دو بیٹیاں، دو داماد۔۔۔ دو طلاقیں

اپنی عالمی شہرت کےjaved naqvi باوجود ساوتھ ایشیا کے دو بڑے سیاستدان جناح اور نہرو  اپنے پارسی دامادوں کی وجہ ذاتی مسائل کا شکار تھے۔ نہرو ایک کشمیری براہمن تھے جب کہ جناح ایک خوجہ مسلمان تھے۔ دونوں رہنماوں کی ایک  ایک بیٹی تھی جن سے وہ بے حد پیار کرتے تھے۔ لیکن ان کے دامادوں نے انہیں بہت دکھ پہنچایا۔ دونوں رہنما سیکولر تھے  لیکن اپنی بیٹیوں کے معاملے میں وہ قدامت پسند ہی ثابت ہوئے۔  اس کے علاوہ بھی دونوں رہنماوں میں خاص مماثلت تھی۔ نہرو کو اپنے ملک کے جارحانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا پڑا کہ کوئی مسلمان بھارت کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ دوسری طرف جناح کا خیال تھا کہ مسلمان بھارت کے ساتھ آزادی کے ساتھ نہیں رہ سکتے اس لیے انہوں نے الگ ملک کی بنیاد رکھی۔ دونوں سیاسی رہنما برطانیہ سے تعلیم یافتہ تھے۔ دونوں رہنما کلچر اور مذہب کی  ایواٹزم کو سمجھنے میں ناکام رہے  جس کی وجہ سے انہیں بہت مشکلات کا سامنا رہا۔ دونوں کے پارسی داماد  لبرل تھے لیکن پھر بھی دونوں رہنما ان کی خاندان میں آمد پر خوش نہیں تھے۔

جناح کی اکلوتی بیٹی دینا نے 1938 میں ایک پارسی نیول واڈیا سے شادی کر لی۔ اندرا جو نہرو کی اکلوتی بیٹی تھیں نے 1942 میں فیروز گاندھی سے شادی کی تھی۔ دینا 98 سال کی عمر میں 2 نومبر 2017 کو نیو یارک میں انتقال کر گئیں ۔ اندرا جو دینا جناح سے 2 سال بڑی تھیں 1984 میں 67 سال کی عمر میں قتل کر دی گئیں۔

دونوں لڑکیوں نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی  ، دونوں کی اپنے خاوند سے لڑائی ہوئی  اور علیحدگی ہو گئی۔ دونوں بیٹیوں کے 2، 2 بچے تھے۔ دنیا کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا۔ اندرا اور فیروز کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے   جنہیں راج اور سنجے کے نام سے پہچان ملی۔ 1960 کی دہائی میں سیاست اندرا اور فیرور کے بیچ آ گئی اور اس کےبعد فیروز 48 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سوادش صحافی برٹل فالک کے مطابق  نہرو کے داماد ایک نایاب فطرت کے ڈیموکریٹ تھے۔ فیروز ایک پر کشش،  ذہین، اور مزاحیہ انسان تھے ۔ انہیں سچ  سے جڑے رہنے اور غریبوں کی مدد کرنے کا بہت شوق تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اندرا ایک دن سیاسی لیڈر بن سکتی ہیں اس لیے انہوں نے اندرا کو بتایا کہ وہ طاقت کے نشے میں پڑنے سےباز رہیں۔ فالک لکھتے ہیں: جب نہرو نے اندرا کو کیرالہ حکومت گرانے پر راضی کر لیا تو فیروز اور اندرا کے بیچ سخت لڑائی ہوئی۔ یہ معاملہ تین مورتی بھوون میں ناشتے کی ٹیبل پر ڈسکس ہوا ۔ اس وقت فیروز رائے بریلی میں کانگریس کے ایم پی تھے  اور انہوں نے اندرا کو بتایا: یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تم لوگوں پر دھونس جما رہی ہو۔ تم ایک فاشسٹ ہو۔

نہرو بہت پریشان تھے لیکن اندرا نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا: آپ مجھے فاشسٹ کہنا چاہتے ہیں؟ میں یہ قبول نہیں کروں گی۔ فالک کا کہنا ہے کہ انہیں یہ کہانی نخل چکراورتی سے ملی جو فیروز کے دوست اور سینئر صحافی تھے۔فیروز نے نخل کو بتایا کہ انہوں نے اندرا گاندھی اور جواہر لعل نہرو  کے سامنے کیرالہ کے معاملے میں احتجاج کیا تھا   اور کہا تھا کہ فاشزم کیرالہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اندرا کو یہ سن کر غصہ آ گیا اور بولی: تم کیا کہنا چاہتے ہو کہ میں ایک فاشسٹ ہوں؟ یہ کہہ کر وہ غصے میں کمرے سے باہر چلی گئیں۔ فالک کے مطابق اندرا نہرو کو کمزور اور فیصلے کرنے میں سست انسان سمجھتی تھیں۔ اندرا نے اپنے ایک امریکی دوست ڈوروتھی نورمین کو خط لکھا جس میں انہوں نے لکھا: نہرو نے شروع سے بہت اچھی قیادت کی ہے لیکن وہ اپنے سینئر ساتھیوں کے مشوروں کے خلاف جانے سے گھبراتے ہیں۔ ناشتے کی ٹیبل کے واقعہ کے بعد فیروز نے کانگریس کے ایم پیز سے پارلیمنٹ میں خطاب کیا  اور اندرا کے چرچ ، انڈین مسلم لیگ اور نیر سروس سوسائیٹی کے معاملے میں  کمیونسٹوں کے خلاف جارحیت کے فیصلے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے تقریر میں کہا: کانگریس کہا ں ہے؟ کانگریس کے اصول کہا ں گئے؟ کیا ہم صرف ایک ذات  کے جبر کے سامنے جھک جائیں گے؟

جب دینا نے نیول سے شادی کی جناح کو بہت غصہ آیا باجود اس کےکہ جناح نے خود ایک پارسی لڑکی سے شادی کی تھی جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ اپنی کتاب 'مسٹر اینڈ مسز جناح' شیلا ریڈی لکھتی ہیں  کہ جناح اپنی بیٹی کی شادی کو اپنی سیاسی لحاظ سے تکلیف دہ واقعہ سمجھتے تھے۔  وہ لکھتی ہیں: جناح نے بیٹی کو اس شادی سے انکار پر آمادہ کرنے کی کوشش کی  لیکن ان کی زد کو دیکھ کر جناح نے انہیں عاق کرنے کی دھمکی بھی دی۔ اس کے باوجودینا اپنی نانی کے گھر چلی گئیں اور شادی کے فیصلے پر ڈٹی رہیں۔ انہوں نے اردو مصنف سعادت حسن منٹو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جناح نے دینا کی ضد پر سخت رد عمل ظاہر کیا۔ دو ہفتے تک انہوں نے کسی سے ملاقات نہیں کی۔ وہ بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرنے لگے اور پریشانی کے عالم میں کمرے میں چہل  قدمی کرتے رہے۔ ان دو ہفتوں میں انہوں نے کوئی 100 میل  چلنے کے برابر چہل قدمی کی ہو گی۔

دینا اور نیول کے بیچ 1943 میں علیحدگی ہو گئی لیکن طلاق نہیں ہوئی۔1941 میں  ایک افواہ پھیلی تھی کہ جناح بمبئی میں موجود گھر بیچنے کی کوشش میں تھے۔ اس موقع پر دینا نے اپنے والد سے روابط دوبارہ شروع کرتے ہوئے انہیں خط لکھا جس میں انہوں نے جناح کو 'ڈالنگ پاپا' کے لقب سے پکارا۔

28 اپریل 1941 کو لکھا گیا یہ خط ریڈی کی کتاب میں نقل کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے: پہلے تو میں آپ کو پاکستان کے قیام پر مبارکباد دیتی ہوں کہ آپ کے اصولوں کو قبول کرتے ہوئے آپ کو نیا ملک دے دیا گیا۔مجھے آپ پر فخر ہے کہ آپ نے اتنی محنت کے بعد اپنے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ اس کےبعد دینا نے اپنے ذاتی معاملے کی توجہ اشارہ کرتے ہوئے لکھا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ساوتھ کورٹ 20 لاکھ روپے کے عوض ڈالمیا کو بیچ دیا ہے۔  آپ کو بہت اچھی قیمت ملی ہے اور آپ بہت خوش ہوں گے۔ اگر آپ نے واقعی ہی یہ بیچ دیا ہے تو میں آپ کو ایک تجویز دینا چاہوں گی۔ اگر آپ وہاں سے اپنی کتابیں نہیں اٹھوا رہے تو کیا میں رتی کی شاعری کے کچھ مجموعے  جن میں بائرن، شیلی  اور دوسرے شاعروں کی نظموں اور آسکر وائلڈ کی کہانیوں کے مجموعے شامل ہیں اپنے ساتھ لے جا سکتی ہوں؟ جناح نے اس کا مختصر جواب دیا کہ یہ محض ایک افواہ ہے ارو میں نے کوئی مکان نہیں بیچا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *