سول و خاکی کشمکش

tariq ahmed

بنیادی بات یہ ھے۔کوئی چیز بھی الگ نہیں ۔ اور نہ ھی کسی مسئلے، تنازعے ، منظر نامے ، توقع اور خواہش کو الگ الگ لیا جا سکتا ہے ۔ اور انہیں زیر بحث لایا جا سکتا ہے ۔ کوئی بھی ایشو یا منظر نامہ جزیرے میں مقید نہیں ۔ ایک اجتماعی بہاو ھے۔ جس میں سب معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔باھم پیوست ھیں ۔ اور ایک قسم کی تبدیلی دوسری تبدیلیوں کا باعث اور محرک بنتی ھے۔ یہ اب ھمارے وژن کا کمال ھے ھم ان باھم گڈ مڈ ھوتے منظر ناموں اور ابھرتے ھوے نئے امکانات اور تصورات کو کس حد تک اور کتنی گہرائی تک جا کر محسوس کرتے ہیں ۔ اور پھر ان امڈتی تبدیلیوں کی روشنی میں اپنی پالیسیوں کو کونسا رخ دیتے ھیں۔ جس سے قومی مفاد بھی پورا ھو سکے۔ اپنی خود ساختہ خواہشات کا بھرم اور تسلسل قائم رہ سکے اور علاقائی اور بین الاقوامی مطالبات کی خاطرخواہ تسلی بھی ھو جائے ۔
میرے آج کے کالم کا مرکزی خیال انہی تین نقاط کے گرد گھومتا ھے۔ اور یہ کہ وطن عزیز میں گزشتہ ستر سال سے جاری سول و خاکی کشمکش کے تناظر میں ان تین اھداف کی حصولیت کی صورت حال کیسی رھی۔ اور اس کے نتائج کی روشنی میں سول و خاکی کشمکش کا مستقبل کیا ھے ؟
پاکستان کا موجودہ منظر نامہ ایک تکون پر مشتمل ھے۔ اور اس تکون کی تین جہتیں مندرجہ ذیل ھیں ۔
ا۔ بین الاقوامی قوتیں، جیسے امریکہ
2۔ علاقائی قوتیں، جیسے بھارت ، افغانستان، ایران
3۔ ملکی قوتیں، جیسے خاکی اور سول
ان کو ھم دو جہتی کر سکتے ھیں۔
بیرونی قوتیں اور اندرونی قوتیں
اگر ھم ان قوتوں کی ایک زنجیر بنائیں تو ایک دلچسپ تصویر ابھرتی ھے۔ جو کچھ یوں ھے۔
" بیرونی قوتیں بمقابلہ اندرونی خاکی قوت بمقابلہ اندرونی سیاسی قوت یا سول سوسائٹی "
یعنی اس زنجیر کا درمیانی مہرہ خاکی دو مقامات پر بر سر پیکار ھے۔ بیرونی قوتوں یعنی امریکہ ، بھارت ، افغانستان کے ساتھ اور اندرونی قوت یعنی سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ۔ اسے آپ سول حکومت بھی کہہ لیں۔ خاکی بیوروکریسی کا خیال ھے۔ یہ دونوں جدا جدا علاقے ھیں ۔ جن کا آپس میں کوئی تال میل نہیں اور یہ کہ وہ اپنے طور پر ان دونوں علاقوں سے الگ الگ ڈیل کر سکتے ہیں ۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں وہ ایک ھی وقت میں بیرونی قوتوں کے ساتھ حالات کے مطابق معاملہ بھی کر سکتے ہیں اور اندرونی سول سوسائٹی اور سول حکومت پر اپنی برتری بھی قائم رکھ سکتے ہیں ۔ اپنی اس خواہش میں خاکی اسٹیبلشمنٹ کی ایک خاص سائیکی یا مائنڈ سیٹ بن چکا ہے ۔ جس کے تحت وہ سمجھتے ھیں ۔ وہ ایفی شینٹ ھیں۔ متحرک ھیں۔ منظم ھیں۔ ایمان دار ھیں ۔ محب وطن ھیں۔ قربانیاں دیتے ہیں اور مزھبی ھیں۔ جبکہ سیاستدان نااھل ھیں۔ سست ھیں۔ کرپٹ ھیں۔ سیکیورٹی رسک ھیں۔ اور چور ڈاکو ھیں۔ خاکی بیوروکریسی کا خیال ھے۔ جس طرح انہوں نے سول سوسائٹی کو ستر سالوں سے دبا رکھا ھے۔ اسی طرح وہ بیرونی قوتوں کو بھی اپنی وکٹ پر کھلاتے رھیں گے۔ جنرل ایوب، جنرل یحیی، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف اسی ذعم میں مبتلا رھے۔ وہ الگ بات ھے۔ سول سوسائٹی کو دبائے رکھنے کی خواہش میں خاکی اسٹیبلشمنٹ کو ھر بار بیرونی قوتوں کو رعایت دینا پڑی۔ یا ایسے اقدام لینا پڑے ۔ جن کے تباہ کن اثرات وطن عزیز پر مرتب ھوے۔ ھماری تاریخ اس کی گواہ ھے۔
یہ طے ھے۔ اسٹیبلشمنٹ ایک ھی وقت میں دونوں محاذوں پر نہیں لڑ سکتی۔ جبکہ ایک تیسرا محاذ دھشت گردی کی شکل میں بھی کھل چکا ھے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ھے۔ محدود ھونے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ نے سیکیورٹی اور نظریاتی اور سفارتی سرحدوں کے بعد معاشی ، مزھبی ، میڈیا اور کھیل کود کے میدانوں اور علاقوں کو بھی تسخیر کرنا شروع کر دیا ھے ۔ عسکری تجارتی و کمرشل و صنعتی ادارے اس کے علاوہ ھیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا یہ پھیلاؤ عین اس وقت جاری ھے۔ جب بیرون ملک اور اندرون ملک شکوک و شبہات بڑھ رھے ھیں۔ بیرونی قوتیں اعتبار اور اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور اندرون ملک ووٹ کی حرمت، جمہوریت کا تسلسل اور حق حکمرانی کو لے کر ایک نئی بیداری کی لہر اٹھ رھی ھے۔ جس کا مرکز اس بار پنجاب ھے۔ ایک محرک چین ھے۔ جو پاکستان میں سی پیک پر اربوں ڈالر خرچ کر رھا ھے۔ وہ اس خطے میں امن اور معاشی سرگرمیاں چاہتا ھے۔ ایک محرک ھمارے وہ دشمن ھیں۔ جو پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی ابتری چاہتے ھیں۔ ان تمام محرکات اور خطرات کے ھوتے ھوے اسٹیبلشمنٹ کا یہ غیر ضروری و غیر قانونی پھیلاؤ ناقابل قبول ھے۔ اور غیر فطری ھے۔ اور اس کا محدود ھونا اور سول سوسائٹی کا مضبوط ھونا تاریخی عوامل اور زمینی حقائق کی فطری ضرورت ھے۔ خاکی بیوروکریسی کا بہت کچھ ایٹ اسٹیک ھے۔ سول سوسائٹی کے نمائندے یعنی پارلیمان ان اسٹیکس کو تحفظ فراہم کرے۔ خاکی بیوروکریسی سے ڈائیلاگ کرے۔ اور کوئی قابل قبول حل نکالے۔ تاکہ ھم سب کا یہ ملک خوش اسلوبی سے چلتا رھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *