ایران-عراق سرحدی علاقوں میں 7.3 شدت کا زلزلہ، 200 سے زائد جاں بحق

ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں7.3 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں اب تک 200 سے زائد افراد جاں بحق اور  سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شدید آفٹرشاکس کی وجہ سے سرحدی علاقے میں خوف و ہراس برقرار ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا  مرکز عراق کے کردستان ریجن کے علاقے حلبجہ کے جنوب مغرب میں تھا، جس کی زیر زمین گہرائی تقریباً 30 کلومیٹر تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب ،اردن ، لبنان اور اسرائیل میں بھی محسوس کیے گئے۔

گزشتہ رات آنے والے زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان ایران کے صوبے کرمان شاہ میں ہوا۔

ایرانی حکومت کے کرائسس یونٹ کے نائب سربراہ بہنام سید نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں 207 افراد جاں بحق جبکہ 17 سو افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب عراق کے کردستان ریجن میں 6 افراد کی ہلاکت اور 150 کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

عراق کے شہر سلیمانیہ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقے دربندیخان میں زلزلے کے نتیجے میں کافی تباہی ہوئی اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

'عمارت ہوا میں جھول رہی تھی'

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلزلے کے مرکز کے قریبی علاقوں میں شدید آفٹرشاکس کے باعث لوگوں نے رات گھروں سے باہر گزاری۔

عراقی دارالحکومت بغداد کے ضلع صالیحیہ کی رہائشی خاتون ماجدہ امیر  نے رائٹرز کو بتایا، 'میں اپنے بچوں کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہی تھی کہ اچانک عمارت نے ہوا میں جھولنا شروع کردیا، میں نے سوچا کہ شاید یہ کوئی بہت بڑا بم ہے، لیکن پھر میں نے اپنے اردگرد موجود لوگوں کو چلاتے ہوئے سنا، زلزلہ!'

ایران کی ایمرجنسی سروسز کے سربراہ پیر حسین کولیوند کے مطابق سڑکوں کے متاثر ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک ریسکیو ٹیموں کی رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ایران میں اس سے قبل بھی شدید زلزلے آچکے ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

1990 میں ایران میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں 40 ہزار کے قریب افراد جاں بحق جبکہ 3 لاکھ سے زائد زخمی ہوئے تھے، اس شدید زلزلے نے چند سیکنڈز میں2 ہزار کے قریب دیہاتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا تھا۔

13 سال بعد 2003 میں ایران کے قدیم جنوب مشرقی شہر بام میں آنے والے ایک اور شدید زلزلے کے نتیجے میں 31 ہزار افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ سیکڑوں گھر اور عمارتیں تباہ ہوگئیں تھیں۔

اس کے بعد سے عراق میں 2005 میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 600 سے زائد جبکہ 2012 میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 300 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *