سعودی عرب ماڈریٹ اسلام کے راستے پر۔۔۔۔

nadeem 2ندیم ایف پراچا

27 اکتوبر کو برطانوی اخبار دی گارڈین میں سعودی عرب کے کراون پرنس کا بیان نقل کیا گیا جس میں ایم بی ایس نےدعوی کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو ماڈریٹ اسلام کے راستے پر واپس لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دہائیاں قبل سعودی عرب میں ماڈریٹ اسلام ہی نافذ تھا  لیکن اس کے بعد اسلام کے سخت نفاذ کی ناکام کوششیں کی گئیں۔ سلمان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ایران میں آنے والا 1979 کا انقلاب تھا ۔ ایران کے انقلاب کے رد عمل میں سنی ممالک میں بھی اور خاص طور پر سعودی عربیہ میں سخت مذہبی اقدامات  اپنانے کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق سنی ممالک کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایران میں ریڈیکل اسلام کے بڑھاوے کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔

سلمان سعودی عرب کے نئے بادشاہ بننے والے ہیں۔ انہیں آج ہی سے بہت زیادہ اختیارات اور اثر و رسوخ حاصل ہے۔ ان کے بیان سے نہ صرف سعودی عرب کے لوگ حیران ہوئے بلکہ دنیا کے ایسے ممالک بھی حیران ہوئے جو سعودی عرب کے بارے میں خاص آرا ء رکھتے ہیں۔ ایک سیکشن یورپ اور امریکہ کے مبصرین  اور ماڈریٹ اور لبل مسلمانوں کی ہے۔ ان سب کا خیال تھا کہ پچھلے کئی دہائیوں سے سعودی عرب نے مذہبی معاملات میں حد سے زیادہ سختی برت رکھی ہے۔  ان لوگوں کی رائے میں یہ طریقہ شاہی خاندان کے خلاف بغاوت کو کچلنے کےلیے اپنایا گیا تھا۔ پھر یہی اصول باقی دنیا میں بھی پھیلنے لگے ۔یہ سمجھا گیا کہ یہ مقصد حاصل کرنے میں پیٹرو ڈالر کی طاقت کا استعمال کیا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کے بہت سے مسلم ممالک میں ریڈیکلائزیشن بڑھنے لگی  اور کچھ معاشرے بے مثال شدت پسندی کا شکار ہونے لگے۔ اس کے اثرات سعودی عرب پر  بھی واضح ہونا شروع ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ سعودی کراون پرنس کے اپنے ملک کو ماڈرن اسلام کی طرف واپس لانے کے عمل سے باقی اسلامی ممالک کی سیاست پر کیا فرق پڑے گا؟

دوسری سیکشن نے اس پالیسی کا ہمیشہ دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب  نے ایسا اس لیے کیا تا کہ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے ایران کے خلاف توازن پیدا کیا جا سکے۔ اس سیکشن کا یہ دعوی بھی ہے کہ سخت سعودی پالیسیوں  کا ملک میں نفاذ اور بیرون ملک انتقال  کمیونزم، سوشلزم اور سیکولرازم جیسے نظریات کی نفی کے لیے ضروری تھا۔  اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں کہ  اس طرح کے نظریات رکھنے والوں میں سے اکثریت کا تعلق سعودی عرب سے مالی اور سیاسی  مدد حاصل کرنے والوں سے تھا۔

جو بھی ہو، سلمان کے دعوے نے اس بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے۔ 5 نومبر کو شائع ہونے والے نیو یارک ٹائمز میں دعوی کیا گیا کہ 4 نومبر کو شہزادہ محمد بن سلمان نے مذہبی اسٹیبلشمنٹ اور با اثر ملاوں کے خلاف بھی کریک ڈاون کا  حکم دیا ہے۔ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ممبران شاہی محل اور تیل کی دولت کو دنیا بھر میں نفرت اور تشد پھیلانے کےلیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی دن 11 سعودی شہزادوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق گرفتار شہزادے محمد بن سلمان کے قطر کو تنہا کرنے کے فیصلے کے خلاف تھے  اور ان پر اخوان المسلمون سے تعلقات کے بھی الزامات تھے ۔

ماڈریٹ سعودی عرب کا ویژن بیان کرتے ہوئے سلمان اکثر سابق سعودی حکمران شاہ فیصل کا حوالہ دیتے ہیں۔ شاہ فیصل کو 1975 میں ایک ایسے شخص کے بھائی نے قتل کر دیا تھا جسے سعودی پولیس نے 1966  میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔حملہ آور شخص اس ریلی میں شامل تھا جو شاہ فیصل کے ٹی وی اسٹیشن کے قیام کےفیصلے کے خلاف ریاض میں نکالی گئی تھی۔ فیصل کو آج بھی سب سے زیادہ پروگریسو اور ماڈرنسٹ حکمران کہا جاتا ہے۔ وہ 1964 میں شاہی بغاوت کے نتیجہ میں حکمران بنے  جب انہوں نے اپنے بھائی  سعود بن عبد العزیز کے خلاف شروع کی تھی۔ فرزانہ مون اپنی کتاب 'نو اسلام بٹ اسلام ' میں لکھتی ہیں کہ شاہ فیصل اپنے بھائی  پر اکثر الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے ملک کی تیل کی دولت کا غلط استعمال کیا ہے۔ شاہ فیصل نے سعودی نیشنل گارڈز کی مدد سے سعود کو شاہی محل سے بے دخل کیا۔ سعود 1953 سے اقتدار پر قابض تھے۔

جیمز پی جنکوسکی اپنی کتاب 'ناصر  کا مصر' میں لکھتے ہیں کہ فیصل کے حکومت سنبھالنے کے بعد مڈل ایسٹ میں عام طور پر اور مسلم دنیا میں خاص طور پر دو گروپ اور نظریات پروان چڑھے  جن  میں ایک عرب نیشنلزم اور دوسرا بعث سوشلزم تھا۔ مصری صدر جمال ناصر کو مسلم دنیا کا سربراہ مانا جاتا تھا ۔ جنکوسکی کے مطابق ناصر سعودی عرب کو ایک پسماندہ اور ری گریسو ملک قرار دیتے تھے۔

2011 میں لکھی گئی کتاب میں ڈاکٹر شریفہ ظہور  نے لکھا کہ ناصر کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کےلیے شاہ فیصل نے سعودی عرب کو ماڈن بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ انہوں نے ٹی وی متعارف کروایا، ماڈرن تعلیم کی ترویج کی اور سعودی خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی۔ موردی چائی عبیر نے 1987 کے ایک مضمون میں لکھا کہ شاہ فیصل کو ملک کے مذہبی طبقہ کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔اس وجہ سے فیصل نے حکومت کے دروازے مذہبی طبقہ کے لیے بند کر دیے۔  

جب ناصر کا اثر ورسوخ 1970 میں اس کی موت کے ساتھ ختم ہوا تو شاہ فیصل مسلم دنیا میں بہت مقبول ہوئے  خاص طور پر تب جب انہوں نے ایسے ملکوں کو تیل بیچنا شروع کیا جنہوں نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی حمایت کی تھی۔انہی دنوں سعودی عرب نے مسلم ممالک  میں بہت زیادہ پیسہ لگا کر ان کے اندرونی معاملات میں بھی اثر دکھانے میں کامیابی حاصل کی۔  

کہا جا رہا ہے کہ جن شہزادوں کو 4 نومبر کو گرفتار کیا گیا ان کا اخوان المسلمون سے بھی گہرا تعلق تھا۔ یہ بہت حیرت  کی بات ہے کیونکہ سلمان فیصل کو اپنا ہیرو مانتے ہیں  لیکن فیصل کے دور میں ہی سعودی عرب نے اخوان المسلمین کی حمایت اور مدد شروع کی۔ ایک مصری تنظیم اخوان المسلمون 1950 سے 1960 کی دہائی میں بھی  ناصر الاسد حکومت کی مخالفت کرتی آئی ہے،۔اس تنظیم کے بہت سے ممبران جنہیں ناصر نے  ملک بدر کیا تھا کو شاہ فیصل نے اپنے ملک میں پناہ دی  اور انہیں اپنے  ملک میں سکول، کالج اور یونیورسٹیان چلانے کی آزادی دی۔  

کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے کہ سعودی عرب اور اخوان المسلمین کے بیچ تعلق کمزور پڑ گیا ہے۔ اپریل 2017میں مڈل ایسٹ آئی کے عنوان سے ڈیوڈ  ہرسٹ نے مضمون لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ مصری لیڈر عبد السیسی نے سعودی عرب کو اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ اخوان المسلمین سعودی شاہی خاندان کےلیے خطرہ بن چکا ہے۔سلمان  اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی اصلاحات پر بہت زور لگا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی طرف سے یہ تبدیلیاں مسلم ممالک پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں  خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں سعودی نظریات بہت سختی سے راسخ ہونے کے بعد نافذ بھی کیے جا چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *