فیض احمد فیض کوہم سے بچھڑے تینتیس سال بیت گئے !

big_p9a

لاہور۔ آج اردو ادب کے مشہور شاعر فیض احمد فیض کی تینتیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ فیض احمد فیض کو ان کی انقلابی شاعری کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ برِ٘صغیر کے تقسیم میں بھی انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اپنے انقلابی نظریات کی وجہ سے فیض احمد فیض کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کر نا پڑی۔

ان کے شاعری مجموعوں میں نقش فریادی، دستِ صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، دست تہہ سنگ، سروادی سینا، میرے دل میرے مسافرسمیت شامل ہیں۔

فیض احمد فیض 13 جنوری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چرچ مشن اسکول سیالکوٹ اور گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا۔

وہ ایم اے او کالج میں انگریزی زبان کے لیکچرر بھی رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہیلے کالج آف کامرس میں بھی پڑھایا۔ صحافت کے شعبے میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتیں منوائیں۔ انہوں نے ماہنامہ ادبِ لطیف کے ایڈیٹر کے طور پر کام کیااور کافی عرصہ پاکستان ٹائمز کے بھی ایڈیٹر رہے۔ 28 اکتوبر 1941کو انہوں نے برطانوی نژاد ایلس کیتھرین جارج سے شادی کی جن سے ان کی دو بیٹیاں، سلیمہ اور منیزہ، پیدا ہوئیں۔

فیض احمد فیض براعظم ایشیاء کے وہ واحد شاعر ہیں جنہیں روس کی جانب سے لینن امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں لٹریچر میں نوبل انعام کے لیےبھینامزد کیا گیا تھا۔ 1990 میں حکومتِ پاکستان نے فیض احمد فیض کو ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔

فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری دنیا بھر میں انتہائی زوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے۔ ان کے ادبی مجموعوں کا انگلش، فارسی، روسی، جرمن اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

اردو ادب کے اس عظیم شاعر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے گزشتہ ہفتےالحمراء آرٹس کونسل میں تین روزہ فیض انٹرنیشن فیسٹیول بھی منعقد کیا گیا تھا۔

فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو 73برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *