پاکستانیوں نے دینا جناح کو کبھی معاف نہیں کیا۔۔۔۔تہلکہ خیز انکشافات

dina wadyaاکبر احمد

نہ تو بھارتیوں اور نہ ہی پاکستانیوں نے ڈینا جناح کوقائدِ اعظم محمد علی جناح کی بیٹی کی حیثیت سے کبھی معاف کیا۔ اول الذکر نے بومبے میں واقع ان کے والد کے گھر پر طویل اور بد نیتی پر مبنی قبضہ کر کے ان کی زندگی کو مصائب کا شکار بنا کر اور مؤخر الذکر نے انھیں ندامت کی علامت بنا کر کہ جنھوں نے اپنے والد کی نافرمانی کرتے ہوئے ان کی آرزووں کے برعکس ایک غیر مسلم سے شادی کرنے کی جسارت کی تھی۔ وہ یوں بھی مزید تنہا ہو گئی تھیں کہ دوسرے بھارتی اور پاکستانی راہنماؤں کی اولادوں کے برخلاف انھوں نے ملکی امور میں حصہ نہیں لیا جب کہ گاندھی، جواہر لال اور ذولفقار علی بھٹو جیسے دوسرے بھارتی و پاکستانی راہنماؤں کی اولادیں اپنے اپنے ملک کی وزیرِ اعظم، سینٹر اور سفارت کار بنیں لیکن قائدِ اعظم محمد علی جناح کی بیٹی ڈینا نے سیاست اور شہرت کی چمک دمک سے دور رہے کا فیصلہ کیا تھا۔ جب میں نے 1990ء میں Jinnah Quartet کا آغاز کیا تھا، جس میں قائدِ اعظم محمد علی جناح پر دو کتابیں اور دو فلمیں شامل تھیں، تب میں جانتا تھا کہ مجھے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے بعض حقائق کی تصدیق و توثیق اور ان کی بیٹی کے ذریعے ایک انسان کے طور پر ان کے بارے میں تاثر حاصل کرنے کے لیے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی اکلوتی اولاد سے ملنا پڑے گا۔ میری خوش نصیبی ہے کہ چند دوستوں اور ڈینا جناح کے بیٹے ، نہایت نفیس شخص نسلی واڈیا کی مہربانی سے 1990ء کے اواخر میں مجھے نیو یارک میں ڈینا جناح سے کئی مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو کرنے کے علاوہ ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔میں انھیں دستاویزی فلم ’’مسٹر جناح ۔۔۔ دی میکنگ آف پاکستان‘‘ کے لیے انٹرویو دینے پر رضامند کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔
میں اس دستاویزی فلم اور کتاب Jinnah, Pakistan and Islamic Identity ... The Search for Saladinسے لیے گئے اقتباسات کی مدد سے اس مضمون میں بہت سے موضوعات پر ڈینا جناح کے اپنے الفاظ آپ کے ملاحظہ کے لیے پیش کروں گا۔ جنھیں دل چسپی ہے وہ فلم آن لائن دیکھ سکتے ہیں جب کہ کتاب آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔
اوّل اوّل میں نے ڈینا جناح کو انداز و اطوار میں اکھڑ، سرد مزاج اور مخاطب سے فاصلہ رکھنے والی پایا لیکن ہماری گفتگو جاری رہی تو وہ پُر جوش ہوتی گئیں اور اختتام پر میں نے جانا کہ وہ ایک دل کش، ذہین، تیز فہم اور خوش خلق و با اخلاق خاتون ہیں۔وہ کڑھائی والی خوب صورت سواتی شال اور شلوار قمیض کا تحفہ پا کر بہت خوش ہوئیں، جو میری بیوی نے بھیجی تھیں۔ ڈینا جناح نے مجھے کئی مرتبہ کہا کہ میں ان کی طرف سے اپنی بیوی کا شکریہ ادا کروں۔
وہ میرے ساتھ اپنی پسند کے ریستوراں میں چائے پینے کے لیے گھر سے باہر جانے پر آمادہ ہو گئیں۔ ہم دونوں میں گفتگو ہوئی تو مجھے ان کی ہم نشینی اور ان کے والد کی، جن کی میں بہت ستائش کرتا ہوں، جھلکیاں پانے پر بہت فخر بھی محسوس ہوا اور عجز بھی۔ وہ بات کرنے کے انداز اور طور اطوار، خود اعتمادی، صاف گوئی اور تیکھے نقوش، صاف رنگت اور خوش لباسی میں اپنے والد سے حیران کن یکسانی رکھتی تھیں۔ میں فطری طور پر ایک شرمیلے انسان کی طرح پیش آ رہا تھا اور ان کی خلوت کا پاس کر رہا تھا۔ میں نے بھارت پاکستان کے مسائل پر بات کرنے سے شعوری طور پر گریز کیا۔ وہ ذرائع ابلاغ سے یوں دور رہتی ہیں جیسے ذرائع ابلاغ طاعون ہوں۔

dina jinahاپنے والد کے بارے میں ڈینا جناح کے خیالات

(قائدِ اعظم محمد علی جناح کی پرورش کے بارے میں):
’’وہ بالغ ہو رہے تھے۔ وہ سولہ برس کے ہوں گے جب انگلستان جانا چاہتے تھے۔ وہ ایک خوش حال گھرانے سے تھے۔ ان کا گھرانا تاجر تھا اور انھیں کسی چیز کی خواہش نہیں تھی۔ ان کے والد نے اس کا فیصلہ کیا تھاکہ انھیں اپنے بیٹے کو مزید تعلیم کے لییانگلینڈ بھیجنا چاہیے۔ وہ جانا چاہتے تھے لیکن ان کی والدہ زیادہ خوش نہیں تھیں۔ وہ بہت فکرمند تھیں۔‘‘

(اس بارے میں کہ قائدِ اعظم کے والد نے انھیں کہا گھر لَوٹ آئیں اور خاندانی کاروبار سنبھالیں):
’’اور انھوں نے انکار کر دیا۔ وہ واپس جانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ ہر کا م مکمل کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی تعلیم اور سب کام پورے کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘

(گاندھی سے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے تعلق کے بارے میں):
’’جب گاندھی جنوبی افریقہ سے آئے تو اس وقت میرے والد ایک معروف سیاستدان تھے۔میرا خیال ہے اصل شے جو اُن میں یکساں تھی، وہ تھی برطانیہ سے آزادی ۔۔۔ آپ جانتے ہیں، بھارت نے کیسے آزادی حاصل کی۔‘‘

(قائدِ اعظم محمد علی جناح کی مذہبیت کے بارے میں):
’’وہ مذہبی انسان نہیں تھے لیکن وہ غیر مذہبی بھی نہیں تھے۔ کوئی بڑی مذہبی شے نہیں تھی۔‘‘

(دو کمیونٹیوں سے متعلق قائدِ اعظم کے خیالات کے بارے میں):
’’اگر مسلم دس روپے حاصل کریں تو وہ ایک خوب صورت روما ل خریدیں گے اور بریانی کھائیں گے جب کہ ہندو رقم جمع کریں گے۔‘‘

(لندن میں حیات کے بارے میں):
انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 1930ء کے عشرے کے اوائل میں قائدِ اعظم محمد علی جناح ہیمپسٹیڈ، لندن کے ایک وسیع و عریض مکان میں رہتے تھے۔ ایک انگریز ان کا شوفر تھا، جو اُن کی بینٹلے چلایا کرتا تھا۔ انگریز عملہ ان کی خدمت کرتا تھا۔ دو باورچی تھے۔ ایک ہندوستانی اور ایک آئرش۔ کڑھی اور چاول قائدِ اعظم کی پسندیدہ غذاتھی۔ وہ بلیئرڈز کھیلنا پسند کرتے تھے۔ انھوں نے یاد کیا کہ ان کے والد انھیں تھیئٹر، بچوں کے تھیئٹر اور سرکسوں میں لے جایا کرتے تھے۔

(ایک غیر مسلم سے ان کی شادی پر قائدِ اعظم کے ردِ عمل کے بارے میں):
’’وہ بہت خوش نہیں تھے کیوں کہ میرا خیال ہے وہ بہت اہم وقت تھا۔ وہ اس کے لیے بالکل رضامند نہیں تھے اور انھوں نے کئی سال بات نہیں کی۔‘‘

(قائدِ اعظم پر قاتلانہ حملے کے بارے میں):
’’انھوں نے اس شخص کا مقابلہ کیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ وہ شخص ایک چاقو لے کر آیا تھا۔ میرے والد اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس کے دوران چاقو سے انھیں زخم لگ گیا۔ ڈرائیو وے میں ان کا شوفر اور ڈرائیور وین میں موجود تھے۔ وہ ایک جسیم پٹھان تھا۔ اس نے اسے کاٹ ڈالا تھا۔‘‘

(ہندوستان کی تقسیم سے متعلق قائدِ اعظم کے فیصلے کے بارے میں):
’’وہ حقیقت میں علیٰحدگی بالکل نہیں چاہتے تھے۔ ان کا تو خیال یہ تھا کہ سب کو مل جل کر رہنا چاہیے اور کانگریس پارٹی یا ہندو حکومت یا جو بھی ہو اس کے ساتھ ہم آہنگی سے چلنا چاہیے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہونا تھا۔‘‘

(قیامِ پاکستان سے متعلق جاننے کے بارے میں):
’’میں بومبے میں اپنے گھر میں تھی۔ انھوں نے فون کیا اور کہا، ’ہم نے اسے حاصل کر لیا۔‘ میں نے کہا، ’کیا حاصل کر لیا؟‘ انھوں نے کہا، ’پاکستان۔‘ میں نے کہا، ’خوب۔ آپ نے اس کے لیے بڑی محنت کی تھی۔‘ ا س کے بعد ہم نے ذاتی گفتگو کی۔ بس اتنی بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں نے انھیں کبھی نہیں دیکھا کیوں کہ وہ پاکستان میں تھے۔‘‘

(قائدِ اعظم کے جنازے کے بارے میں ۔۔۔ ڈینا کا اولین دورۂ پاکستان):
’’اوہ، وہ (جنازہ) بہت بڑا تھا۔ میں نے اتنے زیادہ لوگوں کو روتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ مطلب یہ کہ بیشتر کو۔ ہزاروں لاکھوں لوگ سوگ منا رہے تھے، رو رہے تھے، پھول نچھاور کر رہے تھے۔ بہرحال اس کی توقع بھی تھی۔ یاد رکھیں پاکستان کو بنے صرف ایک سال کے لگ بھگ عرصہ ہوا تھا، سو جنازہ بہت جذباتی تھا۔‘‘

(اپنے والد کے ساتھ تعلق کے بارے میں):
جب ڈینا نے اعلان کیا کہ وہ نیوائل واڈیا کے ساتھ شادی کر رہی ہیں تو بیٹی اور باپ کا رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ نیوائل واڈیا پارسی سے عیسائی ہوئے تھے۔ اس زمانے میں قائدِ اعظم ہندوستان کے مسلمانوں کے راہنما بنے ہی تھے، اس لیے وہ اپنے کردار کے بارے میں بے حد محتاط تھے۔ باپ بیٹی میں غصہ بھری گفتگو کے دوران قائدِ اعظم نے ان سے کہا ہندوستان میں لاکھوں مسلمان نوجوان ہیں، وہ ان میں سے کسی کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ لاکھوں مسلمان لڑکیاں تھیں اور وہ ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کر سکتے تھے، سو انھوں نے ان کی والدہ کے ساتھ ہی شادی کیوں کی؟ ناگزیر طور پر ان کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ ڈینا نے 1938ء میں نیوائل واڈیا سے شادی کر لی۔ ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا لیکن تقسیم کے چند سال بعد ہی دونوں میں علیٰحدگی ہو گئی۔
اپنی بیٹی کے ساتھ قائدِ اعظم کے تعلق کو ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا۔ انھیں ایک ایسے سرد مہر اور غیر جذباتی باپ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنھوں نے اس وجہ سے اپنی بیٹی کو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا کہ اس نے ان کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی اور جس کی شادی کے بعد انھوں نے اس سے کبھی بات نہیں کی۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ ڈینا نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جب 1943ء میں انھوں نے قاتلانہ حملے میں اپنے والد کے بال بال بچنے کی خبر سنی تو انھیں فون کر کے دریافت کیا کہ وہ محفوظ و مامون ہیں نا۔ انھوں نے ان سے ملاقات کرنے کا بھی پوچھا۔ اس پر انھوں نے جواب دیا، ’’بے شک۔‘‘ وہ فوراً ان کے گھر پہنچ گئی تھیں۔
قائدِ اعظم کی زندگی کے آخری برسوں میں ان کے اور ڈینا جناح کے مابین انس و محبت کے تحریری شواہد موجود ہیں۔ چند عشرے پہلے ڈینا جناح کا ایک خط منظرِ عام پر آیا جو انھوں نے پاکستان کے بارے میں خبر سن کر 28اکتوبر 1947ء کو بومبے سے اپنے والد کو لکھا تھا۔ اس خط میں انھوں نے لکھا تھا،
’’میرے پیارے ابو جان۔ سب سے پہلے میں آپ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔۔۔ہم نے پاکستان حاصل کر لیا ہے ۔۔۔ آپ نے اس کے لیے انتہائی محنت کی ۔۔۔ مجھے امید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے۔ میں اخبارات میں آپ کے حوالے سے بہت سی خبریں پڑھتی ہوں۔ بچے کالی کھانسی سے صحت یاب ہو رہے ہیں پھر بھی اس میں ایک اور مہینہ لگ جائے گا۔ میں انھیں تقریباً ایک مہینے کے لیے جوہو لے کر جا رہی ہوں۔ کیا آپ یہاں واپس آ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو مجھے امید ہے آپ جوہو آئیں گے اور ہمارے ساتھ دن گزارنا پسند کریں گے۔ میرے پاس فون ہے، اگر آپ باہر جانا پسند نہ کریں تو میں آپ کو فون کر کے آپ سے ملنے آؤں گی۔ پیارے ابو جی اپنا خیال رکھیے گا۔ آپ کو بہت محبت اور ڈھیروں پیار۔ ڈینا۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *