لڑکیاں موٹر سائیکل پر بیٹھیں توکمر کے خم اور بھاری کولہے نظر نہیں آنے چاہئیں۔۔۔

   yusra jabeenیسریٰ جبین
میں کراچی شہر کے علاقے گلستانِ جوہر میں رہنے لڑکیاں موٹر سائیکل پر بیٹھیں توکمر کے خم اور بھاری کولہے نظر نہیں آنے چاہئیں۔۔۔
یسریٰ جبین
میں کراچی شہر کے علاقے گلستانِ جوہر میں رہنے والی28سالہ غیر شادی شدہ لڑکی ہوں۔ اس علاقے میں ہماری ہی طرح کے بلندی کے لئے کوشاں قدامت پسند گھرانے رہائش پذیر ہیں۔
شائد یہ بیانیہ بات لگے لیکن ہمارے جیسے گھروں میں لڑکیوں کو تعلیم تو حاصل کرائی جاتی ہے لیکن پدرانہ نظام کے سائے میں۔ مثال کے طور پر دوپٹہ لینا ضروری ہے،۔ جب ہم موٹر سائکل پر بیٹھیں تو ہماری کمر کے خم اور بھاری کولہے ہماری قمیض میں سے نظر نہیں آنے چاہئیں۔ہماری قمیض کے چاک بھی یہی سوچ کے سئیے جاتے ہیں کہ کہیں سے کچھ نظر نہ آ جائے۔ہم بائک پہ بھی اپنی ٹانگیں کراس کر کے ایسے بیٹھتے ہیں جیسے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں۔مطلب بائک پہ عورتوں کی طرح بیٹھتے ہیں۔
شہر میں گھومنے کے لئے ہمارا سارادارومدار ہمارے والد، ہمارے بھائی یا ایسے ڈرائیورز پر ہوتا ہے جو پیسے لے کے ہمیں کہیں چھوڑ دیں۔کبھی ہم رکشہ بھی لے لیتے ہیں یا پھر اپنی ضرورت پوری careem 2 کرنے کے لئے ہم گھر والوں سے اجازت اور پیسے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں کریم کی سروس استعمال کرنے دیں۔
پھر تو قدرتی طور پر یہ ایک مشکل بات ہی ہوئی نا کہ روایت کو توڑ کر بائیک پر عورتوں کی طرح نہیں بلکہ مردوں کی طرح بیٹھا جائے اور وہ بھی تب جب بائک کو چلانے والا ہمارا کوئی رشتے دار نہیں بلکہ بالکل اجنبی انسان ہو اور آپ کو رائیڈ ہیلنگ سروس دے رہا ہو۔
جب کریم نے اپنی بائیک ہیلنگ سروس کا آغاز کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں جانتی تھی کہ یہ سروس گاڑی سے کافی سستی ہوگی۔میں اپنے آنے جانے کے لئے کریم کی سروس ہی استعمال کرتی ہوں اور بائیک ہیلنگ سروس گاڑی سے30سے40فیصد سستی ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نا اسے استعمال کیا جائے۔
اب پاکستان میں رہتے ہوے اتنا تو میں جانتی تھی کہ لڑکی کا گاڑی کی سروس استعمال کرنا معیوب نہیں لیکن بائیک کی سروس استعمال کرنا معیوب ہے، اسلئے میں نے گھر پر پہلی دفعہ بتایا ہی نہیں کہ میں کریم کی بائیک سروس استعمال کرنے والی ہوں۔
سب سے پہلی دفعہ میں نے بائیک کی سروس کا ستعمال آئی آئی چندری گڑھ روڈ سے ٹیپو سلطان روڈ جانے کے لئے کیا۔
جیسے ہی میں نے کریم کی سروس پر موجود ’’ چلو‘‘ کا بٹن دبایا ، مجھے گھبراہٹ شروع ہو گئی۔ایک پریشانی مجھے اپنے کپڑوں کی بھی تھی کیونکہ میں نے دوپٹہ نہیں پہنا تھا اور میری شرٹ کی لمبائی بھی میرے گھٹنوں تک کی تھی۔جلد ہی مجھے رائیڈر کی کال موصول ہوگئی۔اُس نے مجھ سے پوچھا کہ کہیں میں نے غلطی سے تو گاڑی کی جگہ بائیک نہیں منگوالی لیکن میں نے اُس کو بتایا کہ جی نہیں میں نے خود بائیک ہی منگائی ہے۔اُس نے مجھے ایک ہیلمٹ دیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ کیا مجھے سر جیکل کیپ بھی چاہئیے؟ میں نے پوچھا وہ کس لئے تو اس نے بتایا کہ ہیلمٹ میں بہت پسینہ آتا ہے اس لئے کمپنی سے سرجیکل careem 1 کیپ بھی مہیا کیے ہوے ہیں۔ اس بات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔
میں نے کچھ ٹھہر کر مردوں کی طرح پر بائیک پر بیٹھنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں میں نے رائیڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن فوراََ گھبرا کر پیچھے کر لیا اور ساتھ ہی اُس سے معافی مانگی جس کے جواب میں وہ بولا کہ کوئی بات نہیں ، آپ آرام سے بیٹھیں۔
مجھے سچ میں مزا آیا۔ رات میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور بائیک کا یہ سفر مجھے ایسا لگا کہ میں کسیamusementپارک میں ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ ڈرائیور بھی تمیزدار اور پرو فیشنل تھا جس کے ساتھ میں نے خود کو محفوظ سمجھا۔اُترتے وقت میں نے اُس کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد اُس نے مجھے بتایا کہ کراچی شہر میں اُس کی بھی کسی لڑکی کے ساتھ یہ پہلی رائیڈ تھی۔
اس کے بعد کہ بھی بائیک رائیڈز میں بھی میرا تجربہ اچھا ہی تھا۔ایک مزیدار ٹرپ، ٹریفک کا بھی جھنجھٹ نہیں اور کھلی ہوا سب ہی کسی کا موڈ بدلنے کے لئے کافی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ میں نے بہت سارا پیسہ بھی بچایا ، کوئی برا واقعہ بھی پیش نہیں آیا اور بائیک رائیڈز کا مزا الگ سے۔
لیکن آزادی کی کوئی نا کوئی قیمت تو ہوتی ہی ہے۔ اسلئے وہ دن بھی آیا جب میرے ساتھ بھی ایک برا تجربہ ہو ہی گیا۔
روز کی طرح میں نے اپنے آفس سے گھر جانے کے لئے بائیک منگائی۔ جیسے ہی میں بائیک پر بیٹھنے لگی وہ رائیڈر بولاکہ آپ ایسے بیٹھیں گی؟(مطلب آدمیوں کی طرح) میں نے جواب دیا کہ ہاں تو وہ بولا نہیں آپ عورتوں کی طرح بیٹھیں۔ میں نے اُس کو بتایا کہ نہیں ویسے مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اُس نے کہا ’’مگر لوگ دیکھتے ہیں نا‘‘۔
وہیں سے مجھے پتہ لگ گیا کہ یہ رائیڈ اُتنی اچھی ثابت نہیں ہو گی۔جب ہم منزل پر پہنچ گئے اور میں اُترنے لگی تو رائیڈر نے مجھ سے کہا کہ ’’میڈم اگلیدفعہ سے آپ گاڑی ہی منگوائیے گا‘‘۔
میراُ س رائیڈر کی باتوں سے اتنا دل خراب ہوا کہ اگلے کچھ دن میں نے کریم کی بائیک سروس استعمال ہی نہیں کی لیکن پھر مجھے میرے دوستوں نے careem 3 سمجھایا اور میں نے اُس رائیڈر کے خلاف شکایت لگانے کا سوچا۔
میں نے کریم کی بائیک سروس استعمال کر کے کافی چیزیں سیکھیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:
پہلی کہ ہم عورتیں کتنی آسانی سے اپنے آرام اور فائدے کونظر انداز کر دیتی ہیں۔یقین کریں کے یہ بائیک رائیڈز بہت آسان ہیں جب آپ سکون سے اپنے بچاؤ کی تدابیر کر کے بائیک پر بیٹھے ہیں۔ساتھ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر میرے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو مجھے اُسے کمپنی کو ضرور رپورٹ کرنا چاہئیے، یہ میرا حق ہے۔ جب میں نے اُس رائیڈر کی شکایت کرنے کے لئے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا تو وہاں موجود سٹاف نے تحمل سے میری بات سنی اور مجھ سے معافی بھی مانگی۔
دوسری چیز یہ کہ کس طرح یہ پدرانہ نظام ہمارے لباس تک میں بس گیا ہے۔ کئی دفعہ مجھے بند چاک کی وجہ سے بائیک پر بیٹھنے میں مشکل ہوئی، مجھے لگا میرے کپڑے پھٹ جائیں گے اور کبھی میرے لئے اپنے سامان کے ساتھ اپنے بالوں اور دوپٹے کو سنبھالنے میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
تیسری اور سب سے اہم چیز جو میں نے سیکھی وہ یہ کہ خالی سفر کرنے کے لئے مجھے اپنے کتنے احساسات مارنے پڑتے تھے۔ مجھے پتہ ہے کہ بائیک کی رائیڈز کا انتخاب ایک نئی روایت کی شروعات ہے اور اس وقت مجھے اپنے علاوہ کسی اور کی حوصلہ افزائی حاصل نہیں تھی یا شائد کچھ رائیڈرز نے مجھے حوصلہ ضرور دیا۔ مجھے اپنا زیادہ پیسہ اور زیادہ وقت خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے جب وہی سہولت مجھے سستی بھی مل سکتی ہے۔
مجھے خوشی ہو گی اگر مجھے پتہ چلے کہ میرے علاوہ بھی کوئی لڑکیاں ہی جو صرف ایک بائیک رائیڈ سے اس پدرانہ نظام کے خلاف آواز اُٹھا رہی ہیں۔
والی28سالہ غیر شادی شدہ لڑکی ہوں۔ اس علاقے میں ہماری ہی طرح کے بلندی کے لئے کوشاں قدامت پسند گھرانے رہائش پذیر ہیں۔
شائد یہ بیانیہ بات لگے لیکن ہمارے جیسے گھروں میں لڑکیوں کو تعلیم تو حاصل کرائی جاتی ہے لیکن پدرانہ نظام کے سائے میں۔ مثال کے طور پر دوپٹہ لینا ضروری ہے،۔ جب ہم موٹر سائکل پر بیٹھیں تو ہماری کمر کے خم اور بھاری کولہے ہماری قمیض میں سے نظر نہیں آنے چاہئیں۔ہماری قمیض کے چاک بھی یہی سوچ کے سئیے جاتے ہیں کہ کہیں سے کچھ نظر نہ آ جائے۔ہم بائک پہ بھی اپنی ٹانگیں کراس کر کے ایسے بیٹھتے ہیں جیسے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں۔مطلب بائک پہ عورتوں کی طرح بیٹھتے ہیں۔
شہر میں گھومنے کے لئے ہمارا سارادارومدار ہمارے والد، ہمارے بھائی یا ایسے ڈرائیورز پر ہوتا ہے جو پیسے لے کے ہمیں کہیں چھوڑ دیں۔کبھی ہم رکشہ بھی لے لیتے ہیں یا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہم گھر والوں سے اجازت اور پیسے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں کریم کی سروس استعمال کرنے دیں۔
پھر تو قدرتی طور پر یہ ایک مشکل بات ہی ہوئی نا کہ روایت کو توڑ کر بائیک پر عورتوں کی طرح نہیں بلکہ مردوں کی طرح بیٹھا جائے اور وہ بھی تب جب بائک کو چلانے والا ہمارا کوئی رشتے دار نہیں بلکہ بالکل اجنبی انسان ہو اور آپ کو رائیڈ ہیلنگ سروس دے رہا ہو۔
جب کریم نے اپنی بائیک ہیلنگ سروس کا آغاز کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں جانتی تھی کہ یہ سروس گاڑی سے کافی سستی ہوگی۔میں اپنے آنے جانے کے لئے کریم کی سروس ہی استعمال کرتی ہوں اور بائیک ہیلنگ سروس گاڑی سے30سے40فیصد سستی ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نا اسے استعمال کیا جائے۔
اب پاکستان میں رہتے ہوے اتنا تو میں جانتی تھی کہ لڑکی کا گاڑی کی سروس استعمال کرنا معیوب نہیں لیکن بائیک کی سروس استعمال کرنا معیوب ہے، اسلئے میں نے گھر پر پہلی دفعہ بتایا ہی نہیں کہ میں کریم کی بائیک سروس استعمال کرنے والی ہوں۔
سب سے پہلی دفعہ میں نے بائیک کی سروس کا ستعمال آئی آئی چندری گڑھ روڈ سے ٹیپو سلطان روڈ جانے کے لئے کیا۔
جیسے ہی میں نے کریم کی سروس پر موجود ’’ چلو‘‘ کا بٹن دبایا ، مجھے گھبراہٹ شروع ہو گئی۔ایک پریشانی مجھے اپنے کپڑوں کی بھی تھی کیونکہ میں نے دوپٹہ نہیں پہنا تھا اور میری شرٹ کی لمبائی بھی میرے گھٹنوں تک کی تھی۔جلد ہی مجھے رائیڈر کی کال موصول ہوگئی۔اُس نے مجھ سے پوچھا کہ کہیں میں نے غلطی سے تو گاڑی کی جگہ بائیک نہیں منگوالی لیکن میں نے اُس کو بتایا کہ جی نہیں میں نے خود بائیک ہی منگائی ہے۔اُس نے مجھے ایک ہیلمٹ دیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ کیا مجھے سر جیکل کیپ بھی چاہئیے؟ میں نے پوچھا وہ کس لئے تو اس نے بتایا کہ ہیلمٹ میں بہت پسینہ آتا ہے اس لئے کمپنی سے سرجیکل کیپ بھی مہیا کیے ہوے ہیں۔ اس بات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔
میں نے کچھ ٹھہر کر مردوں کی طرح پر بائیک پر بیٹھنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں میں نے رائیڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن فوراََ گھبرا کر پیچھے کر لیا اور ساتھ ہی اُس سے معافی مانگی جس کے جواب میں وہ بولا کہ کوئی بات نہیں ، آپ آرام سے بیٹھیں۔
مجھے سچ میں مزا آیا۔ رات میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور بائیک کا یہ سفر مجھے ایسا لگا کہ میں کسیamusementپارک میں ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ ڈرائیور بھی تمیزدار اور پرو فیشنل تھا جس کے ساتھ میں نے خود کو محفوظ سمجھا۔اُترتے وقت میں نے اُس کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد اُس نے مجھے بتایا کہ کراچی شہر میں اُس کی بھی کسی لڑکی کے ساتھ یہ پہلی رائیڈ تھی۔
اس کے بعد کہ بھی بائیک رائیڈز میں بھی میرا تجربہ اچھا ہی تھا۔ایک مزیدار ٹرپ، ٹریفک کا بھی جھنجھٹ نہیں اور کھلی ہوا سب ہی کسی کا موڈ بدلنے کے لئے کافی ہیں۔
careem 5اس کے ساتھ ساتھ میں نے بہت سارا پیسہ بھی بچایا ، کوئی برا واقعہ بھی پیش نہیں آیا اور بائیک رائیڈز کا مزا الگ سے۔
لیکن آزادی کی کوئی نا کوئی قیمت تو ہوتی ہی ہے۔ اسلئے وہ دن بھی آیا جب میرے ساتھ بھی ایک برا تجربہ ہو ہی گیا۔
روز کی طرح میں نے اپنے آفس سے گھر جانے کے لئے بائیک منگائی۔ جیسے ہی میں بائیک پر بیٹھنے لگی وہ رائیڈر بولاکہ آپ ایسے بیٹھیں گی؟(مطلب آدمیوں کی طرح) میں نے جواب دیا کہ ہاں تو وہ بولا نہیں آپ عورتوں کی طرح بیٹھیں۔ میں نے اُس کو بتایا کہ نہیں ویسے مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اُس نے کہا ’’مگر لوگ دیکھتے ہیں نا‘‘۔
وہیں سے مجھے پتہ لگ گیا کہ یہ رائیڈ اُتنی اچھی ثابت نہیں ہو گی۔جب ہم منزل پر پہنچ گئے اور میں اُترنے لگی تو رائیڈر نے مجھ سے کہا کہ ’’میڈم اگلی دفعہ سے آپ گاڑی ہی منگوائیے گا‘‘۔
میراُ س رائیڈر کی باتوں سے اتنا دل خراب ہوا کہ اگلے کچھ دن میں نے کریم کی بائیک سروس استعمال ہی نہیں کی لیکن پھر مجھے میرے دوستوں نے سمجھایا اور میں نے اُس رائیڈر کے خلاف شکایت لگانے کا سوچا۔
میں نے کریم کی بائیک سروس استعمال کر کے کافی چیزیں سیکھیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:
پہلی کہ ہم عورتیں کتنی آسانی سے اپنے آرام اور فائدے کونظر انداز کر دیتی ہیں۔یقین کریں کے یہ بائیک رائیڈز بہت آسان ہیں جب آپ سکون سے اپنے بچاؤ کی تدابیر کر کے بائیک پر بیٹھے ہیں۔ساتھ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر میرے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو مجھے اُسے کمپنی کو ضرور رپورٹ کرنا چاہئیے، یہ میرا حق ہے۔ جب میں نے اُس رائیڈر کی شکایت کرنے کے لئے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا تو وہاں موجود سٹاف نے تحمل سے میری بات سنی اور مجھ سے معافی بھی مانگی۔
دوسری چیز یہ کہ کس طرح یہ پدرانہ نظام ہمارے لباس تک میں بس گیا ہے۔ کئی دفعہ مجھے بند چاک کی وجہ سے بائیک پر بیٹھنے میں مشکل ہوئی، مجھے لگا میرے کپڑے پھٹ جائیں گے اور کبھی میرے لئے اپنے سامان کے ساتھ اپنے بالوں اور دوپٹے کو سنبھالنے میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
تیسری اور سب سے اہم چیز جو میں نے سیکھی وہ یہ کہ خالی سفر کرنے کے لئے مجھے اپنے کتنے احساسات مارنے پڑتے تھے۔ مجھے پتہ ہے کہ بائیک کی رائیڈز کا انتخاب ایک نئی روایت کی شروعات ہے اور اس وقت مجھے اپنے علاوہ کسیcareem 6 اور کی حوصلہ افزائی حاصل نہیں تھی یا شائد کچھ رائیڈرز نے مجھے حوصلہ ضرور دیا۔ مجھے اپنا زیادہ پیسہ اور زیادہ وقت خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے جب وہی سہولت مجھے سستی بھی مل سکتی ہے۔
مجھے خوشی ہو گی اگر مجھے پتہ چلے کہ میرے علاوہ بھی کوئی لڑکیاں ہی جو صرف ایک بائیک رائیڈ سے اس پدرانہ نظام کے خلاف آواز اُٹھا رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *