محمد بن سلمان کی سعودی علما کو فرماںبردار بنانے کی مہم

ben-hubbardبین ہبرڈ

سعودی عرب کی مذہبی ہیئتِ حاکمہ کو عشروں سے زبردست قوت اور اختیارات حاصل ہیں۔ داڑھیوں والے سپاہی عوامی رویّوں پر نظر رکھتے ہیں، ممتاز شیوخ درست اور غلط کا تعین کرتے ہیں اور مذہبی تنظیمیں سلطنت کے تیل کی دولت استعمال کر کے دنیا بھر میں اسلام کی غیر معتدل تعبیر کو فروغ دیتی ہیں۔
اب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سلطنت پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی مہم کے دوران ان کی قوت ختم کر رہے ہیں اور اسلام کے زیادہ کشادہ رخ کو فروغ دے رہے ہیں۔
شہزادہ محمد نے اتوار کے دن اپنے ساتھی شہزادوں اور سابق وزیروں کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت برطرف کرنے سے پہلے مذہبی پولیس کا لوگوں کو گرفتار کرنے کا اختیار واپس لے لیا تھا اور عوامی زندگی میں عورتوں کے لیے مزید وسعت پیدا کی تھی جس میں انھیں ڈرائیونگ کا حق دینا بھی شامل ہے۔
درجنوں سخت گیر مذہبی علما کو زنداں میں ڈالا جا چکا ہے جب کہ دوسرے علما کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ دوسرے مذاہب کے احترام کے بارے میں عوامی خطابات میں بات کریں۔ یہ ایسا موضوع ہے جو کبھی سلطنت کے مذہبی شعبہ کے لیے ناپسندیدہ ہوتا تھا۔
اگر یہ تبدیلیاں مستحکم ہو گئیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پالیسی تشکیل دینے میں سخت گیر علما کا کردار ختم کرتے ہوئے سعودی ریاست کا ایک تاریخی نظمِ نو عمل میں آ رہا ہے۔ یہ تبدیلی بیرونِ ملک اس طرح اثر انداز ہو گی کہ اسلام کے غیر مصالحانہ ورژن یعنی وہابی ازم میں اعتدال رونما ہو گا۔ وہابی ازم پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ عدم رواداری اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔
مذہبی ہیئتِ حاکمہ کو فرماں بردار بنانا شہزادہ محمد کی سعودی اقتدار کے روایتی لیوروں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوششوں کا حصہ بھی ہے۔ اتوار ہونے والی گرفتاریوں سے لگتا ہے کہ شاہی خاندان میں ممکنہ حریفوں کو بے دست و پا کیا جا رہا ہے اور کاروباری برادری کو انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ بھی راہِ راست پر آ جائے۔
شہزادہ محمد ملک کی تین بڑی سکیورٹی فورسز کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں اور اب طاقت ور مذہبی ہیئتِ حاکمہ کو قابو کر رہے ہیں۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ سلطنت کے سب سے بڑے مذہبی ادارے’’ مجلسِ ہیئتِ کبار علماء‘‘ نے یہ کہہ کر اتوار کو ہونے والی گرفتاریوں کی تائید کی کہ اسلامی قانون ’’ہمیں بدعنوانی سے لڑنے کا حکم دیتا ہے جب کہ قومی مفاد بھی اس کا تقاضا کرتاہے۔‘‘
بتیس سالہ ولی عہد نے ریاض میں حال ہی میں منعقد ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں یہ کہتے ہوئے اپنے مذہبی اہداف کا خاکہ پیش کیا کہ سلطنت کو ’’معتدل اور متوازن اسلام‘‘ کی ضرورت ہے ’’جو دنیا، تمام مذاہب اور تمام روایتوں اور لوگوں کے لیے کشادگی کا حامل ہو۔‘‘
بالائی سطح پر عمل میں لائی جانے والی ان تبدیلیوں کو عمیق حد تک قدامت پسند معاشرے میں زبردست چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ اس تصور میں مستغرق ہے کہ سعودی عرب کی مذہبی سخت گیری نے اسے خالص اسلام کی سرزمین کے طور پر پوری دنیا سے ممتاز مقام عطا کر دیا ہے۔ان تبدیلیوں کے اطلاق کے لیے ملک کی وسیع مذہبی بیوروکریسی کی اصلاح بھی ضروری ہو گی، جس کے ملازمین کو خوف ہے کہ سلطنت اپنے اصولوں کو فراموش کر رہی ہے۔
ریاض کے شمال میں واقع ایک قدامت پسند شہر بریدہ کے ایک سرکاری عالم نے صنفی اختلاط اور عوامی اجتماعات میں موسیقی کی نئی قبولیت کے بارے میں کہا، ’’یقینی طور پر میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ ہر وہ شے جس میں گناہ ہے، ہر وہ شے جو اللہ کو ناراض کرتی ہے ۔۔۔ وہ مسئلہ ہے۔‘‘
حکومت نے ایسے جذبات کو خاموش کرنے کے لیے علما کو گرفتار کیا ہے اور مذہبی پولیس والوں کے رشتہ داروں کے مطابق حکومت نے مذہبی پولیس والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کھونے کے بارے میں عوامی سطح پر بات نہ کریں۔
اس مضمون کے لیے جتنے بھی علما کے انٹرویو لیے گئے، انھوں نے نام عیاں نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ انھیں خوف تھا کہ حکومتی موقف کے برخلاف بات کرنے پر انھیں بھی گرفتار نہ کر لیا جائے۔
ایک عالم نے گرفتاریوں کے بارے میں کہا، ’’انھوں نے پیشگی حملہ کیا ہے۔ ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ حکومت کی مخالفت کر سکتے ہیں۔‘‘
اس نے تسلیم کیا کہ بہت سے قدات پسند نئی ہدایت کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں لیکن وہ اس پر عمل کریں گے، جزوی طور پر اس وجہ سے کہ سعودی اسلام حاکم کی اطاعت پر زور دیتا ہے۔
اس نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے ریفرنڈم کا انعقاد کیا ہو جس میں پوچھا گیا ہو کہ’آپ اِس راہ پر چلنا چاہیں گے یا اُس راہ پر؟‘ لیکن بالآخر لوگ اس دروازے سے گزر جاتے ہیں جسے آپ ان کے لیے کھولتے ہیں۔‘‘
علما طویل عرصہ سے شاہی خاندان کے مطیع و فرماں بردار چلے آ رہے ہیں لیکن سرکاری عمال بننے سے ان کی آزادی ختم ہوئی ہے اور وہ ناپسندیدہ پالیسیاں قبول کرنے ۔۔۔ اور بعض اوقات ان کی منظوری دینے ۔۔۔ پر مجبور ہوئے ہیں جیسا کہ 1990ء کی خلیجی جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی آمد، جنھیں وہ کافر تصور کرتے ہیں۔
سائنسز پو، پیرس انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز میں سیاسی اسلام کے ایک سکالر سٹیفن لیکروئیس نے کہا، ’’ایک اعتبار سے محمد بن سلمان ایک ایسی مذہبی ہیئتِ حاکمہ سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جو پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بیشتر وہابی علما خوش نہیں لیکن بادشاہت سے اتحاد برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم شے ہے۔ احتجاج کیا تو انھیں بہت کچھ کھونا پڑے گا۔‘‘
علما اور شاہی خاندان کا اتحاد 1700ء میں سعودی شاہی خاندان کے آغاز سے ہی چلا آ رہا ہے۔ اس وقت سے شاہی خاندان نے علما سے راہنمائی لے کر حکومت کی ہے، جو ان کے اقتدار کو قانونی جواز عطا کرتے ہیں۔
ولی عہد کے دادا نے 1932ء میں جدید سعودی ریاست قائم کی تھی، یہ اتحاد تب سے قائم ہے اور سلطنت کو اس کا سخت گیر اسلامی کردار عطا کیے ہوئے ہے۔ عورتیں اپنے آپ کو سیاہ لبادے سے ڈھانپے رکھتی ہیں، دن میں دکانیں نمازوں کے یے بند کروا دی جاتی ہیں، الکوحل ممنوع ہے اور سنگین جرائم پر سر کاٹنے کی سزا دی جاتی ہے۔
اسلام کے سوا عوامی سطح پر کسی دوسرے مذہب پر عمل کرنا ممنوع ہے اور علما نظامِ انصاف چلاتے ہیں، جو باپ کی نافرمانی اور ارتداد جیسے جرائم کے ارتکاب پر کوڑے مارنے اور جیل میں قید کرنے جیسی سزائیں دیتے ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپ کہتے ہیں کہ سلطنت کی نصابی کتابیں اب بھی عدم رواداری کو فروغ دے رہی ہیں اور وزارتِ تعلیم میں موجود قدامت پسند اپنے نظریات طلبا تک پہنچا رہے ہیں۔
جہاں غیر رشتہ دار عورتوں اور مردوں کے اختلاط پر پابندی تبدیل ہونے لگی ہے وہاں صنفی علیٰحدگی اب بھی ایک معاشرتی روایت کے طور پر برقرار ہے۔
ولی عہد محمد نے، جو 2015ء میں اپنے والد کے بادشاہ بننے کے بعد نمایاں ہوئے، عدیم النظیر معاشرتی کشادگی عام کرنے میں پہل کرتے ہوئے روایتی مذہبی ہییتِ حاکمہ کی بہت کم پروا کی ہے۔
جب حکومت نے پچھلے سال لوگوں کو گرفتار کرنے کا مذہبی پولیس کا اختیار واپس لیا تھا تو بہت سے سعودیوں اس قدر دھچکا لگا تھا کہ انھیں شک تھا کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ اس تبدیلی نے تفریح کے نئے آپشنوں با شمول کنرٹس اور رقص کے لیے راستہ کھولا تھا۔
اگلے جون میں عورتوں کو ڈرائیونگ کا حق دے کر حکومت نے اعلیٰ ملازمتوں کے لیے عورتو کو نام زد کیا اور اعلان کیا کہ وہ انھیں فٹ بال سٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت دے گی۔ یہ اصناف کے اختلاط پر پابندی پر ایک اور ضرب تھی۔
ولی عہد ایسی اصلاحات کر کے سلطنت کی کثیر نوجوان آبادی کو مذہبی رسخ العقیدگی کی بجائے تفریح اور معاشی مواقع کی طرف لا رہے ہیں۔
بہت سے نوجوان سعودیوں نے نئی سمت پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور وہ مذہبی علما کو عوامی زندگی سے خارج کر دیے جانے کو بہت پسند کریں گے لیکن تبیلیوں نے قدامت پسندوں کو صدمہ پہنچایا ہے۔
بریدہ کے ایک اور عالم نے کہا، ’’عمومی طور پر معاشرہ اس وقت بہت ڈرا ہوا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ معاملہ منفی ہے۔ یہ عورتوں کو معاشرے میں دھکیلے گا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ درست نہیں اور یہ کہ فوائد کی بجائے خرابیوں کا باعث بنے گا۔‘‘
دوسرے علما کی طرح وہ بھی عورتوں کو ڈرائیونگ سے منع کرنے میں کوئی مذہبی وجہ نہیں دیکھتا لیکن اس نے کہا کہ اس انداز سے عورتوں کی حیثیت میں تبدیلی کے خلاف ہے جس سے اسلامی قانون پامال ہو۔
اس نے کہا، ’’وہ چاہتے ہیں کہ عورت رقص کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عورت سنیما جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عورت اپنا چہرہ بے نقاب کر دے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عورت اپنی رانیں اور ٹانگیں عیاں کر دے۔ یہ لبرل سوچ ہے۔ یہ برائی پیدا کرنے والا نظریہ ہے۔‘‘
بہرحال اب بھی کچھ لوگ حالیہ پیش رفتوں کو حوصلہ بخش پاتے ہیں۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروگرام آن ایکسٹریم ازم کے فیلو کول بنزل نے کہا، ’’اگر وہ پوری دنیا میں اسلام میں سرایت کر جانے والے سلفی ازم کے زیادہ برے اجزا کو خارج کرنا چاہتے ہیں تو مجموعی طور پر یہ ایک اچھی شے ہو گی۔‘‘
لیکن تعلیم و تدریس کے شعبہ مہیں کام رنے والے ریاض کے ایک عالم نے کہا کہ اسے فکر ہے کہ قدامت پسندوں کو زیادہ دبانے سے انتہا پسند زیرِ زمین چلے جائیں گے، جہاں وہ تشدد کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
ایسی مثالوں سے سعودی تاریخ بھری پڑی ہے۔
1979ء میں شاہی خاندان پر کاملاً اسلامی نہ ہونے کا الزام دھرنے والے انتہا پسندوں نے مکہ میں کعبہ پر قبضہ کر کے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بعد ازاں اسامہ بن لادن نے سعودی عرب کے تحفظ کے لیے مغربی فوجیوں پر انحصار کرنے پر علیٰحدگی اختیار کر کے القاعدہ قائم کر لی تھی۔ حال ہی میں ہزاروں سعودی ایسی ہی وجوہ سے دولت اسلامیہ میں شامل ہو گئے ہیں۔
لیکن ایسی مثالیں بھی ہیں کہ علا نے انھی تبدیلیوں کو قبول کر لیا جن کی انھوں نے ابتدا میں مذمت کی تھی۔
بہت سے نے ٹیلی ویژم متعارف کروائے جانے کی مخالفت کی تھی۔ اب ان کے اپنے سیٹلائٹ چینل ہیں۔ دوسروں نے لڑکیوں کو تعلیم دینے کی مخالفت کی تھی۔ اب وہ خود اپنء بیٹیوں کو سکول بھیجتے ہیں۔
ایک عالم نے کہا کہ پہلے وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اور بیٹیاں سیل فون نہ رکھیں لیکن بعد میں اس نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا۔ ڈرائیونگ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔
اس نے کہا، ’’اگر وقت گزرنے کے ساتھ معاشرہ دیکھتا ہے کہ فیصلہ مثبت اور محفوظ ہے تو وہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *