سعد حریری کو فرانس آنے کی دعوت، ’سیاسی پناہ نہیں دے رہے‘

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نےsaad hareeri لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری اور ان کے اہل خانہ کو فرانس آنے کی دعوت دی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ وہ سعد حریر کو سیاسی پناہ نہیں دے رہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سعد حریری آئندہ چند دنوں میں فرانس پہنچیں گے۔

یاد رہے کہ سعد حریری نے چار نومبر کو سعودی عرب کے دورے کے دوران عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

جرمنی میں فرانس کے صدر نے کہا کہ انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور سعد حریری سے فون پر بات کرنے کے بعد لبنانی وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو چند دنوں کے لیے فرانس آنے کا دعوت دی ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا فرانس سعد حریری کو سیاسی پناہ دے رہا ہے تو ان کا کہنا تھا 'نہیں، بالکل نہیں۔ ہمیں مضبوط لبنان کی ضرورت ہے جس کی علاقائی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ ہمیں ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو اپنے فیصلے خود کر سکیں اور جو اپنے خیالات کا اظہار آمادی سے کر سکیں۔'

فرانس نے سعد حریری کو چند روز کے لیے فرانس کی دعوت ایسے وقت دی ہے جب لبنان کے صدر میشال عون نے پہلی مرتبہ کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سعد

لبنان کے صدر میشال عون نے کہا کہ سعد حریری کی وطن سے غیر حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

صدر میشال عون نے سعد حریری کی سعودی عرب میں بلاوجہ موجودگی کے بارے میں کہا کہ یہ لبنان کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔

میشال عون نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سعد حریری کی گذشتہ 12 دنوں سے سعودی عرب میں موجودگی کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے۔ لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں (سعد حریری) کی مرضی اور انسانی حقوق کے بارے میں ویانا کنونشن کے خلاف سعودی عرب میں روکا جا رہا ہے۔

صدر نے وزیراعظم کے استعفے کے بارے میں کہا کہ جب تک وہ ملک سے باہر ہیں اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اپنے استعفے کے بارے میں بات کرنے کے لیے انھیں لبنان واپس آنا پڑے گا اور استعفیٰ دینے کی وجوہات بیان کرنا پڑیں گی جن کو دور بھی کیا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *