سچ کیا ہے؟

سچ کیا ہے؟

راحت اندوری نے رائج الوقت سچ کی سادہ الفاظ میں تعریف کچھ یوں کی ہے:

جو میری زبان سے نکلے وہی صداقت ہے.

ذیل میں سچائی کی اسی تعریف کو سامنے رکھ کر عہد حاضر میں بولے جانے والے سچ اور اصل سچ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آغاز سیاست سے کرتے ہیں۔

نواز شریف کا سچ یہ ہے کہ ان پر پانامہ کا مقدمہ بنا اور اقامہ پر نااہل کر دیا گیا جبکہ اصل سچ یہ ہے کہ،

تو اِدھر اُ دھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

عمران خان کا سچ یہ ہے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہیں. اصل سچ یہ ہے کہ ان کو مارچ کے مہینے سے خوف آتا ہے. اس لئے مارچ سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کے درپے ہیں۔

پیپلر پارٹی کا سچ یہ ہے کہ وہ ایک عوامی پارٹی ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ وہ عوام صرف اندرون سندھ میں پائی جاتی ہے۔

ایم کیو ایم کا سچ یہ ہے کہ وہ مہاجروں کی نمائندہ جماعت ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ یہ ’مہاجر‘ نامی مخلوق صرف کراچی اور حیدرآباد میں رہتی ہے، باقی پاکستان میں بسنے والے مہاجر عرصہ ہوا پاکستانی بن چکے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کا سچ یہ ہے کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کیلئے متحدہ ہو گئے ہیں، اور اصل سچ یہ ہے کہ اسی متحدہ مجلس عمل کے اکثر رہنماء ایک دوسرے کی نظروں میں مشکوک مسلمان ہیں۔

فوج کا سچ یہ ہے کہ وہ سیاسی کردار ادا نہیں کر رہی اور جمہوری عمل کے تسلسل کی حامی ہے جبکہ اصل سچ یہ ہے کہ سیاستدانوں کو جمہوریت سکھانے کی ذمہ داری بھی فوج نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔

میڈیا کا سچ یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو حکمرانوں کے سامنے اجاگر کرتا ہے جبکہ دراصل دکھاتا وہی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ کمائی کا امکان ہو۔

عوام کا سچ یہ ہے کہ اکثر صاحبان اقتدار آرٹیکلز باسٹھ تریسٹھ پر پورے نہیں اترتے اور اصل سچ یہ ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ ہی ان دونوں آرٹیکلز پر پورا نہیں اترتا۔

اب آئیے ذرا ملک سے باہر کی سیر کر کے آتے ہیں۔

امریکہ کا سچ یہ ہے کہ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے کام کر رہا ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگ و جدل ہے، اس میں امریکہ کسی نہ کسی صورت ملوث ہے۔

افغانستان کا سچ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جبکہ خود افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر حکومت کی عملداری صفر ہے اور تین صوبے داعش کے قبضے میں ہیں۔

بھارت کا سچ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ امر واقعی یہ ہے کہ خود مودی سرکار بلوچستان کی آزادی کا تمغہ سینے پر سجانے کے لئے بے قرار بیٹھی ہے۔

سعودی عرب کا سچ یہ ہے کہ وہاں کرپشن کے خلاف مہم جاری ہے جبکہ حقیقت میں محمد بن سلمان اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگا رہے ہیں۔

ایران کا سچ یہ ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے امن کو خراب کر رہے ہیں جبکہ خطے میں جہاں کہیں بھی امن خراب ہے اس کے تانے بانے ایران، امریکہ اور سعودی عرب سے ہی جا کر ملتے ہیں۔

چین کا سچ یہ ہے کہ وہ دنیا کو قریب لانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں وہ دنیا کو قابو کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

روس کا سچ یہ ہے کہ وہاں کا نظام حکومت ایک جمہوری سسٹم ہے جبکہ اصل میں وہاں پیوٹن کی صورت میں ایک زار ہی حکمران ہے۔

برطانیہ کا سچ یہ ہے کہ وہ یورپی یونین سے الگ ہونا چاہتا ہے لیکن اندر خانے برطانیہ کسی ایسے بہانے کی تلاش میں ہے جو اس کو یورپ کے ساتھ ہی رہنے کا جواز مہیا کرے۔

میرا سچ یہ ہے کہ میں نے ایک اچھا مضمون لکھ دیا ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں پتہ کہ میں نے کیا لکھا ہے!

قارئین چاہیں تو اپنا سچ بھی منظر عام پر لا سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *