اپنی گاڑی کے شیشے سے خواتین کو مت دیکھیں سر، آپ کامیاب ہو جائیں گے

مہر احمدriding 1

کراچی پاکستان: اپنی گاڑی کے شیشے سے بار بار پیچھے بیٹھی خواتین کو مت دیکھیں  نہ ہی ان کے لباس پر تبصرہ کریں۔ نہ ان سے پوچھیں کہ وہ شادی شدہ ہیں یا نہیں۔یہ سب چیزیں خواتین کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلاتی ہیں جو ہمارے ہاں ایک ناقابل معافی جرم ہے۔  یہ ہدایات محمدد وہاج اپنے کریم کے ڈرائیورز کی ٹریننگ کے دوران دے رہے تھے ۔ کریم  ملک بھر میں خواتین کو سفری سہولیات کی آسانی اور حفاظت کا اہم ذریعہ بننے کا خواہاں ہے۔ پاکستان میں خواتین کےلیے دفتر پہنچنا بھی محال ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی حال تشویشناک ہے۔ پرائیویٹ بسوں میں بہت رش ہوتا ہے  اور صرف 3 فیصد لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں۔ پھر خواتین کو چھیڑ چھاڑ کے ذریعے بھی تنگ کیا جاتا ہے۔ معمول کا سفر کرنے والی خواتین میں سے 85 فیصد نے  چھیڑ چھاڑ کی شکایت کی ہے۔ کریم اور اوبر جیسی ایپس والی کمپنیاں ملک میں خواتین کےلیے سفر کرنے کا معمہ حل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن یہ خواتین کےلیے بہت مہنگی ہیں کیونکہ بس میں وہ صرف 10 یا 20 روپے کے عوض سفر کر لیتی ہیں لیکن کریم پر 150 یا اس سے بھی زیادہ روپے میں اتنا ہی سفر طے کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کے سفر کا دارو مدار ان کی کلاس پر ہے۔ امیر خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے فیملی ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرتی ہیں  یا خود کار چلاتی ہیں۔ لوئر اور مڈل طبقہ کی خواتین کو بسوں اور منی بسوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں گاڑی کا سفر کرنے سے پہلے گھر سے نکلنا ہی خواتین کےلیے مشکل ہوتا ہے۔ خواتین کو ہر طرف مرد گھورتے اور چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو کریم صرف خواتین کےلیے میدان میں نہیں اترا لیکن ا س سہولت کا فائدہ اٹھانے والوں میں خواتین کی تعداد 70 فیصد ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد یہ پاکستان میں ایک ہی سال میں بہت مقبول ہوئی۔ ملک بھر میں کریم کی طرف سے روزانہ کئی ڈرائیورز کو تربیت دی جاتی ہے۔ اس تربیت کے پہلے حصے میں خواتین کو ہراساں کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ 27 سالہ ہدی بیگ جیسی خواتین کےلیے سفر کی سہولیات بہت محدود ہیں۔ وہ کہتی ہیں: میں کبھی پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر نہیں کرتی ۔ میں رکشہ یا ٹیکسی میں سفر کرتی ہوں۔ یہ بھی خطرناک سفر ہوتا ہے اور  بہت مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ میں اسی لیے سفر کےلیے اپنے خاندان کے افراد یا دوستوں کی مدد لیتی ہوں۔ اب مسز بیگ باقاعدگی سے کریم استعمال کرنے لگی ہیں ۔ انہیں اس ایپ نے ایسی آزادی بخشی ہے جو انہیں پہلے کبھی میسر نہ تھی۔ اب وہ زیادہ پر اعتما د ہو کر سفر کرتی ہیں۔ کریم کے چیف ایگزیکٹو جنید اقبال کا کہنا ہے کہ کمپنی نے خواتین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی کیونکہ ہمارے لیے خواتین کو تحفظ اور ڈرائیورز کا بیک گراونڈ چیک اولین ترجیح تھی۔ اچھی بات یہ ہے کہ ڈرائیور حضرات بیک گراونڈ چیک کی ضرورت سے واقف ہیں اور بھر پور تعاون کرتے ہیں  اور اس سے خواتین کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ 2012 تک کراچی میں اغوا اور سمگلنگ ایک عام بات تھی لیکن جارحانہ فوجی آپریشن اور جرائم کے خلاف riding 2کریک ڈاون کی وجہ سے کچھ حد تک سکون ہو گیا ہے۔ لیکن چھیڑ چھاڑ کے واقعات اب بھی باقاعدگی سے سامنے آتے ہیں۔

30 سالہ نرگس کو اپنے گھر سے فیکٹری تک بس میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ رات کو 9 بجے گھر پہنچتی ہیں اور سفر کے دوران عبایا پہنتی ہیں۔ وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عبایا مردوں سے سفر کے دوران تحفظ کے لیے پہنتی ہیں۔

کچھ دن قبل نرگس ایک مسافروں سے بھری پرائیویٹ بس میں سوار ہوئیں  جس پر کندہ کاری اور ہاتھوں سے لکھے نعرے درج تھے۔ اس بس پر لکھا تھا: گڈ لک۔خواتین کی سواریوں والے سیکشن میں 4 سیٹیں اور ایک بینچ موجود تھا لیکن سب سیٹیں مردوں نے ملی ہوئی تھیں۔ نرگس کو سفر کے دوران دھکے کھانے پڑے جس کی وجہ گاڑی کا رش اور سڑکوں کی بری حالت تھی۔ مردوں کی طرف سے نامناسب حرکات کے ڈر سے انہوں نے چہرہ نقاب سے ڈھامپ لیا اور پرس کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اسی وجہ سے ایک نئی سواری بائیکی متعارف کروائی گئی ہے جو کریم کے مقابلے میں سستی ہے  اور غریب عوام کےلیے مناسب ہے۔ بائیکی پر نرگس صرف 100 روپے کے عوض وہی سفر کر سکتی ہیں جو وہ کریم پر 150 روپے میں کرنے پر مجبور ہیں۔

کراچی کی ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے لو گ بائیکی کے شوقین ہو رہriding 3ے ہیں  لیکن چیف ایگزیکٹو رفیق ملک کے مطابق خواتین اس میں محفوظ محسوس نہیں کرتیں جس کی وجہ سفری حفاظت نہیں بلکہ ثقافتی اقدار ہیں۔ نرگس نے اعتراف کیا کہ انہیں ایک نا محرم مرد کے ساتھ بائیکی پر سفر کرنا مناسب نہیں لگتا۔ کریم اور بائیکی دونوں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں  اور ان کی کوشش ہے کہ ایسی خواتین جو سفری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کام پر نہیں جا سکتیں ان کی مشکلات کا خاتمہ کیا جائے  لیکن غریب خواتین کو ان سہولیات کا علم بھی نہیں ہوتا۔ نرگس کا ماننا ہے کہ ان کی کئی ساتھی ورکر خواتین اس نئی سہولت سے نا آشنا ہیں۔ ایک آرکی ٹیکٹ اور سوشل ریسرچر عارف حسن کے مطابق ورکنگ کلاس وومن کے لیے فی الحال کوئی بہتر حل آنے والا نہیں ہے۔

کراچی انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ کمیٹی کے بورڈ ممبر مسٹر احسن کا کہنا ہے کہ پلاننگ اور پالیسی میں غریبوں سے ایک واضح طور پر تعصب برتا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک عجیب سے ہیجان کا شکار ہے۔ رسمی اقدار اور کام کی کنڈیشن  کا آپس میں ملاپ نہیں ہے۔ سوسائٹی بدل چکی ہے لیکن یہ حقیقت پہچان نہیں پا رہی۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *