج ملک میں بہت سارے آزاد اور طاقت ور عاملین (ایکٹرز) موجود ہیں، جو فوجی اقتدار کے لیے اس سے زیادہ خطرات کا باعث بن سکتے ہیں جتنا کہ کوئی بیس سال پہلے پرویز مشرف کو پیش آئے تھے۔ فوج یہ بات جانتی ہے۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ عدلیہ کی مدد سے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے۔ اسے بنگلہ دیش ماڈل بھی کہا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں اس ماڈل نے جس طرح کام کیا اس سے کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے تو یہ پاکستان میں بھی کاملاً ناکام ہو گا۔ اگر ٹیکنوکریٹ حکومت ہمارے پیچیدہ مسائل کا حل ہوتی تو کیا شوکت عزیز آج تک ہمارے وزیرِ اعظم نہ ہوتے؟
مزید برآں 2018ء انتخابات کا سال بھی ہے اور انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے بعد اس نوع کے اقدام کا جواز اپنی ساری کشش کھو بیٹھے گا۔اگرچہ یہ امر انتہائی غیر یقینی لگتا ہے لیکن اگر ہیئتِ حاکمہ موجودہ سیاسی جماعتوں کے باہمی نزاع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو اسے ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کے لیے مختصر عرصہ میں پورے کرنے کے لیے غیر حقیقت پسندانہ وعدے کرنا پڑیں گے۔
جن تبدیلیوں کا وعدہ کیا جائے گا انھیں پورا کرنے کی امکانی ناکامی فوج اور عدلیہ کی ساکھ خراب کر دے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا سیٹ اپ عمران خان جیسے فوج کے حامی راہنما کے لیے بھی موافق نہیں ہو گا کیوں کہ ہیئتِ حاکمہ تین سے پانچ برسوں کے اندر انتخابات کا انعقاد کروانے پر مجبور ہو گی اور نواز شریف ایک بار پھر حکومت میں آ جائیں گے۔جہاں پرویز مشرف کی نو سالہ آمریت کچھ نہ کر سکی تو حکومت سے تھوڑا عرصہ کی دوری بھی نواز شریف کی پارٹی کے ووٹ بینک کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
آخری آپشن نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈالنے کا ہے۔ یکساں آئیڈیالوجی، عوامی مقبولیت اور باپ بیٹی کے غصے کے پیشِ نظر دونوں میں سے صرف ایک فرد کو زنداں میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیوں کہ دوسرا پنجاب کے شہروں اور سڑکوں پر مشکلات کا سبب بنتا رہے گا۔
بہرحال دونوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے عدلیہ کو قانون کی کھلم کھلا عدم احترام کرنا ہو گا جو عوام میں اس کا تاثر ماند کر دے گااور اس کی اتھارٹی کو کمزور کر دے گا۔ جیل میں ڈالنے کے بعد دونوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے کہ فوج کی پالیسیوں پر عمل کرے۔ اغلباً یہ اقدام پی ٹی آئی سمیت مقتدرحلقوں کے تمام حامیوں میں سب سے زیادہ مقبول ہو گا لیکن مسلم لیگ (ن) کے ووٹروں میں انتہائی غیر مقبول ہو گا۔ اس سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے موجودہ ووٹر پختہ ہو جائیں گے بلکہ عوام میں سے بھی بڑی تعداد میں ہمدردی کے ووٹ ملیں گے۔ نواز شریف کے لیے مزید ووٹوں کا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت بنانے کے لیے قابلِ انتخاب مقامی افراد پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا جس سے پارٹی ہیئتِ حاکمہ کے ساتھ مزید تنازع کے راستے پر گام زن ہو جائے گی۔ مثال کے طور پرتحریکِ لبیک یا لشکر حامی گروپوں سے پی ایم ایل (این) کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہمدردی کے ووٹ بڑھنے سے ہو جائے گا۔ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے ہیئتِ حاکمہ کی طرف سے ایسے گروپوں کو پراکسیز کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے مشکل ہو جائے گا۔
مزید برآں یہ بھی ممکن ہے کہ پی ایم ایل (این) کی حکومت فوج اور عدلیہ کو احتساب قوانین کے تحت لانے اور عدلیہ کے بہت زیادہ اختیارات کو آئینی ترمیم کے ذریعے محدود کرنے جیسے انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائے۔
ہو سکتا ہے آج منتخب حکومتیں کمزور دکھائی دیتی ہوں لیکن وہ جواز رکھتی ہیں اور وقت ان کے ساتھ ہے۔ انھیں آئین میں اور قوانین میں تبدیلی اور سرکاری حکام کے تقرر کے کے حقوق حاصل ہیں۔ ملک پر کئی عشرے حکومت کرنے کے باوجود ہیئتِ حاکمہ کسی بھی سیاسی جماعت کا ووٹ بینک نہیں توڑ سکی۔ درحقیقت وہ ووٹروں کو دبانے کی جتنی کوششیں کرتی ہے، ووٹروں کی اپنی پارٹیوں کے لیے حمایت مزید پختہ ہوتی ہے۔
انتخابات کا انعقاد 2018ء میں عمل میں آتا ہے یا اس کے بعد، پی ایم ایل (این) ایک بار پھر فتح یاب ہو سکتی ہے، لیکن اس مرتبہ زیادہ جذبۂ انتقام کے ساتھ۔ پارٹی کے امور ہنوز نواز شریف یا مریم نواز کے کنٹرول میں ہوں گے۔ تنازع جتنا طول پکڑے گا، سٹیٹس کو اتنا ہی کمزور ہو گا اور اس کے ساتھ ہیئتِ حاکمہ کی قوت بھی۔ ہو سکتا قلیل المیعاد سطح پر ہیتِ حاکمہ اپنا راستہ نکال لے لیکن یہ جنگ بے فائدہ ہے۔

مصنف کلیو لینڈ سٹیٹ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی اینڈ ایڈمنسٹریشن کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان سے obedpasha@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل @RamblingSufibbہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *