اپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہ

لبنان کی تنظیم حزب اللہ نےnasarullah سعودی عرب پر لبنان کے خلاف جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ امریکہ نے اپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے۔

یہ بیان لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کے سعودی عرب کے دارالحکومت میں استعفی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایک ٹیلی ویژن تقریر میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصرالله نے زور دیا کہ حریری کا استعفیٰ لبنانی سیاست میں ’بے مثال سعودی مداخلت‘ تھی۔

انھوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کو ان کی مرضی کے خلاف وہاں رکھا ہوا ہے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصرالله نے سعودی عرب پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اسرائیل کو لبنان کے خلاف اکسا رہا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اُن ممالک کو خبردار کیا ہے جو لبنان کو اپنی جنگ لڑنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ لبنان کی آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

خدشہ ہے کہ لبنان سعودی عرب اور ایران کے درمیان وسیع علاقائی تنازع مزید الجھ سکتا ہے کیونکہ سعد حریری کے مستعفیٰ ہونے کے بعد سے تینوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔

طاقتور شیعہ تحریک حزب اللہ ایران کی حمایتی ہے جس نے سعودی عرب پر لبنان اور اس خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بی بی سی کے مدیر سیبیسٹن اوشر کے مطابق حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر بہت پر امن انداز میں کی لیکن ایک ایسے وقت میں جب خطے کے باہر کے کئی مالک اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس تقریر سے کشیدگی مزید بڑھے گی۔

سعد الحریری

جمعرات کو ٹیلی ویژن خطاب میں حزب اللہ کے رہنما نصرالله نے کہا کہ سعودی عرب لبنان کے اندر جنگ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انھوں نے کہا، ’یہ واضح ہو گیا ہے کہ سعودی عرب نے لبنان اور حزب اللہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ہے لیکن مجھے یہ کہنا ہے کہ یہ لبنان کے خلاف جنگ ہے۔‘

انھوں نے سعودی عرب پر الزام لگایا کہ وہ لبنان پر حملہ کرنے کے لیے اسرائیلیوں کو اربوں ڈالر ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

نصراللہ نے کہا ’ہم سعودی عرب کی جانب سے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو استعفی کے لیے مجبور نہیں کیا اور نہ ہی انھیں یہ تاثر ملا ہے کہ سعد الحریری نے اپنی مرضی کے بغیر استعفیٰ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ لبنانی وزیراعظم اپنے ملک جائیں اور صورت حال واضح کریں تاکہ حکومت فعال ہو سکے۔

یاد رہے کہ سعد الحریری نے زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں ایران اور حزب اللہ کو بھی نشانہ بنایا۔

تاہم لبنانی صدر نے حریری کے استعفی کو قبول نہ کرتے ہوئے انھیں واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ لبنان میں یہ تاثر ہے کہ حریری کو سعودی عرب میں ایک مکان میں نظر بند رکھا گیا ہے اور ان پر کافی دباؤ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں نئے نازعے کے 'تباہ کن نتائج' ہوں گے۔

ادھر فرانس کے صدر نے جمعرات کو سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ انھوں نے سعودی حکام کے ساتھ یمن کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا اور لبنان میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

سعد حریری

خیال رہے کہ فرانس کے لبنان کے ساتھ تاریخی روابط رہے ہیں۔ لبنان دوسری جنگ عظیم کے دوران آزادی حاصل کرنے سے پہلے فرانس کی کالونی تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *