مالچا محل، وہ محل جس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں

malcha mahalبشکریہ:بی بی سی

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ایک محل ایسا بھی ہے جس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔

شہر کے بیچ و بیچ گھنے جنگل میں واقع مالچا محل فن تعمیر کا کوئی غیر معمولی نمونہ تو نہیں لیکن 14ویں صدی کی اس شکار گاہ سے ایک غیر معمولی کہانی وابستہ ہے۔

یہ شکارگاہ فیروز تغلق نے تعمیر کرائی تھی جس کا 1980 کے عشرے تک کوئی پرسان حال نہیں تھا۔

بیگم ولایت محل

مالچا محل
بیگم ولایت محل کا دعوی تھا کہ وہ اودھ کی ریاست کی وارث ہیں

بیگم ولایت محل 1970 کے عشرے میں منظر عام پر آیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی پڑپوتی تھیں اور وہ حکومت ہند سے اس تمام املاک کے عوض معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہی تھیں جو ان کے پڑدادا سے ضبط کی گئی تھیں۔

جب کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو ایک دن اچانک انھوں نے نئی دلی ریلوے سٹیشن کے وی آئی پی لاؤنج کو اپنا گھر بنا لیا۔ دس سال تک انھیں وہاں سے ہٹانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور پھر آخرکار حکومت نے انھیں مالچا محل الاٹ کر دیا تھا۔

مالچا محل
بیگم ولایت محل کو کتوں کا بہت شوق تھا

اس وقت تک یہ صرف ایک شکار گاہ تھی جس میں محکمہ آثار قدیمہ کی بھی دلچسپی نہیں تھی۔ جب ولایت محل نے لکھنؤ میں ایک گھر اور دلی میں فلیٹ کی پیش کش مسترد کر دی تو حکومت نے انھیں یہ شکار گاہ آفر کی۔

انھوں نے یہ پیش کش منظور کر لی اور اپنے ساتھ آٹھ خونخوار کتوں، اور ایک بیٹے 'پرنس' علی رضا اور بیٹی بیگم سکینا محل کے ساتھ اس میں منتقل ہو گئیں۔ انھوں نے ہی اس شکار گاہ کو 'مالچا محل' کا نام دیا۔

مالچا محل

مالچا محل
مالچا محل کا اندرونی حصہ جہاں اب صحافیوں کی زیادہ دلچسپی ہے

اس محل میں نہ بجلی تھی نہ پانی، نہ کھڑکیاں نہ دروازے۔ بس چاروں طرف محرابیں اور جنگلی جانوروں کو روکنے کے لیے کچھ لوہے کی جالیاں۔ حکومت نے اس کی مرمت کرانے کا وعدہ کیا تھا جو شاید کبھی پورا نہیں ہوا۔

یہاں نواب واجد علی شاہ کے ان وارثوں نے سکونت اختیار کی اور باقی دنیا سے کٹ کر اپنی باقی زندگی گزاری۔

بیگم ولایت محل اور 'شہزادہ' علی رضا کے جیتے جی یہاں کسی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی، ان کے خونخوار کتے بن بلائے مہمانوں کو دور ہی رکھتے تھے۔ وہ عام لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نہ کوئی وہاں آتا اور نہ وہ کہیں جاتے۔

کتاب
مرنے سے قبل انھوں نے ایک کتاب لکھی تھی

مالچا محل میں آنے کے تقریباً دس سال بعد بیگم ولایت محل نے خود کشی کر لی تھی، چند سال قبل بیگم سکینہ محل بھی گزر گئیں لیکن اس سے پہلے انھوں نے اپنے شاہی خاندان پر ایک کتاب لکھی تھی جس کی کاپیاں ابھی بھی مالچا محل میں بکھری پڑی ہیں۔

جب یہ خاندان مالچا محل میں منتقل ہوا تو ان کے ساتھ کچھ نوکر بھی تھے۔ لیکن آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، آہستہ آہستہ نہ نوکر باقی رہے اور نہ کتے۔

'پرنس' علی رضا کئی سال سے انتہائی غربت میں یہاں اکیلے رہتے تھے۔ بس کبھی ملتے تو غیر ملکی صحافیوں سے۔

علی رضا
پرنس' علی رضا کی پرانی تصویر

ان کی زندگی بھی ایک معمہ تھی، گزر بسر کیسے ہوتا اس کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، لیکن آخری دنوں میں بیچنے کے لیے ان کے پاس کچھ باقی نہیں تھا۔

ستمبر میں علی رضا بھی انتقال کر گئے اور کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ پولیس نے دلی وقف بورڈ کی مدد سے ان کی تدفین کرا دی۔ ان کے انتقال کی خبر اسی ہفتے سامنے آئی ہے۔

مالچا محل
ہر طرف نواب گھرانے کی یادگار بکھری ہوئی ہے

مالچا محل کے دروازے اب سب کے لیے کھلے پڑے ہیں، کسی کے آنے جانے پر پابندی نہیں۔ اندر داخل ہوں تو چاروں طرف ایک گزرے ہوئے دور کی یادیں بکھری پڑی ہیں۔

سامنے ہی ایک تخت پر ایک پرانا ٹوٹا ہوا ٹائپ رائٹر پڑا ہے۔ چاروں طرف فائلیں ہیں جن کے کاغذ وقت کے ساتھ زرد پڑ گئے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر فائلوں میں حکومت کے ساتھ بیگم ولایت محل کی خط وکتابت کا ریکارڈ ہے۔ معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش انھوں نے آخر تک نہیں چھوڑی تھی۔

خط
بيگم ولایت محل کے نام وزارت داخلہ کا ایک خط

ایک الماری میں کچھ کتابیں ہیں، زیادہ تر لکھنؤ اور مغلیہ دور کے بارے میں۔ نیشنل جیوگرافک میگزین شاید علی رضا کو بہت پسند تھی، اس کی کاپیاں جگہ جگہ پڑی ہیں۔ پرانی چیک بک ہیں جو شاید عرصے سے کسی کام کی نہیں تھیں۔

پرانی تصاویر بھی ہیں جن سے اچھے وقت کی جھلک ملتی ہے۔ ایک کمرے میں ایک فرج رکھا ہے، شاید اس دور کا جب انڈیا میں فرج آنا شروع ہی ہوئے تھے۔ فرج کے اندر اس سائز کا بلب نصب ہے جو عام طور پر کمروں میں لگایا جاتا ہے! بس المیہ یہ تھا کہ یہاں کبھی بجلی نہیں تھی۔

مالچا محل
پرانے زمانے کا فرج وہاں پڑا تھا لیکن وہاں کبھی بجلی نہیں آ سکی

برابر ہی ایک برامدے میں ایک ڈائننگ ٹیبل ہے جس پر اب ابھی تشتریاں رکھی ہوئی ہیں، ایک اور میز پر باقی کراکری سجی ہوئی ہے۔ کہنا مشکل ہے کہ اس میز پر آخری مرتبہ کب کھانا کھایا گیا ہو گا۔

'محل' کے ایک حصے میں ایک کھلا باورچی خانہ ہے اور آس پاس برتن بھکرے پڑے ہیں۔ قریب ہی ایک زنگ آلود تلوار پڑی ہوئی ہے جس نے اس 'شاہی' خاندان کی طرح کبھی بہتر وقت دیکھا ہو گا۔

مالچا محل
زنگ آلود تلوار ماضی کی داستان ہے

بیگم سکینہ محل نے ایک مرتبہ ایک صحافی سے کہا تھا کہ عام ہونا صرف ایک جرم ہی نہیں گناہ ہے۔

یہ ہی اس خاندان کا المیہ تھا۔ وہ زندگی میں اپنے ماضی کو بھلا نہیں سکے اورموت میں انھیں کسی نے یاد نہیں رکھا۔

۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *