کیا جنسی حملوں کے خلاف مہم مردوں کے خلاف مہم ہے؟ کچھ تو عقل کیجیے

nasrine malikنسرین ملک

مجھے معلوم ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کئی سال گزر چکے ہوں لیکن وین سٹین کے واقعہ کے بعد metoo# کے نام سے سوشل میڈیا  مہم اور اس مسئلے پر سیاست شروع ہوئے ابھی تین ہفتے گزرے ہیں۔ ایک کلچرل شفٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ طاقتور لوگ بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بری حرکات کے نتائج ان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ کچھ بڑے لوگوں  کے نام سامنے آئے ہیں  لیکن ابھی در اصل اس تبدیلی کا آغاز ہے۔ بلکہ آغاز بھی اپنی ابتدائی سطح پر ہے۔ تبدیلی کی امید کی ہوا چل پڑی ہے۔

لیکن یہ معمولی تبدیلی بھی کچھ لوگوں کو پسند نہیں آ رہی ہے۔ روزانہ ریڈیو اور ٹی وی پر کم از کم ایک یا دو لوگ ایسے موجود ہوتے ہیں جو یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ بات کا بتنگڑ بنایا جا رہا ہے۔ روزانہ کچھ مرد چیختے نظر آتے ہیں ایسے جانوروں کی طرح جن کا نظام زندگی متاثر ہو گیا ہو۔ ہر طرف ایک بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے، چینوٹیوں کی طرح مرد ایسے گھبراتے پھر رہے ہیں جیسے ان  کے گھر پر قبضہ کر لیا گیا ہو۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ مہم تمام مردوں کے خلاف شروع کی گئی ہے۔

اگر آپ اسے مبالغہ سمجھتے ہیں تو یہ بات قابل معافی ہے۔ ٹیلی گراف میں چارلز مور کیا بیان ہے کہ خواتین اب مردوں کے برابر آ چکی ہیں لیکن توقع ہے کہ وہ مردوں کو کچلنے کے بجائے طاقت بانٹنے پر انحصار کریں گی۔ دی میل میں پیٹر ہیچنز  اپنی لاجک بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سب کوشش کے بعد خواتین کو نقاب کےعلاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کچھ بڑے لوگ اپنی ہار دیکھ کر اس مہم کو جمہوریت کےلیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ مائیکل وائٹ  نے ریڈیو 4 پر ویسٹ منسٹر کی فیمیل رپورٹرز کو درندہ قرار دیا۔ ڈیوڈ گڈ ھارٹ کے مطابق یہ مہم ہاتھ گھٹنے پر رکھنے، ریپ کے الزامات لگانے، کسی کو دھمکانے  اور دوسرے واقعات میں کوئی فرق نہیں رکھتی جو ناقابل قبول عمل ہے۔ بہت سے مرد یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین میں اٹھنے والی یہ انقلابی لہر  ابھی حد سے باہر نکلی جا رہی ہے۔

ان لوگوں کے ڈی این اے میں ایک ایسی چیز شامل ہے جو انہیں یہ سکھاتی ہے کہ ان کا رتبہ بغیر محنت کے انہیں ملا ہوا ہے۔ یہ محض بیالوجی اور سماجی شرائط کی وجہ سے حاصل ہے۔اسی وجہ سے انہیں جابز اور سماجی حیثیت حاصل ہے باوجود اس کے کہ وہ کچھ زیادہ محنت نہیں کرتے ۔ ان کی کمزوریاں حقیقی ہیں۔  

اور ہاں خواتین بھی ایسی ہیں ۔ جین موئر، میلانی فلپس، اینی لیزلی، اور ان جیسی کچھ ایسی خواتین ہیں جنہیں خواتین کا ہی مخالف سمجھا جاتا ہے ۔ یہ اپنے ذاتی مفاد کےلیے خواتین کے حقوق کےلیے اٹھنے والی آواز کو دبانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ پدرانہ نظام ایک باقاعدگی سے قائم کردہ مہذب نظام ہے جس کی بقا اس چیز میں مبنی ہے کہ یہ بہت سے ذاتی مفاد ڈھونڈنے والوں  کی حمایت حاصل کر لیتا ہے۔

اور اس طرح یہ ٹھیک ہے کہ یہ ایک اوور ری ایکشن تھا۔ جنسی حملوں والی حرکات  کے خلاف سخت رد عمل سے ہی کہنی سے ٹچ کرنے جیسے چھوٹے لیکن سنجیدہ مسائل کو بھی روکا جا سکتا ہے۔ وچ ہنٹ کی زبان  سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ یہ اس سمجھ کے خلاف ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی بھی الزام سنجیدگی سے لیا جاتا ہے تو  یہ سیکھا ہوا سبق بھلانا ہو گا۔ اس طرح کی humblingکسی طرح بھی منظور نہیں ہونی چاہیے۔ اسی وجہ سے مائیکل فالن کے استعفی  صرف گھٹنے پر ہاتھ کے برابر رہ گیا لیکن اب یہ کسی طرح بڑھ کر جنسی حملے کی برابر ہو چکا ہے۔ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ اتنا بڑھا سانحہ گھٹنوں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی خراش کی وجہ سے واقع ہوا ہے  نہ کہ ریپ یا خواتین پر جنسی طور پر حملہ آور ہونے کے الزامات سے۔  دنیا بھر کی  خواتین کے اندر اس قدر ہمت پیدا ہو چکی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے جنسی حملوں کے واقعات کو بیان کر سکے  اور بہت سے مرد بھی اپنے اندر اس ظلم کے خلاف ایکشن لینے کی بات کرنے کی ہمت کرنے لگے ہیں۔ یہ تمام کالم، انٹرویو، اور ٹویٹس ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: اگر رولز بن گئے تو ہم کیسے بچ سکیں گے؟

جواب یہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے اور وہ جانتے ہیں۔ سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے وہ ایک بڑی تبدیلی کو ٹھکرانا چاہتے ہیں اور ایسا نظام قائم رکھنا چاہتے ہیں  جس میں خواتین پر ظلم کرنے میں آسانیاں برقرار رہیں۔کسی کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ دینا  ان کے مطابق جنسی ہراساں کرنا نہیں ہے لیکن کچھ با اثر مرد  جب اس طرح کے معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھنے کا دعوی کرتے ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنسی حملے کرنے والوں کا مستقبل  تابناک ہی رہے گا۔  

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *