کشمیر، جہاں والدین آنکھوں کے سامنے مارے گئے

70 برس پہلے ایک جوان برطانوی جوڑے کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مشنری ہسپتال میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اُس وقت ان کے تین بچوں میں سے ایک صرف دو ہفتوں کا تھا۔

ان تین بیٹوں میں سے دو جن کے بال سفید ہو چکے ہیں، والدین کی برسی منانے کے لیے کشمیر ٹھیک اسی جگہ گئے جہاں ان کے والدین کو ہلاک کیا گیا تھا۔

ڈگ ڈائکس اس برآمدے سے چند گز دور کھڑے تھے جہاں ان کی والدہ اور والد پر جان لیوا حملہ ہوا تھا۔ اس جگہ پر انھوں نے کہا کہ’میں یہاں آ کر بہت جذباتی محسوس کر رہا ہوں۔‘

ڈگ ڈائکس اس وقت صرف دو برس کے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے اپنے والدین کو مارے جاتے ہوئے دیکھا۔ میرے والد نے راہباؤں کی جانب بڑھتے ہوئے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی اور انھیں گولی مار دی گئی۔ میں دہشت میں چیختا ہوا اپنے والد کی جانب دوڑا اور میری والدہ میرے پیچھے تھیں، اس وقت انھیں بھی گولی مار دی گئی۔

ان کی یادوں میں صدمے کا درد محسوس ہو رہا تھا اور یہ احساس تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی طرح خود کو اپنی والدہ کی موت کا ذمہ دار سمجھتے ہوں۔

ڈائکس

وادئ کشمیر کے ایک دور افتادہ علاقے میں ہم ان کے والدین کی قبروں پر کھڑے تھے۔ یہ قبریں اب سیب اور اخروٹ کے درختوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

دیکھنے میں یہ پرسکون جگہ محسوس ہو سکتی ہے لیکن آرمی افسر ٹام اور ان کی بیوی بیڈی تنازعۂ کشمیر پر عسکری محاذ آرائی کی شروعات میں ہی مارے گئے۔ 70 برس بعد آج بھی یہ تنازع جاری ہے جو تقریباً ہر روز جانیں لیتا ہے۔

کشمیر کے علاقے بارہ مولا میں واقع سینٹ جوزف کیتھولک مشنری ہسپتال میں اکتوبر 1947 کی ایک صبح پیش آنے والے اس واقعے میں چھ افراد اپنے جانوں سے گئے۔ اس میں ہسپتال کی ڈاکٹر کے خاوند جوز بیرٹو بھی راہباؤں کی جان بچاتے ہوئے مارے گئے۔ واقعے میں نرس فلمینا مریضوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہوئیں جبکہ مریضہ موتی دیوی کپور کو ان کے بستر پر وار کر کے مار دیا گیا۔

اس کے علاوہ بیس سالہ ٹرسیلینا جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ بھی عمر رسیدہ خاتون کو بچائے ہوئے ہلاک ہو گئیں۔ ان کو مشن کے گراؤنڈز کے دوسری جانب واقع راہباؤں کے قبرستان میں دفنایا گیا۔

ان سب کو پاکستان سے آنے والے ان مسلح قبائلیوں نے قتل کیا تھا جنھوں نے کشمیر پر حملہ کیا تھا تاکہ ہندوستان سے برطانیہ کے انخلا کے بعد اس خودمختار ریاست کو انڈیا کا حصہ بننے سے روکا جا سکے اور لوٹ مار کر کے اتنا سامان حاصل کرلیں جتنا وہ لے جا سکتے ہیں۔

جب انھوں نے 27 اکتوبر 1947 کو سینٹ جوزف پر حملہ کیا تھا تو اسی دن حملہ آوروں کو پسپا کرنے کے لیے انڈین فوج کشمیر میں اتری تھی اور اس وقت سے یہاں موجود ہے تاکہ اس خطے پر دعویٰ کرنے والا ملک پاکستان اس پر قبضہ نہ کر لے۔

سکیورٹی خدشات ایک بڑی وجہ تھی جس کی وجہ سے تینوں بھائیوں میں سب سے بڑے بھائی ٹام( والد کے نام پر) 2003 میں اپنی موت سے پہلے بارہ مولا کا دورہ نہ کر سکے۔

جب میری ان سے کچھ برس پہلے ملاقات ہوئی تھی تو اس واقعے کے بارے میں ان کی یادیں غیر ممعولی طور پر واضح تھیں۔

’جب میں نیند سے بیدار ہوا تو اس جگہ پر ہر طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس کے بعد حملہ کرنے والوں نے اس کمرے کے دروازے کو توڑتا شروع کیا جس میں ہم تھے اور دروازے کے ٹکڑے کمرے میں پھیلنا شروع ہو گئے اور دروازے پر پڑنے والے شگافوں سے ان کے وحشی چہروں کو دیکھ سکتا تھا۔ ‘

ٹام نے مزید بتایا کہ ’یہ قبائلی اس جگہ پر لوٹ مار کر رہے تھے اور وہ سامنے آنے والی ہر چیز کو اٹھا رہے تھے اور لوٹ مار کے سامان کو فرش پر رکھی شیٹوں پر رکھا اور بعد میں ان کے بنڈل بنا لیے۔ ‘

خاندان کا ایک ملازم کسی نہ کسی طرح پانچ سالہ ٹام کو قاتلوں سے دور لیجانے میں کامیاب ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا تاکہ ٹام کے خاندان کو دیکھ سکے۔

ڈائکس
ٹام اور بِڈی کی انیس سو چالیس میں شادی کی تصویر

’ہم دوبارہ ہسپتال کے وسطیٰ حصے میں گئے جہاں باغیچہ ہے اور اس کے اطراف میں راہداری ہے۔ ہمارے سامنے مارے گئے افراد کی خون آلود لاشیں تھیں اور ان کے اوپر میرا وحشت زدہ چھوٹا بھائی ڈوگلس بیٹھا ہوا تھا۔‘

20 برس پہلے جب اس واقعے میں بچ جانے والی واحد حیات راہبہ ایملا سے ملاقات ہوئی تو ان کی بیان کردہ کہانی سے ٹھیس پہنچی۔ اٹلی کی سسٹر ایملا نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح قبائلی مشن کی دیواریں پھلانگ کر اندر آئے اور تالے لگے دروازوں کو توڑا اور چند راہبوں سے برا سلوک کیا گیا۔ جب ان کی سپین سے تعلق رکھنے والی سہیلی سسٹر ٹرسیلینا کو مارا گیا تو ایملا کو بھی لگا کہ وہ بھی مرنے والی ہیں۔

اس ہسپتال کو 16 راہبائیں چلاتی تھی اور اس کی بہت اچھی شہرت تھی۔ ایک اور فوجی افسر کی بیوی نے بِڈی ڈائکس کے خدوخال بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا گول خوش شکل چہرہ تھا اور گھنے بال اور چہرے پر مکسراہٹ رہتی تھی۔ اس خاتون نے بھی اپنے دو بچوں کو اسی ہسپتال میں جنم دیا تھا۔

بِڈی
بڈی کی ایک تصویر

ان کے والد سینڈ ہرسٹ سے تربیت یافتہ فوجی تھے۔ انھوں نے فوج میں نرس ٰبڈی سے 1940 میں آگرہ میں شادی کی جو کہ تاج محل کی وجہ سے مشہور ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر ان کی ترقی لیفٹیننٹ کرنل کے رینک پر ہوئی۔ انھوں نے 1947 میں برطانیہ کے انڈیا سے نکلنے کے بعد انڈین فوج کی سکھ رجمنٹ میں چند ماہ گزارنے کی درخواست قبول کی تاکہ منتقلی کے عمل میں مدد کر سکیں۔

اس خاندان کے پاس بڈی ڈائکس کا اپنے موت سے دس دن پہلے لکھا ہوا خط موجود ہے جو دکھ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ خط انھوں نے تیسرے بیٹے جیمز کی پیدائش کے فوری بعد لکھا تھا۔ اس خط کے مطابق سکیورٹی کی صورتحال کافی خراب تھی اور وہ شدت سے اپنے شوہر کے انتظار میں تھیں کہ وہ آ کر انھیں یہاں سے لے جائیں۔

ان کے شوہر نے ایک خط میں لکھا تھا کہ کہ وہ یہاں آج ہی آنا چاہتے ہیں لیکن میرا خیال نہیں کہ ایسا ممکن ہو سکے۔ تاہم حقیقت میں ان کے شوہر بارہ مولا پہنچے لیکن وہاں سے اپنے خاندان کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ٹام ڈائکس

ٹام کا ایک خط سامنے آیا جو انھوں نے کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ایک برطانوی افسر کو لکھا تھا۔

اس میں وضاحت کی گئی تھی کہ وہ اس وقت رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے یہاں اپنے خاندان کو لینے آئے ہیں۔ انھوں نے فوجی انداز میں لکھی ہوئی تحریر میں کہا تھا کہ’ میں بہت شکر گزار ہوں گا کہ اگر تو یہاں بارہ مولا میں ہمیں لینے کے لیے گاڑی بھیج سکو۔ ‘

اس وقت لشکر کشی جاری تھی اور انخلا کا عمل ممکن نہیں ہو سکا اور دو دن بعد وہ اپنی بیوی سمیت مارے گئے۔

اس واقعے کے بعد ڈائکس کے یتیم بچوں کو دیگر تقریباً ستر دیگر افراد کے ساتھ کے وارڈ میں دس دن تک یرغمال رکھا گیا جب اطراف میں جنگ ہو رہی تھی۔ انڈین ایئر فورس نے متعدد بار مشن پر بمباری کی جس کو پاکستان سے آنے والے حملہ آور ٹراسپورٹ اور سپلائی ڈپو کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

قبائلی حملہ آورقبائلی حملہ آوروں کی کشمیر میں حملے سے پہلے کی راولپنڈی میں تصویر

دونوں بڑے بچے بلآخر کشتی کے ذریعے برطانیہ لوٹ گئے جبکہ چھوٹا بچہ جیمز بہت کمزور تھا اور اس کے بچ جانے کے امکانات کافی کم تھے۔ ان کی ابتدا میں برطانوی جنرل کی بیوی لیڈی میسروی نے دیکھ بھال کی اور یہ جنرل بعد میں پاکستانی فوج کے پہلے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے تھے۔ جیمز کی طبیعت آہستہ آہستہ سنبھلنا شروع ہو گئی اور اس کے چند ماہ بعد وہ اس قابل ہو گئے کہ واپس وطن روانہ ہو سکیں۔ جہاں ان کی پرورش مختلف خاندانوں نے کی ہے اور اس دوران ان کی اپنے بڑے بھائیوں سے ملاقاتیں زیادہ نہیں ہو سکیں تھیں اور 18 برس کی عمر میں جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے۔

ڈگ ڈائکس نے بتایا کہ’ہم نے اپنے والدین کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی ہے، ہمیں اس واقعے کے حقائق کے بارے میں محدود حد تک معلوم تھاگ پھر ہماری حوصلہ افزائی بھی نہیں ہوئی کہ اس کا زیادہ ذکر کریں۔‘

ڈوگ ڈائکس شراب کشید کرنے کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اس وقت لندن کے قریب ڈورکنگ کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔

ڈائکس
دونوں بھائیوں کی اپنے والدین کی قبروں پر تصویر

انھوں نے بتایا کہ جب میں نے خاندان سے رابطہ کیا اور ان کو قبروں کی تصاویر بھیجیں اور ان سے تصدیق کرنا چاہی تو بھائیوں کے درمیان بات ہونا شروع ہوئی کہ ان کو کیا یاد ہے اور ان کے احساسات کیا ہیں۔

سٹینٹ جوزف مشنری ہسپتال انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مغربی علاقے میں پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ سری نگر سے یہاں تک جانے والی سڑک پر انڈین فوج کے اڈے موجود ہیں اور سڑک انڈین فوجیوں کی بڑی تعداد میں نقل و حرکت کی وجہ سے یہ بے حد مصروف رہتی ہے۔ فوج کی اس بڑی تعداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کشمیری علیحدگی پسند اور نہ ہی پاکستان اس علاقے کا کنٹرول انڈیا سے حاصل کر سکے۔

آج سینٹ جوزف ہسپتال میں انڈیا بھر سے 13 راہبائیں موجود ہیں اور ان میں سے ایک بھی کشمیری نہیں ہے جبکہ 1947 میں ایک کے علاوہ تمام کا تعلق مغربی ممالک سے تھا۔ اس وقت ہسپتال میں خواتین کی صحت اور زچگی کی سہولیات دستیاب تھیں لیکن اب اس کا اپنا نرسنگ انسٹی ٹیوٹ ہے جس میں کشمیر کی مقامی 67 لڑکیاں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

راہباؤں نے بتایا کہ کس طرح حالیہ برسوں میں سکیورٹی کی صورتحال ابتر ہوئی ہے اور ان کو کہا گیا کہ بارہ مولا سے نکل جائیں لیکن انھوں نے یہاں رہنے پر ہی اصرار کیا۔

کرنل ٹام کا خطFIONA SHIPLE

ان کی جانب سے مقامی آبادی کو مہیا کی جانے والی سہولیات کی واضح طور پر تعریف کی جاتی ہے۔

ہلاکتوں کی 70 برس کی دعائیہ تقریبات کے انعقاد کے انتظامات راہباؤں نے اپنے طور پر کیے جس میں موم بتیاں روشن کی گئیں اور مارے جانے والوں کے احترام میں پھولوں کی چاردیں چڑھائی گئیں۔

اس تقریب کے لیے ڈائکس کے دونوں بچوں کو مدعو کیا گیا اور مجھے بھی آنے کا کہا گیا۔

فوج نے تقریب کے موقع پر قبروں کو صاف ستھرا کیا اور ان سے وائٹ واش کی جھلک آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ اضافی پودے رکھے گئے اور قبر پر جمع ہونے والے افراد کے تحفظ کی خاطر کیموفلاج شیٹیں لگائی گئیں۔

وہاں خاموشی اس وقت ٹوٹی جب حملہ آوروں پر نظر رکھنے کے لیے فوج کا ایک ڈرون وہاں سے گزرا۔

سینٹ جوزف
اس وقت سینٹ جوزف ہسپتال میں نرسنگ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے

کرنل ڈائکس دولتِ مشترکہ سے واحد فوجی ہیں جن کی قبر کشمیر میں موجود ہے اور انڈین فوج کے اعلیٰ جنرل نے ان کی قبر پر پھول چڑھائے۔ ان کے دونوں بیٹوں نے بھی پھول رکھے۔

جیمز اور ان کے بھائی

ڈگ اور جیمز ڈائکس کو راہباؤں کی جانب سے پیش کیے گئےخوش آمدیدی پھول تقریب سے جڑی تکلیف پر غالب آنے لگے۔

جنوبی افریقہ میں ٹیکس کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے جیمز نے اس کمرے کا دورہ کیا جہاں ان کی والدہ نے انھی جنم دیا تھا اور اس کے ساتھ وہ مقام بھی دیکھا جہاں ان کے والدین کو دو ہفتوں بعد دفنایا گیا تھا۔

انھوں نے اس موقع پر کہا ہے کہ’ میں اِس وقت بالکل حیرت زدہ ہوں اور میرے پاس اس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، میں نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ یہاں آ سکوں گا۔‘

اُن کی طرح اُن کے دوسرے حیات بھائیوں کو یقین نہیں تھا کہ وہ دوبارہ کشمیر آئیں گے۔ یہ بے حد قیمتی موقع تھا اور ممکنہ طور پر آخری بھی۔ جس میں وہ اس جوان جوڑے کے قریب آ سکے جن کی یہاں موت واقع ہوئی تھی اور جس کے بارے میں انھوں نے زندگی بھر سوچا تھا۔

۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *