استنبول میں جیوے جیوے پاکستان کا نعرہ

میں جب استنبول کےگرینڈ بازارsara fazli میں کہیں کھڑی تھی تو کچھ لوگوں نے میرے لباس سے اندازہ لگاتے ہی مجھ سے مصافحہ کیا اور جیوے جیوے پاکستان کا نعرہ لگایا۔ میرے ٹرپ کےختم ہونے تک یہ سلیوٹ مجھے بہت مزاحیہ لگنے لگا ۔ تب مجھے ایک دوکاندار نے پوچھا کہ  میں کہاں سے ہوں اور میرے شہر کی خاص بات کیا ہے۔ پچھلے ماہ ترکی جانے سےقبل مجھے ترکی کے عوام کی میزبانی کے بارے میں بتایا گیا  اور میں نے اس سب کا مشاہدہ بھی کیا۔ لیکن جب ایک اجنبی نے مجھے پوچھا کہ کراچی میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے تو یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ مجھے یہ سوال پہلے کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا اس لیے میں سوچنے پر مجبور ہو گئی۔

میں نے زندگی کے ابتدائی سال کراچی سے باہر گزارے اور 11 سال کی عمر میں کراچی میں رہائش اختیار کی۔ میرے والدین کو سفر کا بہت شوق تھا  اور ایک فیملی کی حیثیت سے ہمیں مسافر ہی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ میں نے اکثر ایسے ممالک میں سفر کیا ہے جو ترقی یافتہ ہیں۔ یہ ممالک پورے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے محفوظ اور بہترین ممالک ہیں۔ وہاں ہر طبقہ اور ہر کلاس کے شخص کےلیے سہولیات ہیں۔

دوسری طرف کراچی میں ہر چیز شہر کے مفاد کے خلاف جا رہی ہے۔ یہا ں انفراسٹرکچر اچھا نہیں ہے، پانی کے مسائل ہیں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، سکیورٹی ایشوز بھی ہیں، مذہبی ہم آہنگی کا بھی فقدان ہے، لوگوں کو اغوا کیا جاتا ہے، ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے،  اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو کراچی کے عوام کو درپیش نہ ہو۔ لیکن زندگی چلتی جا رہی ہے۔ البتہ جو لوگ کراچی سے جڑے نہیں ہیں انہیں اس بات کو سمجھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نے کراچی کو ہر حال میں دیکھا ہے۔ میں اس شہر میں 20 سال تک رہی ہوں اور میں اسے اپنا گھر سمجھتی ہوں۔ میرے بڑے اس شہر کے بارے میں اب بھی بہت والہانہ جذبات رکھتے ہیں  اور میں بھی انہیں کی طرح اس شہر پر جان نچھاور کرنے کی حد تک اس شہر سے پیار کرتی ہوں۔

میرے والدین اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب ہر کوئی یقین سے کہہ سکتا تھا کہ کراچی اس ملک کا نیو یارک بن سکتا ہے۔ 70 کی دہائی میں پاکستان کے شہر کراچی، لاہور اور سوات دنیا بھر کے سیاحوں کی  مہمان نوازی کےلیے  مشہور تھے۔ 60ء کی دہائی کے اواخر میں کراچی میں ٹورازم کو بے تحاشا پزیرائی ملی  جس کی وجہ سے 1972 میں حکومت نے پہلی بار ٹورازم کی وزارت کا آغاز کیا جس کا ہیڈ آفس کراچی مین ہی واقع تھا۔

کراچی پاکستان کا اکنامک ہب اور انٹرٹینمنٹ کیپیٹل ہوا کرتا تھا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ  50 اور 70 کی دہائی کے دوران کراچی میں 500 سینما ہال تھے ، بہت سے نائٹ کلب تھے،  مختلف بارز تھیں، ریس کورس تھا،  اور کچھ خوبصورت ساحل تھے۔ ہشیش باسانی مل جاتی تھی۔ اس وقت لوگوں کو ہیروئن یا کلاشنکوف کا کچھ معلوم نہیں تھا۔ میرے خاندان کے افراد اکثر 70 کی دہائی کی یاد دلاتے ہیں جسے پاکستان کی تاریخ کا لبرل دور مانا جاتا ہے۔ تب شراب اور جوا کھیلنے کی قانونی طور پر ممانعت نہیں تھی اور پھر بھی شہر میں کرائم ریٹ بہت کم تھا۔ میرے والد بتاتے ہیں کہ اس دور میں لوگ رات گئے سٹر ک پر بے دھڑک پیدل چل سکتے تھے اور کوئی انہیں پریشان نہیں کرتا تھا۔

میں عاطف اسلم، ای پی  اور علی ظفر  کے میوزک انڈسٹری سے جڑنے سے بھی قبل سے کراچی کا حصہ رہی ہوں۔ اس وقت بھی ہر بچہ علی حیدر کی 'پرانی جینز اور گٹار' سجاد علی کے 'بابیہ' اور ابرار الحق   کے 'بلو' سے واقف تھا۔ ہم ان سب سنگر ز سے پیار کرتے ہیں، ان کے گانوں پر ڈانس کرتے تھے  اور ان کی ٹیون کے ساتھ گانا گاتے تھے۔ تب ہمیں الفا براوو چارلی سے بھی پیار تھا جو ایسا ڈرامہ تھا جو ٹائیٹینک فلم کے مقابلے میں گردانا جاتا تھا۔ اس ڈرامہ سے پاکستانی فوج کےلیے ہمارا پیار بڑھا۔ اس سے پاکستانی فوج کا سافٹ امیج سامنے آیا اور اہمیں معلوم ہوا کہ جو لوگ ہمارے علاقے کے تحفظ پر معمور ہیں ان کی ذاتی زندگیاں کیسی ہوتی ہیں۔ مجھے وہ وقت یاد  ہے جب ہمارے پاس کباب رول اور کاپر کیٹل کے بیچ ہی میں سے ایک کے انتخاب کا موقع ہوتا تھا۔ فیصلہ بھی اپنے بٹوے میں سرخ نوٹ دیکھ کر کیا جاتا تھا نہ کہ نیلے نوٹ۔ اس وقت فریز کیا ہوا دہی نہیں ملتا تھا لیکن سنوپی آئیس کریم سب کو پسند ہوا کرتی تھی۔ اور سب سے بہترین چاکلیٹ بیک اینڈ ٹیک  سے ملتی تھی۔

پچھلے کئی سال سے اس شہر نے بہت بُرے حالات کا سامنا کیا ہے۔ لیکن ا سکی روح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ہمیں آپریشن کلین اپ، ٹارگٹ کلنگ، پولیس انکاونٹر سب کچھ معلوم ہے۔ ہمیں وہ وقت یاد ہے جب گھر سے نکلنے سے بھی ڈر لگتا تھا ۔ ہمیں وہ احساس یاد ہے جو اپنے گھروں میں قید رہ کر محسوس ہوتا ہے۔

اندرونی اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے  اور ہمیں یہی تربیت دی جاتی ہے کہ ان اعداد و شمار میں سب کچھ غیر حقیقی نہیں ہے۔ مگنگ کے واقعات بہت کم ہو چکے ہیں۔ سٹریٹ کرائم میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ مساجد میں دھماکے بھی بہت کم ہو چکے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ آج لوگ کراچی کو اس کے سابقہ دھبے دار ماضی سے ہی یاد رکھتے ہیں اور انہیں یقین نہیں ہے کہ کراچی میں حالات بہتر ہو چکے ہیں۔ اس کا ذمہ دار پریس کوریج ہے۔ جس کراچی کے بارے میں میڈیا سے لوگوں کو معلومات ملتی ہیں  وہ کوئی اور ہے ۔ میڈیا کی معلومات کی پوری تحقیقات کی جانی چاہیے اور پھر کسی بات پر یقین کرنی چاہیے۔

یہ وہ کراچی نہیں ہے جس کے ہم حقدار ہیں۔ کراچی کے عوام مزاحمت کا زندہ ثبوت ہیں جہاں ہر قسم کےحالات کے باوجود زندگی جاری رہتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عید کیسے منائی جاتی ہے اور ہر سال یوم آزادی کیسے منایا جاتا ہے۔ 2009 نے ہر سال 13 دسمبر کو سندھ ڈے منایا جاتا ہے۔ ہر سال ڈیفنس ڈے بھی کراچی ائیر شو کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ہمارے لیے کراچی پیار کا نام ہے۔ یہ سونے کا دل دکھتا ہے۔ دنیا کے ہر شہر میں کوئی پیس میکر ہوتا ہے۔ یہ ہر اس شخص کےلیے ہے جو اپنے آپ کو کراچی کا مالک کہتا ہے۔ کیونکہ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *