آخر گناہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں

ata-ul-haq-qasmi(قند ِمکرر)
جنت کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر عبوری عرصے کے لئے دوزخ میں آئے ہوئے اپنے دوست سے میں نے پوچھا ’’میرے دوستوں میں سے اور کون کون جنت میں ہے؟‘‘ دوست نے کہا ’’تمہارے دوستوں میں سے بھلا کون جنت میں جاسکتا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’آخرتم بھی تو آ ہی گئے ہو۔‘‘ بولا ’’میں اس پر خود حیران ہوں۔ میں نے تو ذہن پہ زورڈال کر اپنی نیکیاں یادکرنے کی کوشش کی مگر مجھے تو کوئی یاد نہیں۔‘‘ مجھے اپنے دوست کے انکسار پربہت پیار آیا۔ میں نےکہا ’’تم غریبوں کی مددکیاکرتے تھے، ظالموں اورغاصبوں سے لڑتے تھے۔ پاکستان سے محبت کرتے تھے۔ عالم اسلام کےلئے تمہارے دل میں بہت درد تھا۔ تم عالم انسانیت کی زبوں حالی پہ بھی تڑپتے تھے۔ تم غصے، حسد، انتقام اور ان کی گرفت میں آ کر فیصلے نہیں کرتے تھے۔ تم بروں میں اچھائیاں تلاش کرتے تھے۔ تم نے ساری عمررزق حلال پرگزارہ کیا۔تم اگرچاہتے تو اپنے ضمیر سے سمجھوتہ کرکے کروڑوں کما سکتے تھے۔مگر تم نے اپنی خواہشات پر قابو رکھااور طاقتوروں کی بجائے زندگی میں ان کا ساتھ دیا جنہیں طاقتور کچلنے پر تلے ہوئے تھے۔ تمہیں اپنے نظریات کے لئے اگر دریا کی مخالف سمت بھی تیرنا پڑا تم نے ہمت نہیں ہاری۔ تم نے اس حوالے سے اپنے کئی عزیز دوستوں کو ناراض کیا چنانچہ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہیں اپنی کوئی نیکی یاد نہیں؟‘‘
میری یہ باتیں سن کر میرا یہ دوست بہت حیران ہوا بولا ’’میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ نیکیوں کے کام ہیں۔ میں تو جو کچھ کرتا تھا اپنی افتاد طبع کی وجہ سےکرتا تھا۔ میں تو ساری عمر شرمندہ شرمندہ سا پھرتارہا کہ میں داڑھی کیوں مونڈتا ہوں، میں سوٹ کیوں پہنتا ہوں، مجھ سے نماز روزہ میں باقاعدگی کیوں نہیں ہوتی۔ میں اپنے جسم کو مکمل پاک کیوں نہیں رکھتا۔ مجھے تو علم ہی نہیں تھا کہ خدا پنے بندوں سے کی جانے والی محبت کا اتنا اجر دیتا ہے۔ ہمیں تو بتایا ہی نہیں گیا تھا کہ یہ کام بھی نیکیوں کے ہیں جو میں کرتارہا ہوں۔‘‘
’’جنت میں اور کون کون تمہارے ساتھ ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔’’زیادہ تر ستم رسیدہ لوگ ہیں جن کا دنیا میں کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ لوگ ان کے قریب سے منہ پھیر کر گزر جاتے تھے مگر جنت میں ان کی بادشاہی ہے۔ یہ عالی شان محل میں رہتےہیں۔ حوریں ان کے آگے پیچھے پھرتی ہیں۔ زرق برق لباس پہنتے ہیں۔ دنیا جہاںکی نعمتیں ان کے دسترخوان پر ہوتی ہیں ۔ جو طبقے انہیں زندگی میںان نعمتوں کی نوید سنا کر استحصال کرتے تھے ان میں سے مجھے ایک بھی جنت میں نظر نہیں آیا۔‘‘
میں نے پوچھا ’’جنت میں نعمتوں کی فراوانی اور خواہشات کی مکمل تکمیل سے یکسانیت کا احساس تو پیدا نہیں ہوتا اور کسی پریشانی اور کوئی ٹارگٹ نہ ہونےکی وجہ سے بوریت تومحسوس نہیں ہوتی؟‘‘دوست نے جواب دیا ’’بوریت اور یکسانیت کا خیال دلوں میں پیدا کرنے والا خدا ہی ہے اور خدا جنت میں ایسے خیالات کو اپنے بندوں کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔ اس کے علاوہ وہاں بڑے دلچسپ واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں جس سے دل بہلا رہتاہے مثلاً ایک دن دودھ کی نہر کے کنارے بہت سے جنتی ہاتھ میں ڈول لئے کھڑے تھے اور ایک بٹ صاحب کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ پتاچلا کہ بٹ صاحب دہی کےبہت شوقین ہیں چنانچہ انہوںنے رات کوسونے سے پہلے نہر کو ’’جاگ‘‘ لگادی تھی جس سے سارا دودھ دہی بن گیا۔ نمازی چائے کے لئے دودھ لینے آئے تووہاں دہی دیکھ کر بٹ صاحب پر برس پڑے۔ اسی طرح وہاں ایک جنتی جوڑے نے اس خواہش کا اظہارکیاکہ دنیا میں ان کی شادی نہیں ہوسکی تھی لہٰذا ان کا نکاح پڑھوا کر انہیں جنت میں میاں بیوی کےطور پر رہنے کی اجازت دی جائے۔ اس کی منظوری تو انہیں مل چکی ہے مگر ان کی شرط پوری کرنا مشکل ہے کیونکہ کئی ماہ سے جنت میں کوئی نکاح خواں نہیں آیا جو ان کا نکاح پڑھاسکے!‘‘
یہ سب کچھ بتانے کے بعد دوست نے میری طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھا اور کہا ’’تم سب کچھ مجھ سے پوچھتے جارہے ہو ۔تم بھی توبتائو کہ دوزخ میں تمہارے ساتھ کون کون ہے؟‘‘
میں نےکہا ’’جن سے تم خود مل چکے ہو ان کی پردہ پوشی تو میرے لئے ممکن نہیں اور جن کو تم نے نہیں دیکھا ان کے بارے میں، میںتمہیں کچھ نہیں بتائوں گا کہ میرا خدا ستار العیوب ہے اور وہ بندوں سے بھی اس چیز کی توقع رکھتا ہے بلکہ میں نے تم سے بھی ایک گزارش کرنا ہے!‘‘
دوست نے کہا ’’بولو‘‘
میں نےکہا ’’جب تم واپس جنت میں جائو تو میرے بارے میں کسی کو نہ بتانا کہ میں کہاں ہوں۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہےکہ گناہوں کی سزا کاٹ کر بالآخر ہمیں جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ غالبؔ نے بھی تو کہا ہے؎
حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں
چنانچہ جنت میں جب میری ملاقات میرے نیک والدین اور میرے اَباواجداد سے ہوگی تو ان کے سامنے میں شرمندگی سے بچ جائوں گا!‘‘
دوست نے کہا ’’میں ایسے ہی کروں گا لیکن اگر ایڈیسن، مارکونی، ابراہم لنکن، نیلسن منڈیلا اور اس طرح کے انسان دوست دوسرے کافروں نےاپناکیس لڑنے کے لئے دوزخ میں سے کوئی اچھا وکیل کرلیا تو مجھے ڈر ہے کہ فیصلہ ہونے تک کہیں انسانوں کو دکھ دینے والے نمازی مسلمانوں کا کیس بھی معرض التوا میں نہ پڑجائے!‘‘
میں نے کہا ’’اس صورت میں ہم سب کا اللہ مالک ہے۔ بس تم اپنے وعدے پر قائم رہو!‘‘ (اختتام)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *