مدینے کا سفر اور میں نم دیدہ نم دیدہ

mehmood-asghar-chaudhry

کوئی شہر بھنبھور، کوئی سیال نگر، کوئی رانجھن کاڈیرہ،کوئی تخت ہزارہ، کوئی پنن کاصحرا،کوئی مٹھن کی جھوک، کوئی ماہی کی بستی،کوئی لاکھی باغ،کوئی سیف ملوک نگر، کوئی ڈھولن کادیس۔۔۔ الغرض کسی بھی محبوب نگر کی کوئی تمثیل، کوئی تشبیہ اس شہر پر صادق نہیں آتی۔ آئے بھی کیسے یہ خالق کائنات کی محبوب ترین ہستی ﷺ کا شہر مدینہ تھا۔اس شہر کے درو و دیوا رمیں لمس مصطفی ﷺ کی مہک بستی ہے گلی کوچوں میں ان کی یاد رہتی ہے۔ ذرے ذرے میں آفتاب نبوت کے نوربستا ہے۔ کونے کونے میں ان کا کرم دکھتا ہے۔ مدینہ منورہ شہرکرم، گوشہ رحمت، چشمہ مودت، قریہ محبت، اورگناہگاروں کے لئے خطہ مغفرت ہے۔ کلیم اللہ نے مکہ کو حرم اور محبوب کبریا ﷺ نے مدینہ کو حرم بنا یا۔
مکہ مکرمہ سے مدینہ کے سفر کا ارداہ کیا تو تصورہی شاداں و فرحاں تھا۔ البتہ ایک انجانااضطراب بھی تھا جو ایک کم تر انسان کے دل میں کسی اعلی ٰ و ارفعی ٰ بادشاہ کے در پر حاضری کے ارداے کے بعد ہوتا ہے۔پھر وہ سوچتا ہے کہ ملاقات کا ڈریس کوڈ کیا ہے۔ آداب حاضری کیا ہیں۔پڑھا تھا کہ انہیں صفائی بہت پسند ہے۔ آئینے میں اپنے جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ میری داڑھی خود رو جھاڑیوں کی طرح بے ترتیب تھی۔اس دنیا میں حجام کا پیشہ بہت نیک ہے اس کے پاس ہم گندہ چہرہ لیکر جاتے ہیں اور وہ ایک آرٹسٹ کی طرح ہمارے چہرے کی تصویر میں رنگ بھر دیتا ہے۔میں نے بھی داڑھی کا خط بنوایا۔اسے رنگ کرایا۔ہوٹل آکردانت صاف کئے۔ غسل کیا۔ اپنا نیا سوٹ نکالا۔ اسے خوشبو سے مہکایا۔اتنے اہتمام کے بعد ذہن میں خیال آیا کہ میں نے اپنا بدن تو صاف کرلیاہے لیکن میری روح تو پراگندہ ہے۔ روح گندی ہوئی تو خالی جسم کی صفائی کا کیا فائدہ۔سوچا ایک بار پھر طواف کعبہ کے ذریعے اپنے رب سے سوال کرتاہوں۔کعبے کے طواف تو پہلے بھی بہت کئے تھے۔ لیکن اس طواف میں بہت بے چینی تھی۔دعا کی اے اللہ جسم کی صفائی میرے اختیا رمیں تھی وہ میں نے حتی المقدور بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن روح کی صفائی تیرے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔
مدینے کا سفر اور میں نم دیدہ نم دیدہ۔ عربی بس ڈرائیور بڑا ہنس مکھ تھا۔میری طرف دیکھ کر کہنے لگا مدینہ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو گنگنانے لگا ”طلع البدر علینا“۔۔۔ میری حالت اس وقت اس مریض کی سی تھی جس کے جسم سے آہستہ آہستہ خون نچوڑا جا رہا ہو۔یا پھر اس چور کی سی تھی جسے کمرہ عدالت کی طرف لے جایا جا رہا ہو یا پھراس شاگرد کی سی تھی جو بہت ہی نالائق ہو اور اسے پرنسپل کے دفتر بھیجا جا رہا ہو،یا پھر اس محب کی سی تھی جس کا دعوی ٰ محبت بناوٹی ہو اسے ڈر ہو کہ وہ محبوب کو اپنا دل چیر کا دکھا نہیں سکے گا کہ میں آپ ﷺ سے کتنی زیادہ محبت کرتا ہوں کیونکہ اس دعوے کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ یہ سفر میرے لئے بہت بھاری ثابت ہو رہا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ اس شہرکی تمنا ئے دید میری نس نس میں سمائی ہوئی تھی لیکن میری کم مائیگی اورنالائقی مجھے نڈھال کئے ہوئے تھی۔
راستے میں اشکوں کی برسات کے علاوہ آسمان سے بھی ہلکی بونداباندی ہوئی۔ مدینے پہنچے تو عشاء کی نمازہو چکی تھی۔ علماء کرام در رسول ﷺ پر حاضری کے بارے اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ کوشش کریں کہ کھانا وغیرہ اور دیگر ضروریات سے فارغ ہو کردر رسالت مآب ﷺکا رخ کریں تاکہ آپ کی توجہ کسی دوسری جانب نہ ہو۔ہوٹل کے معاملات سے فارغ ہوکر مسجد نبوی کا رخ کیا۔ میں اور میری بیوی گیٹ نمبر21سے داخل ہوئے۔مسجد کی عمارت کے دروازے بند تھے۔یہ کیا؟ تو کیا ابھی سلام کے لئے حاضری نصیب نہیں ہو گی۔دل پر افسردگی چھا گئی۔ ہم نے وہاں کام کرنے والے ایک شخص سے پوچھا کہ بھائی کیا مسجد بند ہوچکی ہے وہ کہنے لگا کہ مسجد تو بند ہے لیکن عورتوں کے لئے باب النساء اور جو مرد سلام کے لئے حاضر ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے باب السلام کھلا ہوا ہے۔ یہ سننا تھا کہ میری دل میں افسردگی کی جگہ خوشی کی جلترنگ نے لے لی۔
باب السلام کی طرف جانے لگا تو خیال آیا کہ نمازعشا ء تو ابھی پڑھنی ہے۔ مسجد کے صحن میں نماز نیت لی۔نماز شروع کی تو دو رکعتوں بعد میں یہ بھول گیا کہ کون سی نماز ہے؟کیا وقت ہے؟ خوشی اور جنون اتنا گہرا تھا کہ میں سب کچھ بھول چکا تھا۔ کچھ رکعتیں پڑھ کر سلا م پھیرا اور دوبارہ ذہن پر زو ر ڈالا کہ کس وقت کی نماز پڑھنی ہے۔ یاد آیا کہ عشاء کا وقت ہے۔ دوبارہ نماز شروع کر دی۔ چار رکعتیں پڑھ کر جب سلام پھیرا تو یاد آیا کہ چار تو نہیں پڑھنی تھیں۔قصر نماز کی تو دو رکعت ہیں۔ بے چینی، اضطراب، میں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاان کے قدموں میں حاضری کی جلدی نے مجھے دنیا و مافیہا سے بے خبر کیا ہوا تھا۔ خدا خدا کرکے تیسری کوشش میں نماز سے فارغ ہوا تو باب السلام ڈھونڈنے کے لئے چل پڑا۔
میرے پاؤں دو دو من کے ہو چکے تھے۔ چلا نہیں جا رہا تھا۔ میری ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں۔مجھے کوئی رستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ مسجد نبوی کیا اتنی بڑی ہے؟ سب دروازے بند تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ میں کوئی صحرا نورد ہوں جو چشمہ کی تلاش میں بھٹک رہا ہے اسے چشمہ کی صدا تو آرہی ہو لیکن تشنگی نے اسے نڈھال کر دیا ہو۔یا پھر میں کسی چمن کی پگڈنڈیوں میں بھٹک گیا ہوں۔ گل نایاب کی مہک تو آرہی ہو لیکن وہ نظرنہ آرہا ہو۔لگتا تھا کہ میں کسی جزیرے پر اکیلا ہوں منزل تو بہت قریب ہو لیکن آنکھوں سے اوجھل ہو۔ حالانکہ میں اکیلا نہیں تھا مسجد میں بہت سے لوگ تھے۔ ایک نوجوان سے پوچھا یہ باب السلام کہاں ہے اس نے مجھے سمجھایا کہ سیدھے چلے جاؤں جہاں اس بڑی مسجد کی عمارت کی حد ختم ہو گی وہاں بائیں طرف باب السلام اور باب ابوبکر دونوں کھلے ہوئے ہیں میرے لڑکھڑاتے قدم اور میری حالت غیر دیکھ کر اسے بھی شک ہو گیا تھا کہ یہ شخص پہنچ نہیں پائے گا اس لئے وہ میرے پیچھے پیچھے ہی آنا شروع ہو گیا
جب مسجد کا صحن کا آخری کونہ آیا تو صحن میں کچھ لوگ جو فرش پربیٹھے یا لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے بائیں مڑ کر دیکھا تو مجھے باب ابوبکر نظر آگیا اتنے میں وہ نوجوان بھی میرے پیچھے آچکا تھا اس نے اشارے سے کہا کہ وہ ہے باب السلام۔ باب ابوبکر پر ہجوم کھڑا تھا جو اس انتظار میں تھے کہ ریاض الجنتہ میں نفل ادا کریں۔ میں نے سوچا کہ مجھے نمازکی ترتیب یاد نہیں رہی نفل میں ارتکاز کیسے کر وں گا۔ میں باب السلام کی قطار میں لگ گیا جو سیدھی سنہری جالیوں کے پاس جاتی تھی مجھے سلام عرض کرنا تھا۔ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں میری حالت اس طالبعلم کی سی تھی جس کی خواہش ہو کہ اس کے استاد جی اس پر نظر شفقت ڈال دیں لیکن پھر وہ اپنی کاپی دیکھے تو اسے احساس ہو کہ اس نے تو کوئی ہوم ورک نہیں کیا ہو اس کے رجسٹر کا ایک ایک صفحہ خالی یا پھر ورق ورق ٹیڑھی لکیروں سے بھرا ہو۔ اپنی شہ رگ سے قریب بیٹھے خالق کائنات کو آواز دی ”اے اللہ تو کیاایک شاگرد کواس کے معلم کے سامنے رسوا کرے گا“ مجھے سبق بھی یاد نہیں۔ میری نالائقی بھی مثالی ہے۔کیا تو ایک غلام کو اس کے آقا ﷺ کے سامنے رسوا کرے گا جسے کوئی اصول وفا یاد نہیں جو آداب غلامی سے نا آشنا ہے۔ یا اللہ میں شرمندہ ہوں تیرے محبوب کے درپرکیسے سلام عرض کروں؟
روضہ رسو ل ﷺ کے آداب میں ہے کہ وہاں آوازوں کو پست رکھنا ہوتا ہے میں نے پوچھا۔یااللہ یہ کیا معاملہ ہے جب تیرے در پر حاضری دیتے ہیں تو دیوانوں کی طرح شور مچاتے ہیں کہ اے اللہ میں حاضر ہوں جب کہ تیرے محبوب کے در پر حاضری کی پہلی شرط ہے کہ اپنی آواز کو بلند نہ کروں ذہن میں خیال آیا کہ خدا تو رب ہے پالنے والاہے۔ پالنے والے سے تو ایک لاڈ کا رشتہ ہوتا ہے، اس سے مانگا بھی جاتا ہے اور شکوہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس کے محبوب ﷺکا در ہے۔یہ ادب کا مقام ہے۔اور ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ یہاں پر خاموشی اختیار کرنی ہے۔ یہاں آوازوں کو پست رکھنا ہے۔ یہ احترام کا در ہے۔یہاں نیویاں ہو کر رہنا ہے۔ یہاں سانس بھی آہستہ لینی ہے۔ یہاں اعمال ضائع ہوسکتے ہیں۔
مجھے جالیوں کے سامنے پہنچ کر سلام عرض کرنا تھا۔ ایک میراثی کی طرح ماتھے پر سر رکھنا تھا اور کہنا تھاکہ سرکار میر ا سلام قبول کرلیں۔ آہستہ قدموں سے سنہری جالیوں کے قریب پہنچا۔ انہیں غور سے دیکھنا چاہا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں انہیں آنکھوں سے نہیں بلکہ کسی کیمرے میں دیکھ رہا ہوں اور کیمرہ آؤٹ آف فوکس ہوگیا ہو۔ مجھے دھندلا نظر آنا شروع ہوگیا۔ کیا موسم ابر آلود ہے؟کیا لائٹ ڈم ہو گئی ہے۔ لیکن مسجد میں تو اچھی خاصی روشنیاں تھیں۔ مجھے وہ اس طرح صاف نظر کیوں نہیں آرہیں جیسی تصویروں میں نظر آتی ہیں۔کیا میری نظر کمزور ہو گئی؟ کیا میں اندھا ہونے والا ہوں؟ مجھے نظر کیوں نہیں آرہا؟۔۔۔۔میں نے خود سے سوال کیا۔ اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی آنکھوں کو صاف کرنے کی کوشش کی۔ تو محسوس ہوا کہ ان میں کہیں سے پانی آگیا ہے۔موسم ابر آلود نہیں ہوا تھابلکہ آنکھوں نے آنسوؤں سے وضو کرنے کی ٹھان لی تھی
۔۔۔باقی آئندہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *