تانگا پارٹیوں کا کوچوان!

ابھی چند ماہ پہلے کیnaeem-baloch1 بات ہے کہ اس بات پر بڑے زورشور سے بحث ہو رہی تھی کہ قومی حکومت بس بننے ہی والی ہے ۔ اس خواہش کو موجودہ سیاسی حالات کے تجزیے کی شکل میں پیش کرنے والوں نے تو ان ناموں کی فہرست بھی بنا لی تھی جو اس کا حصہ بننے والے تھے ۔اصل میں یہ وہی مایوس سیاسی یتیم اور ان کے بہی خواہ تھے جن کو معلوم تھا کہ وہ کبھی بھی آئینی طریقے سے حکمرانی کا مزہ نہیں چکھ سکتے ، اس لیے وہ کبھی دھرنوں کی پٹاری سے کچھ نکلنے کی توقع لگاتے تو کبھی ان بانکے ججوں کے ’’ تاریخی ‘‘ فیصلے سے من پسند نتا ئج اخذ کرنے کی بات کرتے جو فکشن سے دانش کشیدکرنے میں ید طولیٰ رکھنے کی خواہش میں مبتلا ہیں ۔ لیکن کسی بھی طرح سے وہ حکومت میں شمولیت کی خواہش پوری نہ کرسکے ۔ اب ان کو اگلی ٹرم کی فکر لاحق ہے کہ اگر2018کے بعد بھی ان کا داؤ خالی گیا تو کیا ہو گا ۔ کاش ان سے کوئی پوچھنے والا ہوتا کہ حضور وہ قومی حکومت کا کیا بنا؟ خیر اب انہی فصلی بٹیروں کو آج کل نت نئے انتخابی اتحادد بنوانے سے فرصت نہیں ۔
اصل میں ہمارے ’’اصل حکمرانوں ‘‘ کی تمنا یہی ہے کہ وہ منظر ایک دفعہ پھر پیدا ہو جائے جو بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو گرانے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ یعنی انتخابی معرکے میں کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کی اہل نہ ہو ۔ وزیر اعظم کا تمنائی ان کی مدد کے بغیر تخت پر قدم نہ رکھ سکے اور وہ جب تک اس منصب پر رہے ان کی ہاں میں ہاں ملاتا رہے ۔ اپنے اسی مْقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ ایم کیو ایم کو ایک کرنے کی سعی کر رہے ہیں ،لیکن مینڈ کوں کی یہ پنساری ان کے قابو نہیں آرہی ۔ کوئی ادھر پھدک جاتا ہے تو کوئی اُدھر ۔ وہ حالانکہ درست سمجھتے ہیں کہ یہ انہی کا لگایا ہوا بوٹا ہے ،اس لیے ان کا حق ہے کہ جیسے وہ چاہتے ہیں ویسا ہو۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو جتنا مرضی قابو میں رکھنے کی کوشش کریں ، کہیں نہ کہیں اس کی غیرت ، انا یا ضد بیدار ہو جاتی ہے ۔ عسکری میدان ہو تو مجاہدین ، دہشت گرد بن جاتے ہیں ، طالبان اچھے ہو کر بھی برے بن جاتے ہیں ۔ سیاستدان ہوں تو کبھی وہ مجیب الرحمان نکل آتا ہے ،کبھی بھٹو بن جاتا ہے تو کبھی نواز شریف کی شکل اختیار کر جاتا ہے ۔ اور آج کا عمران! کیامعلوم کل کیا ثابت ہو ؟ اس لیے ان کا خیال ہے کہ اب اپنے ہی گھوڑے کو میدان میں رکھا جائے ۔ اس لیے پرویز مشرف کو پہلے تو تانگا پارٹیوں کا کوچوان بنایا گیا ہے ۔ انھیں امید ہے اصلی ایم کیوایم بھی اس اشارے کو سمجھ جائے گی ۔لیکن زبھی تک کی تاریخ یہی رہی ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی فوجی جرنیل کو سیاست میں کامیابی نہیں ہوئی ۔ اب عالمی طاقتوں کی نظر میں پرویز مشرف جیسا چلا ہوا کارتوس اور پاکستانی عوام کی نظر میں ایک بھگوڑا قسم کا غیر سنجیدہ شخص ان کا رہنما کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر مقدمات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو موصوف کا منتظر ہے لیکن چلیں اس حوالے سے ہمارے ’’فاضل جج ‘‘ کچھ لو اور کچھ دو کا فارمولا لگا کرکوئی رستہ نکال لیں گے لیکن اگر یہ پاپڑ کامیابی سے بیل بھی لیے گئے تو ہمیں یقین ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں ان کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی۔ البتہ اگر پرویز مشرف کے ذریعے سے باد شاہ گروں کوکراچی اور سندھ کے شہری علاقوں سے پچیس سے تیس نشستیں حاصل ہوجاتی ہیں تو یقیناًً یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی ۔ ویسے بھی الطاف حسین کی شکل میں ایک مجرم کو ہیرو کے روپ میں دیکھنے کی روایت سندھ میں موجود ہے ، اس لیے ایک اور سہی! اس صورت میں پرویز مشرف واقعی ایک ’’ میننگ فل ‘‘ کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ لیکن یہاں سوال پھر یہ ہے کہ کیا وہ کسی کا’’ نائب ‘‘ بننا گورا کر لیں گے ؟ مگر یہ بہت بعدکا سوال ہے! ابھی وہ میننگ فل کردار ادا کرنے کی پوزیشن لینے کی کوشش میں ہیں ، جولمحہ موجود میں قابل حصول منزل ہے ۔
دوسری طرف مذہبی جماعتوں کا جتھا ہے ۔ مردہ ہونے کے قریب جماعت اسلامی کی تو گویا لاٹری نکل آئی ہے ۔ہمیشہ جیتنے والے گھوڑے پر رقم لگانے والے پاکستانی سیاست کے سب سے بڑے نباض مولانا فضل الرحمان نے اس دفعہ منصورہ جا کر جماعت اسلامی پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبلہ سراج الحق کی مسکراہٹیں پتا نہیں کہاں کہاں سے نکل رہی ہیں ۔مولانا کی خواہش ہو گی کہ مذہبی جماعتوں کی اس طرح سے صف بندی کی جائے کہ وہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی بی ٹیم نہ لگیں ۔ کل کو حالات جو بھی ہوں ان کے آپشن کھلے رہیں ۔ اور وہ کسی کے ساتھ بھی ہاتھ ملانے کی پوزیشن میں ہوں ۔ لیکن ان کی اس خواہش کو گالیوں والی سرکار، برے طالبان کے سالے ، اور آزادئ کشمیر کے قربانی کے دنبے ناکام بنا سکتے ہیں ۔ لیکن ان کی کامیابی کی صورت میں کل کو اگر اقتدار کی ہما عمران خان ہی کے سر پر بیٹھنے پر بضد ہو تو وہ سراج الحق کی آڑ میں کھڑے ہو کر ’’ ڈیزل ، ڈیزل ‘‘ کی آواز سنی ان سنی کر سکتے ہیں ۔ لیکن انھیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا ۔ مائنس نواز شریف تو اب ہو چکا لیکن شہباز شریف یاچودھری نثار، نواز شریف کی ہمدردی کا ووٹ ضرور حاصل کر سکیں گے۔ کیونکہ یہ دونوں حضرات جانتے ہیں کہ نواز شریف وہ ’’1‘‘ہے جو جس ’’0‘‘ کے ساتھ نیت سے کھڑا ہو گا وہ قیمتی ہو جائے گا ۔ اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ جاہلوں کی بھیڑ ہونے کے باوجود کوئی جاہل سے جاہل مسلم لیگیا اڑ کر کہیں نہیں بیٹھا۔ اس لیے نواز شریف نے ڈٹ جانے کا فیصلہ ایسے ہی نہیں کیا ۔ وہ واقعی پاکستانی سیاست کے سب سے تجربہ کار اور مضبوط کھلاڑی ہیں ۔زندہ رہیں گے تو واپس آئیں گے ، ختم کیے گئے تو ترکی والے عدنان میندرس (19501501960 )ثابت ہو ں گے ! مسلم لیگ کو خطرہ بس یہ ہے کہ کہیں مصنوعی بحران نہ پیدا کر دیے جائیں ، جس میں پٹرول کی قلت ، بجلی کا لمبا کریک ڈاؤن، ٹماٹر، آلو جیسی عوامی آئیٹم کی قلت جیسے ڈرامے شامل ہیں ۔لیکن اس صورت میں سوشل اور آزادمیڈیا کا’ جن‘ بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *