محققین نے بڑھاپے کا حل نکال لیا

محققین نے اوسط عمر کی فروٹlonger health فلائیز پر تجربہ کر کے حشرات کی صحت  کو بہتر کرنے اور عمر کے اثرات پر قابو پانے میں قابل ذکر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ایک دن کینسر، الزیمر، پارکنسن، کارڈیوویسکیولر، سٹروک اور دوسری عمر سے متعلقہ بیماریوں پر قابو پانے  میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران مائیٹو کانڈریا کو ٹارگٹ کیا گیا ہے  جو سیل گروتھ اور موت پر کنٹرول رکھتا ہے۔ مائیٹو کانڈریا بہت سے مواقع پر بڑھتی عمر کی وجہ سے نقصان کو درست نہیں کرتا  اور دوسرے خلیے بھی متاثرہ خلیوں کو درست کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوتے۔ اعصاب ، دماغ اور دوسرے جسمانی حصوں میں جمع ہو کر یہ خلیے نشہ آور نوعیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس پورے عمل کے ذریعے عمر بڑھنے سے تعلق رکھنے والی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق  میں ریسرچرز نے سراغ لگایا ہے کہ فروٹ پر بیٹھنے والی مکھیوں کا مائٹو کانڈریا اپنی شکل تبدیل کرتا ہے  اور جیسے جیسے حشرات کی عمر بڑھتی ہے، مائٹو کانڈریا کا سائز بھی بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ  مائیٹو کانڈریا  کو توڑ کر ہٹا دیا  اور اس طرح مکھیاں زیادہ چست  ہوگئیں اور ان کی عمر میں بھی 12 سے 20 فیصد اضافہ ہوا۔ یو سی ایل اے کے انٹگریٹو بائیولوجی اور فزیالوجی کے پروفیسر اور سینئر مصنف ڈیوڈ والکر نے ایک پریس ریلیز میں کہا: ہمیں لگتا ہے کہ مائٹو کانڈریا کے بڑھنے سے خلیوں  کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ متاثرہ مائیٹو کانڈریا کو کلیر نہیں کر پاتے۔ ہماری تحقیق سے معلوم ہوگا  خراب ہونے والے مائیٹو کانڈریا ضائع ہونے کی بجائے جمع ہو کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔

طوالت زندگی

بیماریوں پر کنٹرول کےعلاوہ دوسری حیرت انگیز چیز جس کے امکانات اس ریسرچ سے پیدا ہوئے ہیں وہ زندگی کی طوالت سے تعلق رکھتی ہے۔ سائنسدانوں نے  مائٹو کانڈریا کے بڑھنے اور ضائع ہونے کے عوامل  میں شامل اہم سیلولر کمپونینٹس کا سراغ لگایا ہے۔ جب انہوں نے ڈرپ 1 نامی پروٹین میں اضافہ کیا تو اس نے مائیٹو کانڈریا کو تباہ کر دیا اور اس طرح وہ atg 1نامی جین کی مدد سے نکالے جا سکے۔ سائنسدانوں نے ایم ایف این  نامی پروٹین کو سوئچ آف کر دیا تا کہ مائٹو کانڈریا اکٹھے نہ ہو سکیں ۔ اس سے نہ صرف حشرات کی صحت پر مثبت اثر پڑا بلکہ ان کی زندگی کے دورانیہ میں بھی اضافہ ہوا۔

اس تحقیق کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔ والکر نے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: یہ بلکل ایسے ہے جیسے ہم نے اوسط عمر کے ٹشو کو ایک جوان عمر کے اعصاب سے جوڑ دیا ہو۔ہم نے عمر سے متعلقہ صحت کے مسائل پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ صرف سات دن تک کا عمل صحت پر مثبت اثر ڈالنے میں کار آمد پایا گیا ہے۔  

 اس نئی مکینزم  کے تحت مستقبل میں انسان بڑھتی عمر کے اثرات کو ختم کرنے والی ڈرگز تیار کر سکتےہیں۔اس مکینزم کا مختصر وقت کےلیے فائدہ مند ہونا اس لیے بہتر ہے کہ زیادہ دیر تک کسی بھی ڈرگ کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ریسرچ کے ساتھ زندگی میں طوالت جیسے اہم معاملات پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ ریسرچ لا محدود مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔  

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *