محسن صحافت کی دائمی رخصتی

وار زون:  مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا ہر ذی روح شے نے ایک نہ ایک دن مزہ چھکنا ہی ہے اس کو نہ تو ٹالا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے نجات ممکن ہے اس کے باوجود بعض لوگو ں کی موت کی خبر پر یقین نہیں آتا کہ وہ زندگی اورمقصدیت کی علامت اور پہچان ہوا کرتے ہیں ، صوبے کے سینئر ترین صحافی اور ایڈیٹرز کے ایڈیٹر جناب حبیب الرحمٰن صاحب کی موت کی خبر نے ان کے دوستوں کے علاوہ ان کے درجنوں شاگردوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے ایڈیٹر کا ایڈیٹر ان کو اسلئے کہا کہ آج پشاور میں جتنے بھی گنے چنے مگر لیڈنگ ایڈیٹرز ، نیوز ایڈیٹرز، سب ایڈیٹرز اور پورٹرز اپنی الگ اور منفرد پہچان بنا چکے ہیں وہ سب حبیب الرحمٰن کے شاگرد رہ چکے ہیں یہ محض ایک رسمی جملہ یا دعوی ہرگز نہیں ہے کہ پشاور اور اس صوبے کی صحافت پر مرحوم واقتاََبے پناہ احسانات ہیں انہوں نے بھیڑ بھاڑ اور قحط الرجالی پر مشتمل صحافی ادوار میں بامقصد اور پروفیشنل صحافت کی جو بنیادرکھی تھی وہ اسکی عمارت کی نگہداشت اور دیکھ بھال کا فریضہ آخری سانس تک سر انجام دیتے رہے وہ صحافی تحریک کے دو بڑے ستونوں نثار عثمانی اور منہاج برنا کی اس جدو جہد اور کٹھن سفر کے ساتھی تھے جو کہ یہ لوگ پاکستان میں بدترین جبر کے ادوار میں جمہوریت کی بحالی اور صحافت کی آزادی کیلئے کرتے رہے تھے وہ متحد اہم صحافتی ذمہ داریوں کے علاوہ خیبر یونین آف جرنلسٹس بھی رہے ، بنیادی طور پر ان کا تعلق پشاور سے نہیں تھا مگر یہاں آنے کے بعد وہ اس شہر کے ایسے بانی بن گئے جس نے شہر کی عظمت میں اضافہ کیا اور آخری سانس نے ان کا ساتھ پشاور میں ہی چھوڑا ، اس شہر نے لاتعداد لوگو ں کو شناخت اور عزت دی مگر حبیب الرحمٰن صاحب نے اس شہر کو صحافت کے میدان میں جو کچھ دے رکھا ہے اس پر یہ شہر کئی دہائیوں تک فخر کرتا ہے گا اس شہر نے بھی کبھی ان کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ کہیں اور سے آکر یہاں بس گئے ہیں انہوں نے شہر کو گلے لگایا اور شہر نے ایک نیک دل تعلیم یافتہ ، محنتی اور با جرات مہمان کو میزبان اور مالک بنانے میں کوئی دیر نہیں لگائی ، حبیب الرحمٰن صاحب صحافت کے ایک اور ستون عبدالواحد یوسفی صاحب کی طرح انتہائی نرم دل ، پُرسکون اور شفیق انسان تھے اور یہی قدر مشترک انکی بنیادی محبت کی وجہ تھی تاہم کام میرٹ اور معیار پر سمجھوتہ کرنا انکی فطرت میں سرے سے شامل ہی نہیں تھا ، آج پشاور اور صوبے کی صحافت میں جو شائستگی اور ذمہ داری دوسرے شہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نظرآتی ہے اس کا کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے کیونکہ وہ کئی دہائیوں تک بڑے اخبارات میں لیڈنگ اور فیصلہ سا ز ذمہ داریوں پر فائز رہے اسلئے انہوں نے ذمہ دارانہ اور شائستہ صحافت کے فروغ کو نہ صرف بنیادی مقصد بنایا بلکہ اپنے شاگردوں کی اس بنیاد پر تربیت بھی کی وہ نئے آنیوالوں کی زبردست حوصلہ افزائی اور تربیت کیا کرتے تھے جن لوگوں کو یہ شرف حاصل ہو ا وہ جہاں بہت خوش قسمت رہے وہاں ان میں اکثر آج اہم ذمہ داریوں کے مالک بن کر انکے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے انہوں نے ایک پوری نسل کی رہنمائی اور تربیت کی ہے خود نمائی سے ان کو شدید نفرت تھی انتہائی ڈسپلن کے عادی پرہیز گار شخص تھے اردو کے علاوہ انگریزی فارسی اور عربی پر ان کا کما ل ہولڈ تھا ،دوسروں کی طرف تقریبات میں جانا یا حکمرانوں کی قربت ان کے مزاج میں سرے سے شامل نہیں تھا مگر وہ ہر سیاسی نظریے اور رہنما کی دل سے عزت کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ہر سطح کے لیڈر ان کی دل سے عزت کرتے تھے اور وہ غیر متنازعہ شخص رہے ، زبان اور الفاظ کے استعمال میں آج جتنے بھی لیڈنگ صحافی تجزیہ کا ر اور کالم نگار شائستگی ، احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں یہ جناب حبیب الرحمٰن کی تربیت ہی کا نتیجہ ہے ، وسیع ترین مطالعے کے علاوہ لاتعداد واقعات اور تبدیلیوں کے عینی شاہد تھے مگر دوسروں کی طرح اس خصوصیات یا پس منظر کوصحافی دکانداری کیلئے استعمال کرنے کے سخت مخالف تھے، وہ بہترین رازداں اور باوقار شخص تھے ، مہارت کا عالم کا یہ تھا کہ کافی فاصلے سے اخباری صفحے کو چند سیکنڈ دیکھنے کے بعد ہزاروں الفاظ میں غلط لفظ نکال لیا کرتے تھے ، متعد دوسروں کے علاوہ اس طالب علم کو سال 1996ء اور 1999ء کے درمیان ان کیساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے بطور ایڈیٹر نہ صرف زبردست رہنمائی کی بلکہ با مقصد اور منفرد صحافت کے اموز بھی سکھائے اس کا م میں وہ بہت سخت تھے ، یہی وہ دور تھا جب انکے علاوہ جناب شکیل احمد ، حیدر جاوید سید اور اکرم شیخ جیسے سینئرز اور استادوں سے بہت کچھ سیکھا اور یہ بڑے ستون خوش قسمتی سے ہمیں ایک ہی چھت کے نیچے بیک وقت دستیا ب رہے حبیب الرحمٰن صاحب نے صوبے کی صحافت پر احسانات کئے ہیں صوبے کے صحافی اور عوام مدتوں ان کو یاد رکھیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *