نو جوان نسل اور مالی محتاجی

afshan huma

"سر جی میں بچپن سے اندھا ہوں دیکھ نہیں سکتا لیکن یہ کام میں نے بچپن میں سیکھ لیا تھا ، دیکھیں میں یہ پرفیوم بناتا ہوں اس کی پیکنگ بھی خود کرتا ہوں، میں بہت خوش ہوں سر جی میرے اللہ کا بڑا فضل ہے میں کسی کا محتاج نہیں۔۔۔" اس نو جوان کا یہ فقرہ میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔امسال  جولائی کے ماہ میں اسلامآباد چیمبر آف کامرس میں بیٹھ کر پریزیڈنت کے سامنے میں نے کہا تھا مجھے ان پڑھے لکھے بے کار نوجوانوں کی فکر ہے، یہ کچھ نہیں کرتے اور نہ ہی جانتے ہیں کہ مالی محتاجی کس قدر ازیت ناک ہو سکتی ہے۔ اگر انہیں پچیس تیس سال کی عمر تک بھی یہ احساس نہیں ہوتا تو اس میں صرف نئی نسل کا نہیں ہم سب کا بھی قصور ہے۔ ہم نے انہیں محتاجی کی زندگی کا عادی کر دیا ہے۔

نومبر ۱۵ اور ۱۶ کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایک ایکسپو کا انعقاد ہو جس میں ملک بھر سے تقریبا" ۱۵۰ طلبہ نے اپنے پراجیکٹ اور سٹارٹ اپ آئیڈیا پیش کیے۔ تقریبا" چار سو افراد نے دو دن کے اندر نہ صرف ان پراجیکٹ اور آئیڈیاز کو دیکھا اور سنا بلکہ اپنی طرز کے فوڈ کورٹ اور منی مارکیٹ کا لطف بھی اٹھایا۔ اس ایکسپو کا واحد مقصد ان نوجوان طلبہ تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ مالی محتاجی سے باہر آنے کے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ آپ کے آس پاس ہی وہ لوگ موجود ہوں جو ان کے ساتھ مل کران کے چھوٹے سے کاروباری آئیڈیا کو فنڈنگ دے سکیں یا ان کے لیے ایک رہنماء کی حیثیت سے ایک صحیح سمت کو تعین کردے۔

ہماری قوم میں اس وقت ساٹھ فیصد سے زائد افراد کی عمر ۱۵ سے ۳۵  سال کے درمیان ہے۔ یہ کسی بھی ملک کے لیے ایک انتہائی خوش آئیند امر ہو سکتا ہے لیکن ہمارے لیے یہ بھی ایک چیلنگ سے کم نہیں کیونکہ ہمارے ہا نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح اور خصوصا" گریجویٹس کی بے روزگاری کی شرح میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی مسئلہ کا ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ ہماری آبادی کی پچاس فیصد سے زائد شرح خواتین پر مشتمل ہے۔ اور ایک بہت بڑی تعداد میں خواتین مالی محتاجی کا مسلسل شکار رہتی ہیں۔ بیس سے پچیس سال کے لڑکے اور لڑکیاں اسی توقع میں رہتے ہیں کہ وہ والدین کی زمہ داری ہیں نیز پڑھے لکھے بچے اور بچیوں کا ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اعلی سطح کی نوکری سے ابتداء کرنا چاہتے ہیں۔ ان بچوں اور بچیوں کو یہ سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے کہ پہلے انہیں تجربہ حاصل کرنا ہو گا چاہے وہ کسی چھوٹی جگہ ہی سے کیوں نہ شروع ہو۔ گھر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے کہ وہ کام تو شروع کریں۔

ترقی یافتہ ممالک میں یہ تقریبا" غیر ممکن ہے کہ چودہ پندرہ سال کی عمر کے بعد کوئی بچہ کام کاج نہ کرے۔ اس ضمن میں ایک ضروری امر یہ بھی ہے کہ یونیورسٹیاں اور کالج نہ صرف اپنے نصاب پر نظر ثانی کریں بلکہ اپنے طلبہ کے لیے موزوں اداروں اور انڈسٹری میں انٹرنشپ اور کم مدت کی نوکری کا بندو بست بھی کریں۔ لیکن یہ سب لازم و ملزوم ہے۔ انڈسٹری اور ادارے انہی طلبہ سے کام لے سکتے ہیں جنہیں صحیح اور موزوں نصاب پڑھایا گیا ہو اور جن طلبہ کے پاس وہ مہارتیں ہوں جو ان کو درکار ہیں۔ بیرون ملک کی کتب پر مبنی نصاب ایک طرز کا نظریاتی ارتقاء تو شاید دے ڈالے لیکن جس علم اور مہارت کی پاکستان میں ضرورت ہے وہ فی الوقت ہمارے اعلی تعلیمی اداروں میں تقریبا" نا پید ہیں۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تمام بچے اور بچیاں نوکری ہی کے متلاشی کیوں ہیں۔ کوئی ایسا کورس یا کوئی ایسی تربیت کیوں میسر نہیں کہ بارہ ، چودہ یا سولہ سالہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ بچے خود نہ صرف کام شروع کر سکے بلکہ لوگوں کے لیے زریعہ معاش کا بھی بند و بست کر پائیں۔  گزشتہ ہفتہ کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جگہ جگہ انٹرپرینیورشپ کی ٹرینینگ اور تقریبات کا چرچا رہا۔ نومبر کا درمیانی ہفتہ بینالاقوامی تعلیم اور انٹرپرینیورشپ کا ہفتہ قرار پاتا ہے۔ ہر طرف اعلی تعلیم، سکالر شپس اوراس کے ساتھ ساتھ سٹارٹ اپ ایکسپو ہوتے ہیں۔ میری رائے میں ان تمام تقریبات کا انعقاد زیادہ سے زیادہ یونیورسٹیز پر ہونا چاہئے۔ تا کہ یونیورسٹی اور انڈسٹری کے درمیان حائل خلیج ختم ہو پائے۔

گھریلو سطح پر بے حد ضروری ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو بھی اس حقیقت سے آگاہ رکھیں کہ مالی محتاجی ان کے لیے کس قدر خطرناک ہے۔ میرے نانا کا انتقال ۵۰ کی دہائی میں ہوا اور انہوں نے نانی جان سے کہہ رکھا تھا کہ بیٹے بی اے کر کے بی شک کام شروع کر دیں لیکن بچیوں کو کم از کم بی ایڈ کروانا تا کہ ان کے پاس پیشہ ورانہ تعلیم ہو۔ یہ بے حد ضروری ہے ہم اپنی نئی نسل کو یہ باور کروائیں کہ ان کا ایک بھی بیکار دن ہماری انفرادی اور قومی زندگی کو کتنا پیچھے ڈال دیتا ہے۔ بقول اقبال:

 افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

آئیے اس ملک کی ساٹھ فیصد آبادی یعنی نو جوان نسل کو اس زمہ داری سے نہ صرف آگاہ کریں بلکہ ان کے لیے کام کی راہ بھی ہموار کریں۔ ہم نے اپنی یونویرسٹی پر اسے فرض مان لیا ہے امید ہے انڈسٹری اور دیگر ادارے اس کار خیر میں معاون ثابت ہوں گے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پہلے ہی تعاون کا ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے اپنے حصے کی کوشش کی توفیق دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *