مدارس میں بچوں سے زیادتی کے واقعات 

By KATHY GANNON

کہروڑ پکا: پروین کوثر جب اپنے 9 سالہ بچے کے ساتھ ایک مولوی کے ہاتھوں زیادتی کا واقعہ بیان کرنے لگتی ہیں تو اپنے آنسو روک نہیں پاتیں۔۔ انہوں نے بچے کو کہروڑ پکا میں ایک مدرسے میں ایک سال تک تعلیم دلوانے کی غرض سے داخل کروائے رکھا۔ ماہ اپریل کی ایک صبح جب بچہ اٹھا تو ایک مولوی اس کے ساتھ لیٹا تھا۔ بچے کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوفزدہ تھا اس لیے حرکت نہ کر سکا۔ مولوی نے بچے کے کپڑے اتار دیے۔ بچہ بتاتا ہے: مجھے بہت درد ہو رہی تھی اور میں رو رہا تھا لیکن مولوی صاحب نے میری قمیض میرے منہ میں ٹھونس دی۔ جب بچے سے پوچھا گیا کہ کیا اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو اس نے منہ چھپا کر ہاں میں سر ہلایا۔ جب بچہ جذبات سے بے قابو ہو گیا تو پروین نے اے اپنی گود میں لے لیا اور اسے بوسہ دے کر چپ کروایا۔

ایک تحقیق کے مطابق مدارس میں جنسی زیادتی کے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔ ا س حرکت کے لیے صرف گاوں کے مدارس ہی نہیں بلکہ شہر کے بڑے اور نامور مدارس بھی خا ص پہچان رکھتے ہیں۔ لیکن ایسے کلچر میں جہاں ملا طاقتور ہوں، اور جنسی معاملات پر بات کرنے تک کی آزادی نہ ہو وہاں ایسے واقعات کا علم عام عوام کو بہت کم ہو تا ہے۔ اس سے بھی کم ان مجرموں کو سزا ملنے کی شرح ہے۔مظلوم بچوں کے والدین کے مطابق  پولیس کو رشوت دے کر ملاوں کے خلاف ایکشن سے روک دیا جاتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ زیادتی کا کیس عدالت تک پہنچ جائے کیونکہ پاکستانی معاشرے میں قانون  مظلوم کی فیملی کو اجازت دیتا ہے کہ فدیہ کی مد میں کچھ رقم لے کر ظالم کو معاف کر دے۔ پچھلی ایک دہائی میں اے پی کی تحقیقات کے مطابق ہزاروں ایسے واقعات سامنے آئے  اور ا س سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں واقعات ایسے تھے جن کی تفاصیل حاصل نہ کی جا سکیں کیونکہ ملک بھر میں مدار س میں طلبا کی تعداد 2 ملین کے قریب ہے۔ یہ تحقیقات صرف ان واقعات تک محدود تھی جن کی پولیس میں رپورٹ ہوئی ۔ مظلوم بچوں اور ان کے والدین سے انٹرویو لیے گئے  اور سابقہ اور موجودہ وزرا، معاون گروپوں اور مذہبی طبقہ کے پیش روں کی بھی  کہانی سنی گئی۔ ان واقعات میں ملاوں  اور مذہبی تنظیموں کا ڈر ہر بار ایک اہم فیکٹر رہا۔ ایک مذہبی امور کی وزارت سے منسلک سینئر اہلکار جس کا کام ان کیسز کو رجسٹر کرنا تھا کے مطابق  مدرسوں میں زیادتی کے واقعات  بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تا کہ اسے سزا نہ بھگتنا پڑے۔ اپنے سخت موقف کی وجہ سے اسے کئی بار خود کش حملوں میں شکار بنانے کی کوشش کی گئی۔ وہ مدرسوں کا موازہ کیتھولک چرچ کے پریسٹ کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: مدرسوں میں جنسی زیادتی اور تشدد کے ہزاروں واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ چیز مدرسوں میں ایک عام بات بن چکی ہے۔ جب مدرسہ سسٹم پر بات کی جاتی ہے تو ملا  طبقہ متحد ہو کر انتظامیہ کو دھمکانے لگتا ہے اور کچھ لوگوں کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دے کر قتل کروانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ وہ ملاوں اور ان کی حرکات سے سخت خوفزدہ ہیں۔ ان لوگوں کو ننگا کرنے کا رسک لینا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک سابقہ وزارت سے متعلقہ اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ واقعات روزانہ ہوتے ہیں۔ ا س اہلکار کی بھی شرط تھی کہ ا س کا نام سامنے نہ لایا جائے کیونکہ وہ بھی خوش کش حملوں سے بال بال بچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ موضوع ہی بہت خطرناک ہے۔ پچھلے دس سال میں مولویوں کے ہاتھوں زیادتی کے کل 359 واقعات رپورٹ کیے گئے۔ لیکن  مونیزا بانو کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مینزا بانو 'ساحل' تنظیم  کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جو اخبارات چھان کر زیادتی کے واقعات کو سامنے لاتی اور ان پر عوام کی مدد کی آفر کرتی ہے۔ 2004 میں ایک پاکستانی آفیشل نے مدرسوں میں 500 سے زیادہ واقعات  کی شکایات کار از فاش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی اپنی زبان نہیں کھولی   اور اب تک ان میں کسی کیس پر کاروائی اور سزا کی نوبت نہیں آئی۔

وزیر مذہبی امور  سردار محمد یوسف   مدرسوں میں واقعات کی خبروں کو مذہب  اور علما کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اخبار میں شائع ہونے والے واقعات کا بھی علم نہیں ہے  لیکن کبھی کھبار ایسے واقعات پیش آئے ہوں یہ ممکن ہے کیونکہ مجرم ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ یوسف کے مطابق مدرسوں کے بارے میں اصلاحات اور مدارس کا کنٹرول وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ وزارت داخلہ جو مدارس پر نگاہ رکھنے کی ذمہ دار ہے  نے ٹیلیفون پر اور تحریری درخواستوں کے باوجود اس معاملے میں انٹرویو دینے سے معذرت کر لی۔ پروین کے بیٹے کا کیس کہروڑ پکا کے علاقے میں ایک ماہ میں تیسرا واقعہ تھا۔ اس واقعہ کے علاوہ ڈرگنگ اور گینگ ریپ کا واقعہ بھی اس علاقے میں پیش آ چکا تھا جس میں 12 سالہ لڑکے کو سوتے میں نشہ آور اشیا کھلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تیسرا واقعہ ایک 10 سالہ بچے کا تھا جسے مدرسیہ کے پرنسپل نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مولوی نے بچے کو دھمکایا کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ اسے قتل کر دے گا۔ اے پی نے بچوں کا نام ذکر نہ کرنا مناسب سمجھا کیونکہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جب پروین کا بیٹا عدالت کے باہر اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا تو مولویوں کا خوف اس کے چہرے پر نمایاں تھا۔ سپاہ صحابہ تنظیم کے درجنوں مولوی اس مجرم کا ساتھ دینے کے لیے وہاں موجود تھے۔ جب اے پی رپورٹر مجرم کے پاس بیٹھا تو ان مولویوں نے شور و غوغا شروع کر دیا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہاں حالات بہت خطرناک ہیں۔ جلدی سے یہاں سے نکل جاو۔ یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا تھا  اور پولیس رپورٹ میں بھی ثابت ہو چکا تھا کہ وہ لڑکے پر جنسی حملہ کا مجرم ہے۔ لیکن پھر بھی اس نے عدالت میں قسم اٹھا کر اپنی بے گناہی کا اعلان کیا۔ اس کا کہنا تھا: میں شادی شدہ ہوں، میری بیوی خوبصورت ہے میں ایک لڑکے کے ساتھ ایسے تعلقات کیسے بنا سکتا ہوں؟

مدرسوں کا کام کرنے کا طریقہ

پاکستان میں 22 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ مدرسے ہیں۔ ان مدارس میں ملک کے غریب ترین لوگوں کے بچے مفت تعلیم کےلیے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بے شمار چھوٹے چھوٹے غیر اندراج کے مدرسے بھی موجود ہیں۔ یہ مدارس بڑے مدارس سے قران کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکے کھول لیتے ہیں۔ ایسے مدارس پر حکومت کوئی نگرانی نہیں رکھتی ۔ پروین کا بیٹا ایک غیر رجسٹرڈ شدہ مدرسہ میں زیر تعلیم تھا۔ مدرسوں کو امیر تاجر، مذہبی سیاسی جماعتیں اور بیرون ملک سے ڈونرز مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ مدارس میں  شیعہ اور سنی مذاہب کی تعلیم دی جاتی ہے۔

لیکن کیتھولک چرچ کے بر عکس  کوئی ایسی مرکزی اتھارٹی نہیں ہے جو مدرسوں کو کنٹرول میں رکھے۔ کوئی ایسا سرکاری ادارہ بھی نہیں ہے جو مدارس کے خلاف آواز اٹھائے جانے پر چھان بین کرے۔ مفتی محمد نعیم جو جامعہ بنوریا کہ مہتمم ہیں نے بتایا کہ بنیادی ذمہ داری مدرسہ کے مہتمم پر ہوتی ہے۔ مفتی نعیم کے مطابق ملک میں 2000 سے 3000 کے قریب غیر رجسٹر ڈ  مدار س ہیں  جس کی وجہ سے کوئی ایک ادارہ ان تمام اداروں پر نظر رکھنے میں ناکام ہے۔ حکومت نے ملک بھر کے مدارس کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ہیومن رائٹ پاکستان کے رہنما آئی اے رحمان کے مطابق مدرسہ کے مالکان بھی حکومتی نگرانی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے مدارس میں زیادتی کے واقعات پر کوئی کاروائی اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مدارس کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے۔ چونکہ ملک میں مذہبی طبقہ بہت مضبوط ہو رہا ہے اس لیے  ہر مدرسہ کے مولوی دن بدن مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔کمیشن کے وکیل سیف الملوک کے مطابق  مذہبی طبقہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے مدرسوں میں زیادتی کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں اورکوئی ان کو سامنے لانے کی ہمت نہیں کر پار رہا۔ ملوک کو مدارس کی طرف سے قتل کی دھمکیاں ملی ہیں کیونکہ انہوں نے توہین مذہب کی ملزم  عیسائی خاتون کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی اس لیے انہیں پولیس پروٹیکشن  کی سہولت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج ہر کوئی ان مولویوں سے خوفزدہ ہے۔

پولیس کی مولویوں کے ساتھ ملی بھگت

مولویوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کے معاملے میں سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ انصاف ملنا تقریبا ناممکن ہے۔ اعظم حسین کے مطابق چونکہ مولوی پولیس کو رشوت دے کر خاموش کر دیتے ہیں اس لیے ان کے خلاف مقدمہ درج کروانا بھی ایک مشکل کام ہے۔ اور عام طور پر مولوی غریب طبقہ کے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ حسین کہتےہیں کہ غریب لوگ خوف کی وجہ سے آواز نہیں اٹھا پاتے۔ پولیس مولویوں کی مدد کرتی ہے اور غریبوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ غریبوں کو معلوم ہوتا ہے کہ پولیس ان کی بات نہیں سنے گی اس لیے وہ پولیس کے پاس جانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ پنجاب میں یہ ایک حقیقت ہے ۔ پنجاب کے اپنے صوبائی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق  2014 میں پنجاب پولیس ہی سب سے کرپٹ ادارہ تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعہ کی تفتیش کرتے ہیں لیکن جب خاندان والے خود ملزم کو معاف کر دیتے ہیں تو پولیس کے پاس کاروائی کا اختیار نہیں رہتا۔ پنجاب کے ایک لڑکے جسے بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا نے اپنی پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ کا واقعہ شئیر کیا۔  بچے کو اپنی عمر کا بھی اندازہ نہیں ہے۔ شاید وہ 10 یا 11 سال کا تھا۔ اس کی آواز بہت دھیمیم تھی اور سر نیچے جھکا ہوا تھا۔ اس کے آس پاس ایک درجن کے قریب غصے سے بھرے گاوں کے مرد موجود تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ مولوی نے اسے دھمکایا کہ اگر اس نے کسی کو کچھ بتایا تو وہ اسے جان سے مار دیگا۔ اس نے بتایا: مجھے شرم آتی تھی اور میں خوف زدہ بھی تھا۔ قاری صاحب نے کہا تھا  کہ اگر تم نے کسی کو کچھ بتایا تو میں تمہاری پوری فیملی کو قتل کروا دوں گا۔ اس نے بتایا کہ وہ منتیں کرتا رہا ۔ ایک بار قاری نے قران پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا لیکن پھر بھی کرتا رہا۔ اگست میں جب بچہ گھر آیا تو اسے واپس مدرسہ جانے کا خیال ہی تباہ کن لگنے لگا۔ اس نے بڑے بھائی کو منتیں کیں کہ اسے واپس نہ بھیجے۔ لیکن بھائی نے اسے مارا اور زبردستی واپس بھیج دیا۔

بچے کا بھائی  جس کا نام مقصود تھا بہت بے چین تھا۔ان کے عمررسیدہ چچا اپنی نظریں جھکائے آنسو روکنے کی کوشش میں تھے اور بچے سے آنکھ تک نہیں ملا پا رہے تھے۔  لڑکے نے بتایا کہ اس کے ساتھ طالب علم کو اسی مولوی نے جنسی بربریت کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن پولیس نے پنجاب حکومت کے حکم سے مولوی کو رہا کر دیا ۔ جب گاوں کےلوگوں نے مظاہرہ کیا تو مولوی کو دوبارہ گرفتار کیا گیا  لیکن مسعود کے مطابق جب وہ پولیس سٹیشن گئے تو ان پر شک کیا گیا کہ وہ غلط الزام لگا رہے ہیں۔ مولوی کرسی پر ایک باس کی طرح بیٹھا تھا  اور مجھے کھڑا رہ کر بات کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس نے بتایا کہ پولیس اور مولوی طبقہ خاندان پر پریشر ڈال رہا ہے کہ ہتھیار ڈال دیں اور کیس واپس لے لیں۔

لوکل پولیس  اس بات کی تردید کرتی ہے کہ انہوں نے خاندان پر دباو ڈالنے یا مولوی کی مدد کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ایک اسلامی سکالر کی مدد لی گئی ہے  اور اس مدرسے میں بھی اس سے پہلے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ وہاڑی کے ڈپٹی سپرنٹڈینٹ پولیس کا کہنا تھا کہ ہمیں ثبوت اور گواہ کی ضرورت ہے۔ ملتان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ  پولیس پر حکومت یا مذہبی طبقہ کا کوئی دباو نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی الزام لگے تو واقعہ کی تفتیش کی جاتی ہے۔ اعظم تیموری کے مطابق ان کا ڈیپارٹمنٹ علاقے  میں بچوں سے زیادتی کے واقعات  کی روک تھام کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ جس مدرسہ میں مقصود کا بھائی پڑھتا تھا وہاں 250 سے زیادہ طالب علم ہیں اور وہاں بچوں سے زیادتی کے واقعات اکثر ہوتے ہیں۔ دو خواتین نے گزرتے ہوئے اپنے چہرے چھپائے ایک نوجوان خاتون کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: اس مدرسہ میں بچوں کو مت لانا۔ یہاں بچوں پر ظلم  ہوتا ہے۔ جب مدرسہ پہنچ کر دیکھا تو وہاں طالبان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ بار بار دستک دینے کے بعد ایک نابینا مولوی صاحب ایک طالب علم کے ہمراہ بات کے لیے راضی ہوئے اور کسی بھی جنسی زیادتی کے واقعہ کی تردید کر دی۔

خون بہا

پاکستان میں ظلم کا شکار ہونے والوں کو قانونی اختیار ہے کہ وہ کچھ رقم خون بہا کے طور پر لے کر ظالم کو معاف کر دے۔ اسی طرح کی ایک قانونی شق پچھلے سال غیر ت کے نام پر قتل کے مجرموں کو معاف کرنے کے خلاف پاس کی گئی تھی۔ اب ملک میں غیرت کے نام پر قتل کی سزا لازمی قرار دے دی گئی ہے لیکن جنسی حملوں کے ملزم ملاوں کو ابھی بھی معاف کیا جا سکتا ہے۔ ساحل جو ایک تنظیم ہے جو اخبارات میں سے جنسی حملوں کا پتہ لگاتی ہے کی طرف سے ایسے کیسز میں خاندان کو قانونی مدد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پچھلے سال ساحل کے پاس 56 کیسز آئے جن میں مولوی ملوث تھے۔ کسی بھی خاندان نے ساحل کی مدد نہیں لی۔ اگر کوئی کیس چلے تو بھی اس میں سزا تک معاملہ کبھی کبھار ہی پہنچ پاتا ہے۔ ساوتھ پنجاب میں 2016 میں ایک مولوی کو جنسی زیادتی کے جرم پر 12 سال قید اور ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔ اسی ملا نے ا س سے قبل بہت سے خاندانون کو پیسے دے کر چپ کروا دیا تھا کیونکہ اس کے شدت پسند مذہبی تنظیموں سے تعلقات تھے۔ لیکن ا س بار روشن پاکستان نامی گروپ نے فیملی کو متحرک رہنے پر آمادہ کیا تب جا کر مولوی کو سزا دی جا سکی۔

زیادہ تر واقعات میں مظلوم خاندان کو ہاتھ اٹھا دینے پر مجبور کر دیا جاتا ہے جیسا کہ  اس 9 سالہ بچی کے کیس میں ہوا جسے ایک غیر رجسٹرڈ مدرسہ کے مولونی نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ بچی کے انکل محمد اعظم نے بتایا کہ لڑکی مدرسہ میں قران پڑھنے جاتی تھی لیکن اس روز بچی کو اپنی ٹانگیں پھیلا کر دن بھر کام کرنا پڑا۔ جولائی میں ایک ملا نے ا س کے زبردستی کپڑے اتار کر اس سے زیادتی کر ڈالی۔ لڑکی چلائی تو دو افراد بھاگ کر کمرے میں آئے  اور مولوی کو اس پر زیادتی کرتے دیکھا۔ مولوی فوری طور پر فرار ہو گیا اور مدد کے لیے پہنچے والے شخص نے خون میں لت پت لڑکی کو گھر پہنچایا۔ اعظم کا کہنا ہے کہ ہم اکثر سنتے تھے کہ مدرسہ میں ایسا ہوتا ہے لیکن ہم نے کبھی یقین نہیں کیا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا۔

لیکن خاندان نے معاملہ عدالت سے باہر ہی نمٹانے پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ا س نے نہیں بتایا کہ انہیں کتنے پیسے ملے لیکن محلہ داروں کے مطابق انہیں 80،000 روپے دئیے گئے۔

رانا جمال کے مطابق خاندان نے پیسے لے کر زبان بند رکھنے کا وعدہ کیا۔ان کے مطابق آس پا س کے چھوٹے مدارس میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں۔  ان مدارس میں ایک ہی ملا کا راج ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی کرتا ہے۔ کسی کو ا س کی حرکا ت کے بارے  میں معلوم تک نہیں ہوتا۔

9 سالہ بچے کی ماں نسرین نے قسم اٹھائی کہ وہ کسی خوف کے سامنے نہیں جھکیں گی اور انصاف کا مطالبہ کرتی رہیں گی۔لیکن آس پاس کےلوگوں کا کہنا ہے کہ ملوں نے خاندان کو ڈھونڈ کر زبردستی معافی نامہ پر دستخط کروائے اور مقدمہ واپس لینے پر مجبور کیا۔  بلآخر  ماں کو ملا کو 30000 روپے لے کر ملا کو معاف کر کے مقدمہ واپس لینا پڑا اور مولوی کو رہا کر دیا گیا۔

 Courtesy:https://apnews.com/ddd9660f63ae4433966684823f79d3e9

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *