میں لکھتے ھوئے ڈرتا ھوں

tariq ahmed

میں کچھ لکھنا چاہتا ھوں۔ اپنے دل و دماغ کی باتیں شیئر کرنا چاہتا ھوں۔ لیکن میں ڈرتا ھوں ۔ ایک وقت تھا۔ مجھے ڈر نہیں لگتا تھا۔ میں جوان تھا۔ جنرل مشرف کا مارشل لاء نافذ تھا۔ میں بے خوف لکھتا اور جنرل مشرف پر تنقید کرتا۔ سول سوسائٹی اور سویلین بالادستی کے حق میں لکھتا۔ خاکی بیوروکریسی کے افراد سے بحث کرتا۔ تو تکار کرتا۔ مرحوم مجید نظامی صاحب نے میری تیسری کتاب کا فلیپ لکھا۔ تو مجھے کہا۔ پروفیسر صاحب آپ سرکاری ملازم ھیں۔ ھاتھ ھولا رکھیں۔ لیکن میں اب بوڑھا ھونے لگا ھوں۔ ڈرنے لگا ھوں۔ میں لکھنا چاہتا ھوں۔ میں کچھ لکھنا چاہتا ھوں۔ میرا دل پریشان ھے۔ میجر اسحاق کی نوجوان شہادت نے میرا دل بہت دکھی کر دیا ھے۔ میں اس شہادت پر غم ذدہ ھوں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس کی تصویروں نے میری آنکھیں نم کر رکھی ھیں۔ میں اس کی شہادت ، اس کی عظمت ، وطن سے اس کی محبت اور اس کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ھوں ۔ وہ اس دھرتی کا بہادر سپوت تھا۔ اور وہ ان دھشت گردوں کے ھاتھوں مارا گیا۔ جو کبھی ھمارے لیے مجاہدین تھے۔ طالبان تھے۔ جنہیں ھم نے اپنے ھاتھوں پالا پوسا تھا۔ اور یہیں سے میرا خوف شروع ھوتا ھے۔ ھم آج اپنے کڑیل نوجوانوں اور خوبرو افسروں کے خون سے اپنے ماضی کے اس سیاہ باب کو دھو رھے ھیں۔ اگر سیاہ باب نہیں تو پالیسیوں کی کارفرمائی کہہ لیں۔ آخر کہیں پر کسی سے کوئی غلطی تو ھوئ ھے۔ ھماری مائیں اس لیے تو بیٹے نہیں جنتیں کہ وہ اپنے خون سے ان غلطیوں کو دھوتے رھیں۔ اور ھم ان کی شہادت کی عظمت کے گیت گاتے رھیں ۔ ان کی شہادتوں کی گلوریفیکیشن میں اپنی غلطیوں کو چھپاتے رھیں۔ اور یہی لکھتے ھوے میں ڈرتا ھوں ۔ مجھے معلوم ھے۔ اس پر ردعمل آے گا۔ لیکن میں کیا کروں۔ میرا دکھ بھی یہی ھے۔ وطن کے لیے جان قربان کرنا عبادت ھے۔ لیکن غلطیوں سے سیکھتے ہیں ۔ ھم پہلے ایک مسلکی گروہ کو استعمال کرتے رھے۔ آج دوسرے مسلکی گروہ کو استعمال کر رھے ھیں ۔ ابھی پہلے گروہ کے مسئلے سے باھر نہیں نکلے۔ اب دوسرے مسلکی گروہ کو طاقت پہنچا رھے ھیں۔ اپنی طاقت بڑھا رھے ھیں۔ اور مجھے یہ سوچ کر ڈر لگتا ھے۔ اور میں لکھتے ھوے ڈرتا ھوں ۔ آج سے پندرہ بیس سال بعد ھم اس گروھ سے بھی لڑ رھے ھوں گے۔ ایک اور میجر اسحاق اپنے خون سے ھماری آج کی غلطی کو دھو رھا ھو گا۔ اور ھم اس کی عظمت کے گیت گا رھے ھوں گے۔ طاقتور ھونے کا نشہ سب نشوں سے عظیم تر ھے۔ ھم نے پہلے دیو بندیوں کو اس نشے پر لگایا۔ اھل حدیث کو لگایا اب سادے اور معصوم بریلویوں کو اس پر لگا رھے ھیں۔ ھمارے ملک میں ان تمام مسلکی مدرسوں کی تعداد دن بدن بڑھ رھی ھے۔ ان کی عددی اور افرادی قوت میں اضافہ ھو رھا ھے۔ اور ھم ان کے ھاتھوں میں بندوقیں اور ڈنڈے پکڑا کر انہیں طاقتور ھونے کا احساس دلا رھے ھیں۔ اپنا مطلب نکال رھے ھیں ۔ آج ھم سے سابقہ طالبان قابو نہیں آ رھے۔ ھمارے میجر اسحاق شہید ھو رھے ھیں۔ کل کو یہ بھی قابو نہیں آئیں گے۔ طاقت کا نشہ بہت برا ھوتا ھے۔ یہ بیک فائر کرتا ھے۔ آخر ھم کیوں نہیں سیکھتے ۔ مجھے ڈر لگتا ھے۔ یہ تمام طاقتور مسلکی گروہ اگر کل کو آپس میں لڑ پڑے۔ مڈل ایسٹ میں بھی تو یہی ھو رھا ھے۔ میں یہی لکھتے ھوے ڈرتا ہوں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *